• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم لوگوں نے پائیدار قدروں اور پائیدار شخصیتوں کو یاد کرنے کیلئے سال میں ایک دن مخصوص کر رکھا ہے چنانچہ آگے پیچھے ہم ناپائیدار چیزوں کے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں، مثلاً رمضان کا مہینہ ہم نے عبادتوں کیلئے مخصوص کر رکھا ہے، ہم اس مقدس مہینے میں بھی خدا سے ’’آڈا‘‘ لگانے سے باز نہیں آتے ﷲ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ برکت کا مہینہ ہے مگر اس مہینے میں چوہدری برکت اپنے منافع میں چار گنا برکت ڈال دیتا ہے۔ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس مہینے میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے مگر ہم میں سے کئی لوگ اس مبارک مہینہ کی آمد سے پہلے شیطان کو انڈوں پر بٹھا دیتے ہیں۔ پھر ان انڈوں سے نکلنے والے شیطان کے بچے سارا مہینہ اودھم مچاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا ہم ہفتہ دیانت اور ہفتہ خوش اخلاقی بھی منایا کرتے تھے، ہفتہ دیانت میں خوش اخلاقی کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے تھے اور ہفتہ خوش اخلاقی کے دوران دیانت کا داخلہ بند کر دیا جاتا تھا۔ مغرب میں ایک دن یوم والدین منایا جاتا ہے۔ اس روز والدین کو دو ڈالر کا ایک کارڈ بھیج کر باقی عرصے کیلئے انہیں ڈمپ کر دیا جاتا ہے۔ ایک دن یوم ِمحبوبہ کے حوالے سے مخصوص ہے جسے ویلنٹائن ڈے بھی کہا جاتا ہے اور جو اب ہمارے ہاں مغرب سے زیادہ جوش وخروش سے منایا جانے لگا ہے۔ اس روز محبوب کو ’’لارے‘‘ دیئے جاتے ہیں اور اگلے روز کسی نئے محبوب کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ ہم تو پنج وقتہ نماز میں بھی ﷲ جانے کسے چکر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان نمازوں کے دوران اپنے کسی کام کیلئے کسی دنیاوی ’’بڑے‘‘ کی سفارش بھی تلاش کر رہے ہوتے ہیں خواہ وہ بڑا ﷲ کا باغی ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ ہم کہتے ہیں ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی کو مدد کیلئے پکارتے ہیں‘‘ مگر مدد کے لئے انہی کی راہ دیکھتے ہیں جن کی ’’عبادت‘‘ گزشتہ 68برسوں سے ہم پورے خضوع وخشوع کے ساتھ کر رہے ہیں! ہم خدا سے کہتے ہیں ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، ان کا راستہ نہیں جو تیرے مغضوب ہیں‘‘ مگر ہم سلام پھیرتے ہی مغضوبین کے راستے پر کھنچے چلے جاتے ہیں۔ دراصل ہمیں یہی راستے محبوب ہیں چنانچہ ہم نفسانی خواہشات کا احرام باندھے لبیک کا وِرد کرتے ہوئے ان راستوں کے طواف میں لگے رہتے ہیں۔ ہم اپنی منزل مدینہ بتاتے ہیں اور ہر دفعہ کوفے کی طرف جا نکلتے ہیں۔ اقبال نے ہم ایسے لوگوں کی نمازوں اور ’’اماموں‘‘ ہی کیلئے کہا تھا ؎

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرور

ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!

مگر اصل صورتحال یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور ہماری اشرافیہ، عظمت انسان کے علمبردار اور مذہب کی مثبت تشریح پیش کرنے والے اس سب سے بڑے شاعر کی تعلیمات کی وفات روزانہ بڑے اہتمام سے مناتی ہے جبکہ میں زندگی کے تمام شعبوں میں اقبال کے ’’یوم ولادت‘‘ کا منتظر ہوں! اقبال وہ واحد شاعر اور واحد مفکر ہے جو مذہب کو افیون قرار دینے والوں کی تردید انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں مذہب کے فعال پہلوئوں کو نمایاں کرنے کی صورت میں کرتا ہے۔ وہ تو عالم انسانیت کی زبوں حالی پر خدا سے بھی الجھ پڑتا ہے؎

ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل

کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

یہ شاعری صرف آدم اور خدا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے حوالے سے اہم نہیں ہے بلکہ یہ ان کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے جنہوں نے آزادیٔ فکر کا گلا گھونٹنے کیلئے ہماری فکر کی قمیضوں کے کالر اتنے تنگ کر دیے ہیں کہ نئی نسل کے حلق سے ’’صدائے لا الٰہ‘‘بھی نہیں نکلتی! مگر آج مجھے صرف وہ شاعر اور مفکر یاد نہیں آ رہا جس نے اپنے خطبات میں جدید دور کے تمام مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی، جس کی شاعری نے فرنگی ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔اقبال ٹھیک کہتا ہے کہ اغیار کے کاشانوں پر رحمتیں ہی رحمتیں ہیں مگر کیا کیا جائے، ﷲ تعالیٰ نے تو قوموں کی ترقی اور زوال کے اصول سب کیلئے ایک سے رکھے ہوئے ہیں ؎

سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

جو قومیں بھی ان اصولوں پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی امامت کر رہی ہیں ، کبھی یہ اصول ہمیں عزیز تھے، اس وقت ساری دنیا ہماری مقتدی تھی مگر اب اس منزل میں جہاں بہت سے اسٹاپ آتے ہیں۔ وہاں وہ لوگ بھی کٹ مار کر ہماری رہنمائی کرنے لگتے ہیں جن کا کام رہنمائی نہیں عوام کے منتخب رہنمائوں کی پیروی کرنا ہوتا ہے اور ہمارے کچھ اہل قلم ان کی راہ تکتے اور ان کیلئے رستہ صاف کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

یہ سطور لکھنے کے دوران ناروے سے مجھے اپنے شاعر دوست جمشید سرور کا فون آیا، وہ بتا رہے تھے کہ کچھ عرصہ قبل ناروے کے ایک بڑے اخبار میں اقبال پر پورے دو صفحات پر مشتمل ایک مضمون شائع ہوا جس میں اقبال کو دنیا کے بڑے شاعروں میں شمار کرتے ہوئے انہیں بے پناہ خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔ جمشید کا کہنا تھا کہ وہ اخبار اب انہیں مل نہیں رہا، جونہی ملا وہ اس نارویجن زبان میں لکھے گئے مضمون کو اردو میں ترجمہ کر کے مجھے بھیجیں گے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ساری دنیا اقبال کو مانتی ہے مگر جس طرح ہمارے ہاں کا ایک ’’مذہبی طبقہ‘‘ مذہب کی تشریح اپنی جہالت کے حوالے سے کرتا ہے اسی طرح ہمارے لیفٹ کے تیسرے درجے کے دانشور اقبال کو اپنی جہالت کی بنیاد پر اس عظیم انقلابی شاعر کو رجعت پسند قرار دیتے ہیں جبکہ لیفٹ کے حقیقی دانشور انہیں اپنا پیر و مرشد گردانتے، ان پر کتابیں لکھتے اور ان کے فارسی کلام کو اردو میں ڈھالتے نظر آتے ہیں۔

تازہ ترین