• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کامیاب معاشی حکمت عملی کے 3 سال جرات مندانہ فیصلوں کا کمال

انفارمیشن آفیسر /ڈی جی پی آر پنجاب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں محکمہ خزانہ پنجاب کی کارکردگی کے احاطے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس معاشی منظر نامے کو مد نظر رکھیں جس کے سبب موجودہ حکومت کوتین سال تک سخت مالیاتی کنٹرول کی حکمت عملی اختیار کرنی پڑی۔

پنجاب کی باگ ڈور سنبھالی صوبہ 97.4 ارب روپے کا مقروض تھا جن میں 41.3ارب روپے کے اور ڈرافٹس شامل تھے اور56.1ارب روپے مختلف منصوبہ جات پر کام کرنے والے کنٹریکٹرز کی ادائیگیوں کی مد میں واجب الاداء تھے۔ مزید براں جنوبی پنجاب کے اضلاع ایک مدت سے وسائل میں اپنے جائز حق سے محروم کیے جا رہے تھے جس کے سبب صوبے کا ایک بڑا حصہ پسماندگی کا شکار ہو کر مرکز سے متعلق تعصبات میں مبتلا تھا۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے فی کس اخراجات 10266 روپے تھے جو لاہور کے فی کس اخراجات 106961 روپے سے تقریباً دس گنا کم تھے۔

صوبے کی مالی صورتحال تشوش ناک حد تک بحران کا شکار تھی۔ سابقہ حکومت جاتے جاتے سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ کا 102ارب روپیہ بھی خرچ کر گئی تھی جبکہ نئی آئندہ ایک ماہ میں مالی سال کا بجٹ پیش کرنا تھا اس تمام صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری تھا کہ تحریک انصاف سیاسی اعتبار سے غٖیر مقبول فیصلے لیتی۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہنمائی میں پارٹی کی ساکھ کی پرواہ کیے بغیر صوبے کے مالی نظم و ضبط کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا اور غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرتے ہوئے غیر منفعت بخش اور اخراجات کے مقابلے میں کم محاصلات والے ترقیاتی پروگرامز کو ترک کر کے مالی سال2018-19کے لیے وسائل کے مطابق نئی ترجیحات کا تعین کر کے ایک اصلاحی بجٹ پیش کیا جس کے نتیجہ میں 2018-19میں 2017-18کی نسبت 26فیصد زائد بجٹ جاری کیا گیاجبکہ بجٹ کے استعمال میں بھی 25فیصد تک بہتری آئی۔ مالی سال کے اختتام پر حکومت کے ذمے کوئی اور ڈرافٹ نہیں تھا۔ 2019-20میں مالی نظم و ضبط کے اصلاحی ایجنڈہ پر ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم صحت اور علاقائی مساوات پر توجہ مرکوز کی گئی جس نے صوبے میں سابقہ دور حکومت میں تیزی سے رواج پانے والے انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ پیرا ڈائم کو یکسر تبدیل کر دیا۔

وزیرخزانہ کی قیادت میں مستعد معاشی ٹیم نے ٹیکس وصولیوں کے نظام میں انقلابی اقدامات کے ذریعے جن میں ای پے پنجاب کا اجراء بھی شامل ہے صوبے کے ذاتی محصولات میں 44.6فیصد اضافے کو یقینی بنایا جس سے پنجاب کو 24.91ارب روپے کے اضافی وسائل میسر آئے جن سے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ ممکن ہوا۔ترقیاتی بجٹ کا 35فیصد جنوبی پنجاب کے لیے مخصوص کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے بجٹ کے جنوبی پنجاب میں استعمال کو یقینی بنانے کے لیے خطے کے لیے مختص فنڈز کی رنگ فینسنگ کر دی گئی۔ 

اسی دوران دنیا کوکرونا نے آ لیا جو انسانی صحت سے زیادہ معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔پنجاب حکومت نے اس صورتحال کا سامنا بھی کمال حکمت عملی سے کیااور ہنگامی حالات میں فوری سرمایہ کاری کی پالیسی ترتیب دی گئی جسے رائزRISEکا نام دیا گیا۔ سرمایہ کاری کی اس ہنگامی پالیسی کے تحت کرونا سے نمٹنے کے لیے 106ارب روپے کا پیکج مختص کیا گیا جس کے تحت محکمہ صحت اور انصرام قدرتی آفات کو اس اچانک افتاد سے نمٹنے کے لیے اضافی فنڈز مہیا کیے گئے۔ صحت کے ساتھ معیشت کی بحالی کے لیے چھوٹے کاروبار اور عوام کی سہولت کے لیے 56ارب روپے سے زائد کاخصوصی ٹیکس ریلیف پیکج متعارف کروایا جو ان حالات میں جب صوبے کو پہلے سے کہیں زیادہ وسائل درکار تھے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ 

مالی سال 2020-21 بھی کرونا کی تباہ کاریوں سے بحالی کا سال قرار پایا۔ بجٹ میں سوشل سیکٹر میں بہتری کے ساتھ وباء کے پھیلاؤ کے سبب انحطاط کا شکار کاروبار اور روز گار پر سرمایہ کاری کی روش اختیار کی گئی۔ تعلیم اور صحت کے لیے مجموعی طور پر 1318.3 ارب روپے جمع کیا گیا جو صوبے کے کل بجٹ کا 46 فیصد تھے۔ معاشی سرگرمیوں کے انحطاط نے صوبے کے وسائل کو بری طرح سے متاثر کیا تھا اس کے باوجود پنجاب حکومت کی جانب سے 337ارب روپے معقول ترقیاتی پروگرام ترتیب دیا اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے لیے 125ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کیا۔

2019-20میں کوویڈ کے پیش نظرہنگامی سرمایہ کاری کے لیے منجمد کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز بحال کیے گئے۔ ترقیاتی پروگرام میں جاری سکیموں کے لیے مختص فنڈ ز کے 100فیصد اجراء کو یقینی بنایا گیا۔ صوبہ بلوچستان میں صحت کے شعبے کے منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے بطور امداد مختص کیے گئے۔پنجاب میں محکمہ صحت کو کرونا سے نمٹنے کے لیے 13ارب روپے، اسپیشلائز ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن کو 3ارب روپے جب کے مجموعی طور پر وباء کے روک تھام کے لیے سرگرمیوں کے لیے 10ارب روپے کے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے۔

محکمہ خزانہ کی کامیاب مالی حکمت عملی کے سبب 2020-21صوبے کے لیے صحیح معنوں میں بحالی کا سال ثابت ہوا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو مالی سال 2020-21 کے لیے 125 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا کا ہدف دیا گیا تھا جو گیارہ ماہ میں مکمل کر لیا گیا۔ اتھارٹی نے جولائی 2020 سے مئی 2021 تک 28.6 ارب روپے جمع کیے جس کے بعد پی آر اے کے ہدف کو دہراتے ہوئے اتھارٹی کو 141.15 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا جسے اس نے32فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 144.2ارب روپے اکٹھے کر کے پورا کیا۔باوجود اس کے کہ کوویڈ 19 کی روک تھام کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن نے فیلڈ آپریشنز کو متاثرکیا پی آر اے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد کو 95 ہزار سے اوپر لے جانے میں کامیاب رہا۔

ٹیکس سسٹم کی آٹومیشن پی آر اے کی استعداد کار میں اضافے کا سبب بنی۔ 500سے زائد سیلز پوائنٹس پر الیکٹرانک انوائس سسٹم کی تنصیب ٹیکس دہندگان کے لیے منفعت بخش ثابت ہوئی۔کاروبار میں آسانی پیدا ہوئی اور الیکٹرانک انوائس کے اعدادو شمار سے 40ارب سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب ہوئیں۔ گزشتہ تین سال میں محکمہ خزانہ کی کامیابی کی ایک بڑی مثال ای پے پنجاب موبائل و انٹرنیٹ ایپ بھی ہے جس نے ایک طرف ٹیکس دہندگان کو 10سے زائد سرکاری محکموں کے 21سے زائد ٹیکس آن لائن ادا کرنے کی سہولت مہیا کی اور دوسری طرف نظام کی شفافیت سے ٹیکس دہندگان کی تعداد اور اعتماد میں اضافے سے ٹیکس وصولیوں کی شرح میں بہتری آئی۔ 

اب ای پے پنجاب کے ذریعے گاڑیوں کی فٹنس کی اسناد، ای آبیانہ،ای چالان اور ای نیلامی کی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ ای پے کے ذریعے ساڑھے 22ماہ میں 40ارب روپے سے زائد ٹیکس اکٹھا کیا گیا جو اس ایپلی کیشن کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مالی سال 2020-21کی کامیابیاں مالی سال2021-22کے بجٹ میں منعکس ہوئیں اور پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ ترقیاتی پروگرام پیش کیا جو گزشتہ برس کی نسبت 66فیصد زیادہ ہے جبکہ جاری اخراجات پر کنٹرول رکھتے ہوئے ان میں صرف 8.3فیصد اضافہ کیا گیا ہے جن سے سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں میں اضافے کو ممکن بنایا گیا۔ 

دیہاڑی دار طبقہ کی کم سے کم اجرت ساڑھے 17ہزارسے بڑھا کر20ہزار کی گئی۔ چھوٹے کاروباری حضرات اور عام شہریوں کو دی گئی ٹیکس ریلیف کو جاری رکھتے ہوئے مزید دس سے زائد سروس مہیا کرنے والوں رعایتی پیکج میں شامل کیا گیا۔ بجٹ میں دس ارب روپے الگ سے صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے مسائل کے حل کے لیے رکھے گئے جنھیں خود تاجر برادری کی تجاویز کے مطابق منصوبہ جات پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ 560ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں گزشتہ طرز حکومت کے پیداکردہ علاقائی امتیاز کے خاتمے کے لیے 360ارب کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ متعارف کروایا گیا ہے جس کے لیے رواں مالی سال میں 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 

تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافے کے ساتھ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام اور خواندگی میں اضافے کے لیے یکساں نظام تعلیم اور پرائمری سکولوں کی ثانوی سطح اپ گریڈیشن کے منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں جن پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ زراعت میں منفعت بخش کاشتکاری سے لے کہ پیداواری شعبوں کی ترقی کے لیے خصوصی سرمایہ کاری کا آغاز کر دیا گیا ہے لاہور کو کاروباری سرگرمیوں کا ہب بنایا جا رہا ہے جہاں کاروبار کے مواقع میں اضافے کے لیے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور سپیشل ٹیکنالوجی زونز جیسے میگا پروجیکٹس لگائے جا رہے ہیں جو ماضی کی طرح صرف اخراجات کے اعتبار سے میگا پروجیکٹ نہیں ہے بلکہ ان کے محاصلات ان کے میگا ہونے کا ثبوت ہیں۔ 

سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ صرف ہی نہیں صوبائی وسائل کے لیے بھی منفعت بخش ثابت ہو رہا ہے۔ بزنس ڈسٹرکٹ میں ابتدائی نیلامیوں سے اب تک حکومت کو26ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار محکمہ خزانہ بجٹ کی تخصیص اور اس کے اجراء کے ساتھ اس کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کے ساتھ ڈسٹرکٹ گوورننس پلان متعارف کروا رہا ہے جس کے تحت عوام کو نچلی سطح تک سہولیات کی فراہمی کے ساتھ سروس ڈیلیوری میں بہتری کو یقینی بنایا جائے گا۔ پلان کے مطابق نظام کی اصلاح اور بجٹ کے موثر استعمال کے لیے فیڈ بیک براہ راست عوام سے لیا جائے گا۔ انتظامی امور کی خرابیوں کی درستگی کے لیے تمام سرکاری محکموں میں سزا و جزاکی پالیسی عملی طور پر لاگو کروائی جائے گی۔ 

محکموں کے اعلیٰ افسران کے علاوہ وزراء اور ضلعی سطح پر عوامی نمائندگان بھی اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ محکمہ خزانہ پنجاب وزیر خزانہ کی سربراہی میں تمام صوبائی کیش بیلنس کو یکجا کرنے کے لیے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ کے قیام پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ صوبائی قرضوں میں کمی اور سرمایہ کاری اور آمدن میں اضافے کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ اور متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ 

حال ہی میں محکمہ خزانہ نے غیر منقولہ شہری جائیداد پر ٹیکس کے قانون میں ترمیم کے ذریعے مقامی حکومتوں کی سالانہ آمدن میں 3ارب روپے کی اضافی منتقلی کی گنجائش پیدا کی ہے۔ وسائل میں اضافے کے لیے خدمات مہیا کرنے والے اداروں کے لیے جن میں واسا اور پی ایچ اے وغیرہ شامل ہیں سیلف سسٹین ایبل پزنس پلان متعارف کروائے جا رہے ہیں تاکہ صوبائی وسائل پر بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے۔

ان تمام مالی اصلاحات کے تناظر میں پنجاب میں ایک بہتر اور روشن مستقبل کی امید بعید از قیاس نہیں آ نے والا کل صوبے کو ترقی کی نئی منزلوں سے ہم کنار کرے گا۔