• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوویڈ: ٹاپ ڈاکٹروں کی 12 سے 15 سال عمر کے بچوں کیلئے سنگل ویکسین کی سفارش

لندن ( پی اے ) برطانیہ کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں کی طرف سے کوویڈ سے بچائو کے لئے 12 سے15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے سنگل ویکسین کی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے چیف میڈیکل افسران کا کہنا ہے کہ 12 سے 15 سال کی عمر کے صحت مند بچوں کو کوویڈ ویکسین کی ایک خوراک دی جانی چاہیے۔ سی ایم اوز نے کہا کہ اس سے تعلیم میں رکاوٹ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب حکومت کی ویکسین کمیٹی نے کہا کہ صرف صحت کی بنیاد پر اس کی ضمانت دینے کے لیے کافی فائدہ نہیں ہے - لیکن انہوں نے کہا کہ وزرا دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھ سکتے ہیں۔سی ایم اوز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ توازن بتاتا ہے کہ وائرس موسم سرما میں پھیلتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سکول بند ہونے کے امکانات نہیں ہیں تاہم آمنے سامنے تعلیم میں خلل جاری رہے گا کیونکہ مثبت ٹیسٹ والے طلباء اور اساتذہ کو 10 دن کے لیے الگ تھلگ رہنا پڑتا ہے۔ وزراء کو لکھے گئے ایک خط میں ، سی ایم اوز نے خبردار کیا کہ اسکول میں آمنے سامنے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے سے محرومی بچوں پر جسمانی ، جذباتی اور ان کی زندگی کے امکانات کے لحاظ سے بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے۔جائزے میں معاشرے پر وسیع اثرات کی بجائے صرف بچوں کے براہ راست فوائد پر غور کیا گیا۔ اب یہ وزراء پر منحصر ہوگا کہ وہ چار سی ایم اوز کی سفارش کو قبول کریں یا نہیں۔ اگر وزرا پیش کردہ سفارشات پر راضی ہوگئے تو بچوں کو فائزر کی سنگل ویکسین دی جائے گی۔ویکسین سکولوں میں دیے جانے کا امکان ہے اور والدین سے رضامندی ظاہر کرنےکے لیے کہا جائے گا۔ اگر کوئی بچہ اور والدین مخالف خیالات رکھتے ہیں اور بچے کو فیصلہ کرنے کے قابل سمجھا جاتا ہے تو بچے کی رائے حتمی تصور کی جائے گی۔سی ایم اوز نے کہا کہ یہ یقین کے ساتھ اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ ویکسی نیشن سکول کی رکاوٹ کو کس حد تک کم کرے گی - تاہم جائزے کے ایک حصے کے طور پر کی گئی ماڈلنگ میں رائے دی گئی ہےکہ آنے والے مہینوں میں یہ3000سے80000کے درمیان انفیکشن کو روک سکتی ہے۔ ویکسین کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف انفیکشن کو روکنے میں کم مؤثر ہیں جتنی کہ وہ پچھلے ورژن کے خلاف تھیں۔ تخمینہ یہ بھی بتاتا ہے کہ سیکنڈری اسکول کی عمر کے آدھے سے زیادہ بچے پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں اور قدرتی استثنیٰ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب بچے وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہ ویکسی نیشن سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جن کی صحت خراب ہے اور طبی لحاظ سے کمزور لوگوں کے ساتھ رہنے والوں کو پہلے ہی بتا دیا گیا ہے کہ وہ ویکسین حاصل کر سکتے ہیں۔حکومت کی ویکسین کمیٹی ، جے سی وی آئی کا یہ فیصلہ ویکسی نیشن کے بعد دل کی سوزش کے چھوٹے ، لیکن بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں آیا ہے۔16 سے 18 سال کے بچوں کو فی الحال صرف ایک خوراک لینے کو کہا گیا ہے۔بہت سے دوسرے ممالک نے بچوں کو دو خوراکیں دینے کا فیصلہ کیا ہے ، حالانکہ سی ایم اوز کی سفارش پر ناروے میں عمل کیا جا رہا ہےرائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ، لیکن خبردار کیا کہ یہ رکاوٹ ختم کرنے کے لیے چاندی کی گولی نہیں ہوگی۔ کالج نے کہا کہ بغیر علامات کے بچوں کی معمول کی جانچ ختم کی جانی چاہیے۔ اس کے بجائے ، اسکول کے بچوں کو صرف اس صورت میں جانچنا چاہئے جب ان میں کوویڈ کی علامات ہوں۔

یورپ سے سے مزید