• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا طالبان کو مہلت دے، صورتحال پریشان کن، کیا ہوگا کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا، افرا تفری اور بڑے انسانی بحران کا خدشہ، عمران خان

نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان نے بہت کچھ بھگتا،وزیراعظم


اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے انہیں فون نہیں کیا‘جانتاہوں وہ مصروف آدمی ہیں‘امریکا سے فون کال پر منحصر نہیں بلکہ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں ‘پاکستان پر عدم اعتماد کی وجہ زمینی حقائق سے امریکا کی قطعی لاعلمی ہے‘وہ حقانی نیٹ ورک کو نہیں جانتے ۔

نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننے کی وجہ سے پاکستان نے بہت کچھ بھگتا ہے‘ نائن الیون کے وقت اگرمیں وزیراعظم ہوتا تو افغانستان پر حملے کی اجازت نہ دیتا‘ میں دوسروں کی جنگ لڑ کر اپنے ملک کو تباہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد ہی غلط تھی‘ ہم ایک طرح سے ان کے لئے کرائے کے جنگجو رہے ۔

افغانستان اس وقت تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے‘ افغانستان کی صورتحال پریشان کن ہے اور وہاں پر افراتفری اور بڑے انسانی بحران کا خدشہ ہے ‘افغانستان کودہشت گردی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے ، آئندہ افغانستان میں کیاہوگاکوئی پیش گوئی نہیں کرسکتا‘افغانستان کو باہر سے کنٹرول کیا جاسکتاہے نہ کوئی باہر سے آکر افغان خواتین کو حقوق دلا سکتاہے ۔

افغانستان کو کنٹرول کرنے کی بجائے دنیاکو ان کی مددکرنی چاہئے ‘ دنیا افغان طالبان کو انسانی حقوق کے معاملے پر مہلت دے، عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔بدھ کو امریکی نشریاتی ادارےسی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ افغانستان 40 سال بعد امن کی راہ پر چل پڑے۔

اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے‘افغانستان غیر مستحکم ہونے کی صورت میں امکان ہے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے لئے محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے، ہم یہ توقع اور دعا کرتے ہیں کہ 40 سال بعد یہاں امن قائم ہو۔ تاہم اس وقت افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ۔

انہوں نے کہا کہ افغان خواتین طاقتور ہیں اور انہیں وقت دیا جائے، افغان خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں پاکستان نے 50 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان میں حقانی قبیلے کے لوگ بھی تھے، اس قبیلے کے کئی لوگ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں پیدا ہوئے۔

امریکیوں کو حقانی نیٹ ورک کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا ہے، حقانی افغانستان کا پشتون قبیلہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کا اتحادی بننے پر پاکستان کے خلاف کم و بیش 50 عسکریت پسند گروہ حملے کر رہے تھے، اس سب کچھ کے باوجود امریکا نے بھی پاکستان پر 480 ڈرون حملے کئے۔

وزیراعظم نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاک۔افغان سرحد پر ڈرون طیاروں سے سخت نگرانی کی جاتی رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں دوسروں کی جنگ لڑ کر اپنے ملک کو تباہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، بطور وزیراعظم میری ذمہ داری اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔امریکی وزیرخارجہ انتونی بلنکن سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں کچھ پتا ہی نہیں ہے کہ افغانستان میں ہوا کیا ہے، وہ سب سکتے کی حالت میں ہیں‘جب وزیر اعظم سے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے افغان طالبان سے روابط کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں سب سے رابطے رکھتی ہیں، یہی ان کا کام ہے، امریکی سی آئی اے افغان طالبان سے بات کرے گی کیونکہ انہیں بات کرنی پڑے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں تین طرح کی دہشت گردی کا خطرہ ہے، پہلا خطرہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے ہے جو اس سرزمین کو ہم پر حملے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جس میں داعش، بلوچ دہشت گرداور پاکستانی طالبان شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید