• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

ارشادِ ربّانی ہے: ’’اور اپنے عہد کو جب وہ عہد کرلیں، پورا کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃالبقرہ) ایک مقام پر فرمایا گیا:’’اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔‘‘(سورۃالمعارج)’’سُورۃ النحل‘‘ میں انتہائی وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا: اور اللہ کا نام لے کر جب تم باہم عہد کرلو تو اسے پورا کرو، اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو تم نے اپنے اوپر ضامن ٹھہرایا ہے۔ بے شک، جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ جانتا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت یہ فرمایا ہے: ’’بے شک، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘(سُورۂ آلِ عمران)

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اس لیے وہ اپنے پیرو کاروں سے ان کے معمولات زندگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کرتا۔خاص طور پر جب معاملہ حقوق العباد یا اجتماعیت کا ہوتو اس کی اہمیت اور حساسیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اسلام اپنی تعلیمات میں انسانی اعلیٰ اقدار اور قابل قدر صفات کو ترجیح دیتا ہے۔ دراصل اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جس میں ہر قسم کی خوبیاں پائی جاتی ہیں ، یہ وہ صراط مستقیم ہے جو تمام بنی نوع آدم کی نجات اور فوز و فلاح کا ضامن ہے۔ لطافت و طہارت اور پاکیزگی روح صرف اسی الہامی دین میں ہے۔ اسلام چونکہ تمام تر محاسن کا مجموعہ ہے، اسی لیے ربّ کائنات نے اسی دین کو اپنے لیے پسند فرمایا ہے: ارشاد ربانی ہے: ’’ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔‘‘ (سورۂ آلِ عمران )

اسلام کی بے شمار بہترین صفات میں سے ایک صفت ایفائے عہد یا وعدے کی پابندی بھی ہے۔ ایفائے عہد ایک مسلمان کے دیگر فرائض میں سے ایک بڑا فرض ہے۔اگر کوئی انسان ایفائے عہد کی صفت سے خالی ہے تووہ انسانیت کے شرف سے ہی عاری سمجھا جاتا ہے۔ایفاء کے معنی ہیں پوراکرنا،مکمل کرنا،عہدایسے قول اورمعاملے کوکہاجاتاہے جوکہ طے ہویعنی کہ ایفائے عہد’’وعدہ پورا کرنا‘‘اپنے قول کونبھانا، اس پرقائم رہناہے۔وعدہ اورعہدکی پابندی کرناایفائے عہدمیں شامل ہے ۔

ایفائے عہدنہ کرنے سے آدمی کااعتباراُٹھ جاتاہے۔اعتباراور اعتماد کے بغیرخوش گوارمعاشرتی زندگی محال ہے۔آج ہمارے انسانی معاشرے میں جو خرابیاں رواج پا رہی ہیں، ان میں ایک بڑی خرابی جس نے معاشرے کو بے سکونی اور بے اطمینانی کی کیفیت سے دوچار کیا ہوا ہے ،وہ عہد شکنی ہے ۔ لوگ معاہدوں کو اہمیت نہیں دیتے ، وعدہ خلافی عام معمول بن چکا ہے ،تمام باہمی معاملات بالخصوص تجارت میں بدعہدی کی وبا اس قدر پھیل چکی ہے کہ الامان والحفیظ ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں تنازعات اور لڑائی جھگڑے بڑھ رہے ہیں، باہمی میل جول اور محبت و الفت کی جگہ رنجشیں کدورتیں اور عداوتیں جنم لی رہی ہیں ۔

آج کی دنیا میں تجارت و معیشت میں ایفائے عہد، وعدے کی تکمیل اور کمٹمنٹ کو پورا کرنا ایک بنیادی ضرورت اور تجارت و معیشت کے استحکام کی ضمانت ہے۔ کاروباری معاہدوں پر گویا تجارت و معیشت کی کامیابی کا انحصار سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس لحاظ سے انسانیت کی اسلام نے سب سے زیادہ راہ نُمائی کی ہے، اسلام کی تعلیمات اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کا اُسوۂ حسنہ ہمارے لیے لائقِ تقلید نمونہ ہے، آپﷺ کی سیرتِ طیّبہ کا ایک روشن و درخشاں باب دیانت و امانت ہے،آپﷺ نے اسلام سے قبل ایک دیانت دار تاجر کی حیثیت اور ایک اَخلاقی معلّم کی حیثیت سے خُوب شہرت حاصل کی۔ قریشِ مکّہ میں آپﷺ صادق و امین کے طور پر مشہور تھے۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سچا اور امانت دار تاجر انبیاؑء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔‘‘(ابنِ ماجہ/السنن)

تجارت و معیشت کے حوالے سے رسولِ اکرم ﷺ کا اُسوۂ حسنہ اور ایفائے عہد یعنی وعدے کی تکمیل کے حوالے سے اسلامی تعلیمات، اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں مسلمان تاجروں کے تجارتی معاملات اور معاہدات کی بنیاد قرار پائے، اُنہوں نے ایفائے عہد، دیانت و امانت، معاہدوں کی پاس داری اور وعدوں کی تکمیل کی بدولت وہ روشن مثالیں پیش کیں، جس نے دنیا بھر کے غیر مسلم معاشروں کو متاثر کیا، چناںچہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ مسلمان تاجروں کی دیانت و امانت، وعدے کی پاس داری اور سیرت و کردار سے متاثر ہوکر بہت سے غیر مسلم دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، دنیا کے مختلف ایسے ممالک میں جہاں نہ مسلم فاتحین آئے اور نہ تبلیغی مقاصد کارفرما ہوئے، دیکھتے ہی دیکھتے اسلام پھیلتا گیا اور یُوں دیانت و امانت اور وعدے کی تکمیل اسلام اور مسلمانوں کی شناخت بن گئی۔

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: چار (عادات و صفات) جس شخص میں ہوں ،وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان صفات میں سے ایک صفت ہوتو اس میں نفاق اسی کے بقدر ہے، یہاں تک کہ وہ اس (عادت) کو چھوڑ دے ۔جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرےاور جب کوئی جھگڑا وغیرہ ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔(صحیح بخاری)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے ،اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے اور جب کسی سے وعدہ کرے تو اسے پورا نہیں کرتا۔(صحیح بخاری)

نفاق کفر کی ایک قسم ہے اور وعدہ خلافی کو آپﷺ نے نفاق قرار دیا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کس قدر مذموم بات ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے عمل کے ذریعے ایفائےعہد کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی نظیر ملنی دشوار ہے۔ عبد اللہ بن ابی الحمساء ؓسے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے آپ ﷺسے خرید وفروخت کی، آپ ﷺکی کچھ چیز باقی رہ گئی ، میں نے وعدہ کیا کہ میں یہ چیزیں یہاں لے کر آتا ہوں، میں بھول گیا، یہاں تک کہ آج اور آئندہ کل کا دن گزر گیا، تیسرے دن میں حاضر ہوا تو آپﷺ اسی جگہ پر موجود تھے، آپ ﷺنے صرف اس قدر فرمایا : تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا، میں یہاں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (سنن ابو داؤد)

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کی نگاہ میں وعدہ کو پورا کرنے کی کس قدر اہمیت تھی ، دوست ہو یا دشمن، اپنا ہو یا بیگانہ ، اور مسلمان ہو یا غیر مسلم، ہر ایک کے ساتھ عہد کی پابندی ضروری ہے، رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ سے جوں ہی فارغ ہوئے حضرت ابو جندل ؓ لہو لہان اور پاؤں میں بیڑیاں لگی ہوئی تشریف لے آئے، اور مسلمانوں سے عرض کناں ہوئے کہ انہیں مدینہ لے جایا جائے، آپ ﷺنے اہل مکہ کو راضی کرنے کی کوشش کی، صلح کی اس دفعہ کی رو سے جو مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ جانے والوں کو واپس کرنے کے سلسلے میں ہے، حضرت ابوجندل ؓ کو مستثنیٰ رکھا جائے، لیکن اہل مکہ نے نہیں مانا، چنانچہ بالآخر آپﷺ نے انہیں واپس فرمادیا ، اسی طرح جن غیر مسلم قبائل سے آپ ﷺکے معاہدات ہوئے، آپ ﷺنے ان معاہدات کا پورا خیال رکھا، بلکہ بعض دفعہ مخالفین کی عہد شکنی کو برداشت کرتے ہوئے بھی آپ ﷺاپنے عہد پر قائم رہے ۔

افسوس کہ اخلاقی انحطاط اور پستی کی وجہ سے آج معاشرے میں وعدہ خلافی کی نوع بہ نوع صورتیں مروّج ہوگئی ہیں اور لوگوں کے ذہن میں اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ، عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض وغیرہ کے لین دین ہی سے وعدےکا تعلق ہے، حالاںکہ ہم زندگی کے تمام مراحل میں عہد و پیمان سے گزرتے ہیں، معاملات جتنے بھی ہیں، نکاح ، خرید و فروخت ، شرکت اور پارٹنر شپ ، دو طرفہ وعدہ ہی سے عبارت ہے ، اسی لئے معاملات کو عقد کہا جاتا ہے، عقد کے معنی دو طرفہ وعدہ اور معاہدے کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ مواقع پر ایفائے عہد کی طرف متوجہ فرمایا ہے ۔

نکاح کے ذریعے مرد وعورت کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کے اخراجات کی ادائیگی کا عہد کرتا ہے اورعورت جائز باتوں میں شوہر کی فرماں برداری کا وعدہ کرتی ہے ، لہٰذا اگر شوہر بیوی کی حق تلفی کرے یا بیوی شوہر کی حکم عدولی تو نہ صرف حق تلفی اور حکم عدولی کا گناہ ہوگا ، بلکہ وہ وعدہ خلافی کے بھی گناہ گار ہوں گے ، بیچنے والا گاہک سے مال کے صحیح ہونے اور قیمت کے مناسب ہونے کا وعدہ کرتا ہے ، اگر وہ گاہک سے عیب چھپا کر سامان بیچے یا قیمت میں معمول سے زیادہ نفع وصول کرلے اورگاہک کو جتائے کہ اس نے معمولی نفع پر سامان فروخت کیا ہے ، تو یہ عقد تجارت کے ذریعے فریقین ایک دوسرے کے ساتھ جو عہد کرتے ہیں، اس کی خلاف ورزی ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع کرے گا اور سب کے سامنے ہر اس شخص کے لیے ایک جھنڈا گاڑے گا جو بدعہدی کرنے والے ہیں اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی (کا نشان) ہے۔(صحیح مسلم )

حضرت زید بن ارقم ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کر لے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا، مگر نہ کر سکے اور وعدے پر نہ پہنچ سکا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔(سنن ابی داؤد) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص وعدے کی پاس داری نہیں کرتا ،وہ دین داری کے اعتبار سے بہت کمزور ہے ۔(سنن الکبریٰ للبیہقی )

یہ تعلیمات اور روشن مثالیں رسولِ اکرم ﷺ کے مثالی اُسوۂ حسنہ اور اسلامی تعلیمات میں وعدے کے ایفاء کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔