• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل میڈیا پر بے لگام زبان اور مکالموں کا استعمال عام

لاہور (صابر شاہ) ہر دن گزرنے کے ساتھ صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ مواصلاتی اور ذرائع ابلاغ میں جو بے لگام مکالمے اور زبان استعمال کی جاتی ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے ضابطے غیرمؤثر دکھائی دیتے ہیں۔ جعلی یا جھوٹی خبر کی اصطلاح سب سے پہلے 19ویں صدی میں استعمال ہوئی جب صحافیوں نے حریف اخبارات اور رسالوں کوہدف تنقید بنانے کے لئے جعلی خبر کے الفاظ اپنی اصطلاح میں استعمال کئے۔ این بی سی نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر جعلی خبریں جنگل کی آگ کے مترادف ہیں، جو تیزی سے پھیلتی اور سچ سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔ اب ایسی خبروں کا پھیلائو عالمگیر مسئلہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ امریکا میں مذکورہ اصطلاح 2016ء کے صدارتی انتخاب میں مقبول عام ہوئی۔ اس کی تازہ ترین مثال دُنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلنا ہے۔ 80 فیصد صارفین کی رائے میں اس وباء کے حوالے سے خبریں جعلی ہیں۔ جعلی اور جھوٹی خبریں پھیلائے جانے کا تعلق ہے اس میں سوشل میڈیا ہی اصل ذمہ دار ہے۔ گوکہ سوشل میڈیا 2016ء سے خبروں کا کوئی معتبر اور مستند ذریعہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 60 فیصد تک 16 سے 24 سال کی عمر تک کا نوجوان طبقہ کورونا وائرس پر اطلاعات اور معلومات کے لئے سوشل میڈیا سے رجوع کرتا ہے۔ 59 فیصد کو جعلی خبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ امریکا میں 52 فیصد افراد کو باقاعدگی سے جعلی خبریں درپیش ہوتی ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید