• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خواتین صرف ایک کلک پرپولیس کی مدد حاصل کرسکتی ہیں،آئی جی

لاہور (کرائم رپورٹر )انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان نے سنٹرل پولیس آفس میں بیگم گورنر پنجاب پروین سرور کی زیر قیادت ویمن پیس کونسل کے وفد سے دوران ملاقات میں کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جرائم کی روک تھام اور ان مقدمات میں ملوث مجرمان کو سخت سے سخت سزا دلوانا پنجاب پولیس کی اولین ترجیح ہے انہوں نے مزیدکہاکہ پنجاب پولیس کی ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے صوبہ بھر میں خواتین ایمر جنسی صورتحال میں صرف ایک کلک پر پولیس مدد حاصل کرسکتی ہیں جبکہ ساتھ ہی ساتھ صوبے کے تمام اضلاع میں ”اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل“ قائم کئے جاچکے ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ صنفی جرائم کی روک تھام کیلئے پنجاب پولیس، این جی اوز اور سول سوسائٹی کا باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آئی جی پنجاب نے مزید کہاکہ سکولوں، کالجز، یونیورسٹیز اور مدارس میں جنسی جرائم کی روک تھام بارے طلباء کی آگاہی کیلئے خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے ۔ وفد میں کنوینر ویمن پیس کونسل، چئیرپرسن اسٹینڈنگ کمیٹی آن جینڈر مین سٹریمنگ، پنجاب اسمبلی،عظمی کاردار، سید کوثر عباس ، ڈاکٹر مریم کیانی بھی شامل تھیں۔ پیٹرن ان چیف ویمن پیس کونسل بیگم گورنر پنجاب پروین سرور نے دوران ملاقات بتایا کہ پنجاب پولیس کی ویمن سیفٹی ایپ ایک بہترین کاوش ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ خواتین پر تشدد اور زیادتی سے متعلقہ مقدمات کی تفتیش کرنے والے تفتیشی افسران کی کپیسٹی بلڈنگ ہونی چاہئیے ت ۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ انویسٹی گیشن نظام میں جدید فرانزک سائنس پر بطور خاص فوکس کیا جارہا ہے تاکہ مجرمان کو قرار واقعی سزائیں دلوانے میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ صنفی جرائم کی روک تھام میں این جی اوز، فلاحی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے عوامی آگاہی میں بہتری آئے گی جبکہ ساتھ ہی ساتھ جرائم کی روک تھام میں معاونت حاصل ہوگی۔ اس موقع پر پی ایس او ٹو آئی جی صہیب اشرف نے ویمن پیس کونسل وفد کوصوبے کے تمام اضلاع میں قائم اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل کی ورکنگ اور مقاصد بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سیلز میں خواتین پولیس اہلکار وکٹم سپورٹ آفیسر کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں جس سے مشکل یا پریشانی کی شکار خواتین کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔
لاہور سے مزید