• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

‏کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

شہر کی بربادی کے ذمہ دار وہ نہیں جنہوں نے اس شہر کو لوٹا یا وہ جن کی نالائقی اور نااہلی کے سبب شہر اس حال کو پہنچا۔ سانپ کا تو کام ہی ڈسنا ہے اور لٹیروں کا کام ہی لوٹنا ہے۔ اور نالائق اور نااہلوں سے کوئی امید لگانا خود کو دھوکا دینا ہے۔ اس کے ذمہ دار وہ ہیں جو اس لوٹ مار کو ، اس تباہی بربادی کو دیکھتے رہے اور خاموش تماشائی بنے رہے یا اس بربادی کا حصہ بنتے رہے۔ وہ میں بھی ہوں اور تم بھی ہو۔

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

یہ وہ شہر تھا، جس کے پاس بے پایاں زمین تھی۔ ہر آبادی اور محلے میں کھلے میدان، بازار اور گلیاں تھیں۔ ناظم آباد ہو، یا پی ای سی ایچ ایس ہو، ملیر، ڈرگ روڈ، لانڈھی ہو یا کورنگی، ہر علاقے میں شام کے وقت کہیں لڑکے کرکٹ کی پریکٹس کرتے نظر آتے تو کہیں فٹبال یا ہاکی کا میچ ہورہا ہوتاتھا۔ نہ صرف نوجوان صحت مند تفریح میں مشغول نظر آتے بلکہ محلے کے بڑے بوڑھے بھی بطور تماشائی محظوظ ہوتے،پھر کہیں کسی میدان کےایک حصے میں کسی صاحب نے لکڑیوں کا ڈھیر جما کر “ ٹال” کھول لیا۔ 

ان کی دیکھا دیکھی کسی دوسرے نےسیمنٹ کے بلاک کا بھٹہ شروع کردیا۔ کسی نے ایک بڑے سے احاطہ پر قبضہ کرکے بھینسوں کا باڑہ قائم کرلیا ۔ ایسے میںمحلے ہی سے کسی نےیہ نیا کمرشیل سینٹر دیکھ کر گولہ گنڈے یا آلو چھولے کا ٹھیلا لگالیا اور پھر چل سو چل۔ میدان آہستہ آہستہ غائب ہوتےگئے۔ علاقے والے انہیں روکتے تو کیا الٹا خوش ہوتے کہ اتوار بازار اب قریب ہی لگا کرے گا۔ کسی محلے والے میں اتنی حمیت، غیرت اور ہمت نہیں ہوتی کہ ٹال والے، اینٹوں والے، باڑے والے سے پوچھتا کہ بھئی تم کس کی اجازت سے یہاں کام کر رہے ہو۔ نہ متعلقہ محکمے کوآگاہ کرتا۔ اور رہے محکمے تو انہیں ایسے مواقع اللہ دے اور بندہ لے، انہیں کیا غرض کہ ان تجاوزات کو ہٹائیں۔

کچھ عرصہ قبل عدالت عظمی کے حکم پر تجاوزات کے خلاف کاروائی کی گئی۔ لوگوں کی ہمدردی بجا طور پر ان کے ساتھ تھی جن کے چھوٹے موٹے کاروبار ختم کردئیے گئے لیکن کسی نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا جو ان تجاوزات کو روکنے کے ذمہ دار تھے۔

ہم نے کھیل کے ان قدرتی میدانوں کا ذکر کیا جو شہر میں جا بجا موجود تھے ۔ لیکن ان کے علاوہ بھی کئی میدان اور اسٹیڈیم تھے جن کا اب نام و نشان نہیں۔ پورے شہر کی تو خبر نہیں، نہ آج تک پورا شہر دیکھا ہے لیکن وہ میدان جہاں کرکٹ اور ہاکی کے میچز کھیلنے جاتے تھے، راقم بھی ان میدانوں میں جایا کرتا تھا آج وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ نہیں علم کہ بوہرہ جیم خانہ کا میدان کس حال میں ہے۔ ناظم بڑا میدان جہاں کر کٹ میں ٹسٹ میچ جیسا ہجوم ہوتا تھا وہ ہے بھی یا نہیں، گارڈن پر واقع پولیس گراؤنڈ، جی پی او کے بغل میں واقع ریلوے گراؤنڈ، کے جی اے گراؤنڈ، ہندو جیم خانہ، آغا خان جیم خانہ، مسلم جیم خانہ، کے پی آئی وغیرہ کس حال میں ہیں۔

کورنگی پانچ سے کے ایریا تک اور ناظم آباد بڑا میدان سے میٹرک بورڈ اور شہید ملت روڈ کے درمیان میں جو میدان تھے اور ڈرگ کالونی کے وہ میدان جو شارع فیصل سے نظر آتے تھے، وہ کب اور کس طرح غائب ہوئے؟ کیا کہیں اہل محلہ نے کوئی احتجاج کیا یا کسی متبادل جگہ کا مطالبہ کیا ؟ آج سب روتے ہیں کہ ان کے بچوں کو صحت مند تفریح میسر نہیں ۔ وہ یا تو دہشت گرد تنظیموں کے آلہ کار بن گئے یا پان کی دکانوں کے آس پاس گٹکا اور مین پوری چباتے نظر آتے ہیں یا تنگ گلیوں کے بیچ سڑک گھیر کر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کیاگلی میں اینٹیں رکھ کر کھیلنے والے اور گٹکے کھانے والے بھلا بین الاقوامی معیار تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب شہر کے لوگ اکثر دفتر سے گھر جاتے ہوئے شام کے انگریزی اخبار ضرور لیتے جو وہ بسوں میں پڑھتے ہوئے جاتے۔ ان میں نمایاں تصویریں کسی سرکاری یا غیر سرکاری عشائیے،کسی غیر ملکی سفارتخانے یا ، آرٹ گیلری میں تصویروں یا سنگتراشی کی نمائش، پھولوں کی نمائش ، کلاسیکی موسیقی اور رقص کے پروگرام مشاعرے یا کسی ادبی محفل کی تصویر یں وغیرہ ہوتیں۔

یہ سب پروگرام اور تقریبات زیادہ تر فلیٹ کلب ۔ ، آرٹس کونسل، امریکن کلچرل سینیٹر، کیٹرک ہال، ڈینسو ہال، خالق دینا ہال، تھیوسوفیکل سوسائیٹی، غالب لائبریری وغیرہ میں ہوتیں۔ شہر کا ثقافتی کیلینڈر ان سرگرمیوں سے جگمگا رہا ہوتا تھا۔ اب فلیٹ کلب، ٹھیوسوفیکل کلب،کیٹرک ہال وغیرہ کو تو شاید کراچی کی نئی نسل جانتی بھی نہ ہو۔ اب لے دے کے ایسے کلب رہ گئے ہیں جن میں صرف متمول طبقے کے لوگ ہی جاسکتے ہیں اور جن کی ممبرشپ فیس لاکھوں میں ہوتی ہے، کراچی جیم خانہ،وہاں بھلا عام لوگ وغیرہ جھانکنے کی ہمت بھی کیسے کرسکتےہیں۔

شہر کی اصل خوبصورتی انگریزی دور کی گو تھک، راجھستانی اور مغل طرز تعمیر کی وہ عمارتیں تھیں جن سے پرانا شہر آباد تھا، جو جمشید روڈ ، عامل کالونی، پارسی کالونی، سولجر بازار، صدر، بندر روڈ، کوئنز روڈ، کلفٹن، میریویدر ٹاور، کیماڑی تک پھیلا ہوا تھا اور ایک سے ایک خوبصورت عمارت یہاں ہوا کرتی تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ پیسے کی ہوس انہیں کھاتی گئی۔ جو عمارت پرانی ہوتی گئی اس کی مرمت اور تزئین نو کے بجائے اسے ڈھاکر پلازے اور شاپنگ سینٹر بنا دئیے گئے۔ 

اگر شہری حکومت، یا شہر کے باسیوں میں جمالیاتی ذوق ہوتا تو یہ عمارتیں خوبصورت آرٹ گیلریوں، میوزیم ، کلچرل سینٹر، اور سماجی اور ثقافتی تقریبات کے مراکز میں تبدیل کی جاسکتی تھیں۔ جب یہ عمارتیں منہدم کردی گئیں تو شاید متعلقہ اداروں کو ہوش آیا اور چند ایک کو قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ کرنے کی بے تکی سی کوششیں کی گئیں، جو شہریوں کی جان کے لیے مستقل خطرہ ہے اور معمولی سے جھٹکےسے کسی وقت بھی نیچے گر سکتی ہے۔

یہ تھا وہ شہر دل فِگار اں، شہر یاراں کراچی جہاں زندگی ہردم رواں دواں رہتی تھی۔ آج اس شہر کا حال بے حال ہے۔یہاںکچرے کی طرح ادارے ہیں۔ شہر کا کچرا اٹھانے تک کا کوئی ذمہ دار ی نہیں لیتا، دوسرے شہروںتعلق اس شہر سے صرف اتنا ہے کہ یہاں کاروبار چلتا رہے تاکہ ملک کی آمدنی کا جو غالب حصہ یہاں سے ملتا ہے اس میں رکاوٹ نہ آئے اور اس آمدن سے متعلقہ ادارے وہ اپنے اپنے شہروں کو ترقی دیتے رہیں۔ نئی نئی سڑکوں کا جا ل بچھائیں، میٹرو بسیں اور جدید ٹرینین چلائیں، ان کی بلا سے اس شہر کے لوگ سکون کے لیے ترستے ہیں تو ترستے رہیں۔ موجودہ حکومت سے لے کر پچھلی حکومتوں تک سب کا طرز عمل کراچی کے ساتھ اچھا نہیں رہا ۔

اس شہر میں ایک بلدیہ ہے، ایک کے ڈی اے ہے یعنی ادارہ ترقیات کراچی ۔ کراچی صرف ان میں ہی نہیں بٹا ہوا۔ واٹر بورڈ الگ ہے ، بجلی کا محکمہ الگ۔ ائیرپورٹ کے آس پاس کا انتظام وانصرام ایک اور ادارے کے پاس ہے جس میں بلدیہ کراچی کا کوئی داخل نہیں، ملیر کینٹ، ڈرگ کینٹ، کلفٹن اور کورنگی کریک ان سب کے بادشاہ الگ ہیں۔ ان پندرہ بیس اداروں کے بیچ یہ شہر ناپرساں چوں چوں کا مربہ بنا ہوا ہے۔

 ہونا تو یہ چاہئیے کہ اتنے ادارے مل جل کر اس شہر کی تعمیر کرتے، اسے خوبصورت بناتے لیکن ایسا نہ ہوا، البتہ یہ سب مل جل کر اس شہر کی بربادی میں اپنا اپنا حصہ مسلسل ڈال رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں سے اکثریت یہاں کی مستقل رہائش رکھتے ہوئے بھی اسے اپنا گھر نہیں مانتے اور جب مردم شماری ہوتی ہے تو اپنا شمار اپنے آبائی علاقوں میں کرواتے ہیں، ملکی وسائل میں ان کا حصہ وہاں پہنچا دیا جاتا ہے۔یہ شہر سب کا ہے اور سب کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے لیکن کوئی بھی اسے اپنا نہیں سمجھتا۔

بہت سی باتیں شاید اس طرح نہ ہوں، بہت کچھ شاید بہتر بھی ہوگیا ہو ۔ میں تو ماضی کو یاد کر رہا ہوں لیکن آج بھی کبھی کراچی میں آدھا گھنٹہ مسلسل موسلا دھار بارش ہو تو کراچی کا حال دیکھئے گا۔ اس دوران اگر شہر اور شہری سہولتیں آپ کو کہیں نظر آئیں تو مجھے بھی بتائیے گا۔

پس چہ باید کرد ای ساکنان کراچی

ان تمام مسائل کا حل کیا ہے؟۔ ان کا حل ، ہمارے ، پاس ہے اور وہ یہ ہے ، ہم ، سب اپنے احساس کو بیدار کریں۔