• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان نے حکومت کو عبوری کہا، امید ہے کچھ عرصے کیلئے ہوگی، گلبدین

کراچی (ٹی وی رپورٹ)حزب اسلامی کے سربراہ اورسابق وزیر اعظم افغانستان گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ طالبان نے اس حکومت کو عبوری کہا ہے ہم امید کرسکتے ہیں کہ یہ تھوڑے عرصے کے لیے ہی ہوگی اور جلد ہی ایسی حکومت بنے گی جو صحیح معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمان ہوگی اور عالمی معاملات بھی درست کرے گی۔ موجود ہ کابینہ کا طالبان سے پہلے کی کابینہ سے مقابلہ کریں تو واضح ہوجائے گا کہ طالبان کی کابینہ میں شامل لوگ کہیں زیادہ متقی ہیں اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں اے ایک انٹرویو میں کیا۔گلبدین حکمت یار کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت خالصتاً افغانوں پر مشتمل ہے اس کا فیصلہ کابل میں ہوا ہے نہ کہ ماسکو یا واشنگٹن میں پچھلی حکومتیں کٹھ پتلی تھیں۔طالبان کی موجودہ حکومت مشاورت کا نتیجہ نہیں فوری ضرورت کے تحت قائم کی گئی ہے۔بے شک ہمیں امداد کی ضرورت ہے اور عالمی برادری ہی یہ ضرورت پوری کرسکتی ہے اور کوئی بھی ملک صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہی امداد نہیں دیتا امداد ہمیشہ شرائط اور اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے دی جاتی ہے ہمارے پاس وسائل موجود ہیں اگر بہتر انتظام کرلیں تو اپنی ضروریات پوری کرسکتے ہیں موجودہ حکومت کو اجلت سے کام نہیں لینا چاہیے کہ دوسرے ملک اپنے سفارتخانے کھول دیں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو افغانستان سے جنگ لڑتے رہے ہیں ہمیں ان سے امداد نہیں تعاون چاہیے انہوں نے افغانستان کا نقصان کیا ہے جو اُن ملکوں کو پورا کرنا چاہیے اور اگر انہوں نے اپنے سفارتخانے کھولنے ہیں تو ہماری شرائط پر کھولیں اور انہیں یقینی بنانا ہوگا کہ سفاتخانوں کو ہمارے ملک کی جاسوسی کے لیے استعمال نہ کریں۔ امریکہ کا رویہ امتیازی ہے ایک طرف یہودیوں کی حکومت قبول کرتا ہے اور افغان حکومت پر مختلف شرائط لگانا شروع کر دیتا ہے۔جن لوگوں سے ہم افغان حکومت کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں ان کے اصول ہمارے لیے الگ ہیں وہ ہمیں ڈکٹیشن دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت ایسی ہو ویسی ہو۔

دنیا بھر سے سے مزید