• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رواں سال اوزون کی تہہ میں سوراخ کا حجم بڑھ گیا، ماہرین کا انتباہ

کراچی (نیوز ڈیسک) ماہرین نے بتایا ہے کہ سورج کی تیز اور خطرناک سے شعاعوں سے دنیا کو بچانے والی گیس ’’اوزون‘‘ کی تہہ میں ہر سال سوراخ ہو جاتا ہے اور زمین کے جنوبی کرہ میں رواں سال یہ سوراخ عمومی حجم کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہے اور ممکنہ طور پر اس کا حجم براعظم انٹارکٹیکا سے بڑا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اوزون کی یہ تہہ زمین کیلئے ایک ڈھال کا کام کرتی ہے اور سورج کی بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) شعاعوں سے بچاتی ہے۔ اس کی غیر موجودگی کے نتیجے میں زمین سے خطرناک شعاعیں ٹکراتی ہیں جس سے جاندار اور مختلف حیات کو نقصان ہوتا ہے۔ اس تہہ کی موٹائی کیمیائی رد عمل کے نتیجے میں پتلی ہو جاتی یا ختم ہو جاتی ہے اور یہ کیمیائی رد عمل کا موجب انسانی سرگرمیاں اور ماحول دشمن گیسیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اوزون میں ہر سال سوراخ ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ بھر جاتا ہے لیکن رواں سال یہ سوراخ بہت بڑا ہے۔ 2019میں یہ سوراخ اپنی کم ترین سطح پر تھا۔ یورپی یونین کی سائنسی مانیٹرنگ ایجنسی کے مطابق رواں سال سوراخ کا حجم 88لاکھ مربع میل ہے۔ تمام تر حالات کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050ء تک یہ سوراخ بند ہو جائے گا۔

دنیا بھر سے سے مزید