• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلموں کا دَوروہ بھی تھا، جب ساؤنڈ افیکٹس یا آوازوں کے بغیر صرف چہرے کے تاثرات ہی سے ناظرین کو محظوظ کیا جاتا تھا۔ اُس وقت تک ’’بولتی فلموں‘‘ کا آغاز نہیں ہوا تھا، اس لیے اُسے ’’خاموش فلموں کا دَور‘‘ کہا جاتا ہے۔ ذرا تصوّر کیجیے کہ ڈائیلاگز، ساؤنڈز بغیر محض حرکات و سکنات اور اداکاری سےسامعین کو مطمئن کرنا، ایک فن کار کے لیے کس قدر کٹھن ہوتا ہوگا۔ 

ان بے آواز، خاموش فلموں کا آغاز 28دسمبر 1895ء کو فرانس سے ہوا، اُس دَور کی فلموں میں جہاں دیگر فن کاروں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، وہیں ان فلموں کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچانے میں ایک نام، معروف اداکار، چارلی چپلن کا بھی تھا، جو ’’بولتی فلموں‘‘ کے آغاز کے بعد بھی شہرت و مقبولیت میں سرِفہرست رہا۔ اور آج سوا صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اُس کی فلمیں نہ صرف بہت ذوق و شوق سے دیکھی جاتی ہیں، بلکہ اُس کی بے ساختہ، منفرد اداکاری اور حرکات و سکنات روزِ اوّل کی طرح آج بھی ہر عُمر کے لوگوں میں مقبولِ عام ہیں۔ چارلی چپلن کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ اس کے فلمی کیریئر کا دورانیہ مسلسل 75 برسوں پر محیط ہے۔

16اپریل 1889ء میں برطانیہ کے شہر، لندن میں پیدا ہونے والا یہ منفرد فن کار صرف ایک اداکار (کامیڈین) ہی نہیں، ایک کام یاب ہدایت کار، نغمہ نگار، موسیقار، کہانی نویس، کمپوزر اور فلم ساز بھی تھا۔ اس کا اصل نام سرچارلس اسپینسر چپلن (Sir Charles Spencer Chaplin) تھا۔ بنیادی طور پر فن اسے وَرثے میں ملا تھا۔ اس کے والد چارلس اسپینسر چپلن ایک سینئر ایک صداکار، اداکار تھے۔ وہ اپنے وقتوں میں برطانیہ کے میوزک ہالز کے روح رواں ہوا کرتے تھے، جو شہر بھر کو موسیقی اور ڈراموں سے محظوظ کرنے میں پیش پیش رہتے۔ جب کہ اس کی والدہ ہنّاہ اسپینسر کا تعلق بھی اداکاری اور گلوکاری کے شعبوں سے تھا۔ 

وہ اسٹیج کی دنیا میں للی ہارلے کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ اُن کا تعلق معروف اسمتھ خاندان سے تھا، جس کا ذکروہ اکثر فخریہ انداز میں کرتیں۔ 1894ء میں جب چارلی محض پانچ برس کا تھا، ایک روز اس کی والدہ البر شاٹ کے ایک تھیٹر میں ’’دی کینٹین‘‘ نامی ایک ڈرامے میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھیں کہ نشے میں دُھت کچھ اوباش تماش بینوں نے پہلے تو ان پر آوازے کسے بعدازاں اسٹیج پر مختلف اشیاء پھینکنا شروع کردیں اور اسی ہلڑبازی کے دوران کسی وزنی چیز کے لگنے سے ہنّاہ بری طرح زخمی ہوگئیں۔ انتظامیہ نے گمبھیر صورتِ حال دیکھی تو اُنھیں فی الفور اسٹیج سے ہٹاکر پردے کے پیچھےمنتقل کردیا۔ 

پانچ سالہ چارلی یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہا تھا، جب اُسے اطمینان ہوگیا کہ اُس کی ماں پردے کے پیچھے محفوظ ہوگئی ہے، تو اچانک اس کے ذہن میں یہ خیال بجلی کی طرح کوندا کہ کیوں نہ ہال کے بپھرے مجمعے کو قابو کیا جائے اوریہ سوچتے ہی کم سِن چارلی چپلن نے جلدی سے مائیک سنبھالا اور اُس وقت کا مشہور گانا، ’’جیک جونز‘‘ اپنی خُوب صُورت آواز میں گانا شروع کردیا، حاضرین اس معصوم سے بچّے کی دل لبھالینے والی آواز میں کھوگئے، کچھ ہی دیر میں افراتفری کی فضا ختم ہوگئی اور ہال میں سنّاٹا چھاگیا۔

تھیٹر میں اداکاری کے دوران ہنّاہ کو لگنے والی چوٹ بگڑتی چلی گئی۔ ذہنی دبائو اس قدر بڑھا کہ انہیں کول سڈن میں کین ہل کے ذہنی امراض کے اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ جہاں اُن کا کافی عرصے تک علاج جاری رہا۔کچھ عرصے بعد چارلی چپلن جنوبی لندن کے ’’لیم بیتھ ورک ہاؤس‘‘ منتقل ہوگیا، جہاں علاقے کے چند بااثر افراد نے اسے سینٹرل لندن میں بے سہارا لوگوں کے لیے قائم ڈسٹرکٹ اسکول میں داخل کروادیا۔ یہ بنیادی طور پر گلوکاروں کا قائم کردہ گروپ تھا، جو مختلف مقامات پر اپنےفن کا مظاہرہ کرتے رہتے تھے۔ گروپ کا انچارج ایک سترہ سالہ نوجوان جان ولیم جیکسن تھا، جو اپنے والد کے انتقال کے بعد اس گروپ کو بخوبی چلا رہا تھا۔ 

ولیم جیکسن کو چارلی کی فن کارانہ صلاحیتوں کا بہت جلد اندازہ ہوگیا تھا، اس نے چارلی کو بھرپور مواقع فراہم کرنا شروع کردیئے، چارلی نے بھی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایک طرف چارلی چپلن کے فن میں نکھار آتا چلا گیا، تو ساتھ ساتھ شہرت میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ جس کے سبب اس نے 1910ء میں ’’فریڈکارنو‘‘ نامی طائفے کے ساتھ پہلی مرتبہ امریکا کا دورہ کیا، جہاں سے اسے بے پناہ مقبولیت و شہرت بھی حاصل ہوئی۔ امریکا سے شہرت و مقبولیت سمیٹنے کے بعد 1919ء میں اس نے اپنے وقت کے معروف فن کاروں اور تخلیق کاروں ڈی ڈبلیو گرفتھ، میری پک فورڈ اور ڈگلس فیئر بنکس کے ساتھ مل کر ’’یونائیٹڈ آرٹسٹس‘‘ کے نام سے ایک فلم اسٹوڈیو کی بنیاد رکھی۔

ابتدا میں متحرک فلموں میں خود ساختہ اداکاری اور عجیب و غریب حلیہ بنانے میں چارلی کو انتہائی مشکلات کا سامنا رہا، حالاں کہ اس سے پہلے وہ اسٹیج کی دنیا میں اپنا لوہا منواچکا تھا۔ یہاں تک کہ ایک موقع ایسا بھی آیا، جب چارلی نے میک سنیٹ (Mack Sennett) کی خاموش فلم ’’میکنگ اے لِونگ‘‘ کو مکمل کروایا، تو سینیٹ کو لگا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ کرچکا ہے، لیکن اس موقعے پر اس کی دوست، ہدایت کارہ، نورمنڈ نے اُسے قائل کیا اور کہا کہ ’’نہ جانے کیوں مجھے چارلی میں کچھ منفرد نظر آتا ہے، میرے خیال میں ابھی اس نے وہ کچھ نہیں دیا، جو یہ دے سکتا ہے، لیکن مَیں اس سے مطمئن ہوں۔‘‘ اور پھر فروری 1914ء کے اوائل میں بننے والی میک سینیٹ ہی کی مزاحیہ فلم ’’کڈ آٹو ریسز ایٹ وینس‘‘ نے چارلی کے ساتھ میک کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ 

اس فلم میں چارلی کا کردار ایک آوارہ گرد لڑکے، لٹل ٹریمپ کا تھا۔ چارلی کے اس کردار کو اس قدر پذیرائی ملی کہ اس نے کام یابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ بعدازاں، چارلی پر مذکورہ کردار کی ایسی چھاپ لگی کہ اس نے چھوٹی، بڑی درجنوں فلموں میں اس کردار کو زندہ رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’دی ٹریمپ‘‘ خاموش فلموں کی بین الاقوامی پہچان بن گیا۔’’دی ٹریمپ‘‘ کا کردار ایک ایسے آوارہ گرد نوجوان کا تھا، جو بنیادی طور پر ایک بااخلاق، شریف النفس انسان اور پُروقار شخصیت کا مالک تھا۔ کردار کی مناسبت سے اُسے اُس کے سائز سے لمبی پتلون اور ایک ڈربی ٹوپی، سائیڈ سے بڑے بڑے چاکوں والا لمباسا چیسٹر نما کوٹ اور14 نمبر کے لمبے جوتے پہننے کو دئیے گئے۔ 

یہ جوتے اس قدر بڑے اور کُھلے تھے کہ چلتے ہوئے اس کے پاؤں سے اُتر جاتے تھے، جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ دائیں جوتے میں بایاں اور بائیں جوتے میں دایاں پائوں ڈال لیا، تاکہ وہ بار بار اترنہ سکیں، پھر مصنوعی بالوں سے مونچھیں بنائیں اور ایک منحنی سی لکڑی کی چھڑی بغل میں داب لی۔ اور بس، یہی حلیہ ہمیشہ کے لیے اس کی پہچان بن گیا۔ چارلی کے اس کردار میں جہاں فلم کے ہدایت کاروں کی کاوش شامل تھی، وہیں خود چارلی کی اپنی تخلیق کاری کا بھی دخل تھا۔ 

اس کردار کو تماش بینوں نے نہ صرف پسند کیا، بلکہ یہ اپنی انفرادیت کے باعث مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتا چلاگیا۔ بنیادی طور پر چارلی خاموش فلموں کے نام ور فرانسیسی اداکار میکس لینڈر سے بہت متاثر تھا بلکہ یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ چارلی نے میکس لینڈر کو اپنا آئیڈیل بنارکھا تھا اور اسی سے متاثر ہوکر اس نے خاموش فلموں سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔

دنیا میں ترقی و کام رانی کا سفر جاری رہا، نت نئی چیزیں ایجاد ہونے لگیں، تو ریکارڈنگ کے جملہ آلات بھی ایجاد ہوگئے۔ ایسے میں رفتہ رفتہ خاموش فلموں کا دَور اپنے اختتام کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ 1920ء خاموش فلموں کا اختتامی دَور کہلایا، جب کہ 1920ء ہی بولتی فلموں کے آغاز کا سال بھی ٹھہرا۔ یہاں سب سے دل چسپ صورتِ حال اُس وقت پیدا ہوئی، جب 1920ء میں بولتی فلموں کا آغاز ہوا، تو چارلی کو سب سے پہلے جس فلم کی آفر ہوئی، اُس میں بھی اُسے ’’دی ٹریمپ‘‘ کے کردار کی پیش کش کی گئی، جسے اس نے سختی سے رَد کردیا۔ اس کا موقف تھا کہ ’’خاموش فلموں کے ساتھ ہی پرانے کرداروں کو بھی خاموش ہی رہنے دیں۔‘‘ 

بعدازاں،1931ء میں چارلی کو ’’سٹی لائیٹس‘‘ نامی جس فلم کی پیش کش ہوئی، بنیادی طور وہ بھی بغیر مکالموں کے تھی، لیکن فرق یہ تھا کہ چارلی نے اس فلم کو ایک نئے اندازمیں پیش کیا۔ دراصل کچھ فلم سازوں نے چارلی کو اس نکتے پر قائل کرلیا تھا کہ وہ اس فلم کو خاموش فلموں کی رخصتی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جس میں برائے نام مکالمے تھے۔ اس فلم کے شروع سے اختتام تک ’’دی ٹریمپ‘‘ کو خاموش دکھایا گیا۔ تاہم، آخری سین میں ایک طویل سنسان سڑک پر افق کے پار جاتے ہوئے اُس کے لبوں پر ایک گیت ہوتا ہے۔ دراصل یہ خاموش فلموں کی رخصتی اور بولتی فلموں کی شروعات کی علامت کے طور پردکھانا مقصود تھا۔ 

لوگوں کی اکثریت نے اس اچھوتے انداز کو بے حد سراہا۔ 75 سال تک متواتر فلمی دنیا پر راج کرنے والے اس بے تاج بادشاہ کو متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا، جن میں 1929ء میں ’’اکیڈمی اعزازی ایوارڈ‘‘ اور ’’کمانڈر آف دی لیجن آف آنر ایوارڈ‘‘ 1972ء میں ’’اکیڈمی اعزازی ایوارڈ‘‘ اور اسی سال ’’گولڈن لائن ایوارڈ‘‘ اور1975ء میں ’’نائٹ کمانڈر آف دی برٹش ایمپائر‘‘ ایوارڈ قابلِ ذکر ہیں۔ چارلی چپلن کی آخری فلم ’’اے کاؤنٹیس فرام ہانگ کانگ‘‘ تھی، جو دسمبر 1960ء میں تکمیل کو پہنچی۔ 1973ء میں اس کی بیماری شدّت اختیار کر چکی تھی، جس کے باعث وہ رفتہ رفتہ بولنے اور چلنے پھرنے سے معذورہو گیا۔ 

بالآخر 25 دسمبر1977 ء سوئٹزرلینڈ کے شہر، ویوی میں دورانِ نیند موت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور یوں ’’بے آواز فلموں‘‘ کا آغاز اور ’’بولتی فلموں‘‘ کا استقبال کرنے والا دنیا کا یہ منفرد فن کارسات دہائی سے زائد فن کی خدمت کرنے کے بعد، 88برس کی عُمر میں اس دارِفانی سے رخصت ہوگیا۔

سنڈے میگزین سے مزید