• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فضا میں ریڈیائی لہروں اور پانی میں کیمیائی مادوں کی بہتات

بلاشبہ، جدید ٹیکنالوجی اور دریافتوں نے انسانوں کو بیش بہا سہولتیں فراہم کی ہیں، ان سہولتوں کے باعث موجودہ دور میں انسانی زندگی کا معیار جس برق رفتاری سے بدلا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دَور میں غربت اور امارت کا فرق بھی کرۂ ارض کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور پھر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود بڑے پیمانے پر اشیائے ضرورت کی تیاری سے انسانوں کے بڑے طبقات کے ایک خاص حصّے کو آرام و آسائش سے زندگی گزارنے کے اس قدر مواقع بھی اس سے پہلے کبھی نہیں ملے۔ 

تاہم، جب ہم ایجادات و مصنوعات کے نفسیاتی اور طبقاتی اثرات کا جائزہ لیتے ہیں، تو ان کی افادیت سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ان ایجادات و مصنوعات نے انسان کو جو کچھ فراہم کیا ہے، کیا وہ واقعی انسان کے لیے مفید ہے، اور مادّی سہولتوں سے انسان ایسا ماحول پیدا کرنے میں کام یاب ہوا ہے، جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو بدرجۂ اتم بروئے کار لاکر اپنی شخصیت کی صُورت گری کر سکے۔ ایسے میں دنیا بھرکے سائنس دانوں کا یہ انکشاف کسی المیے سے کم نہیں کہ دنیا کا 98فی صد حصّہ آلودہ ہو چکا ہے۔ جہاں صاف پانی اور ہوا میسّر نہیں، ہر طرف وائرسز اور بیکٹیریاپرورش پا رہے ہیں اور ان میں سے جو بے قابو ہو جاتا ہے، وہ کووِڈ 19 کی صورت دنیا کو تباہ و برباد کرسکتا ہے۔

عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے،اسی رفتار سے انسان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فضا میں ریڈیائی لہروں اور پانی میں کیمیائی مادّوں کی بہتات، سمندروں، دریائوں اور کھیتوں کی آلودگی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور نقصان کے باعث کرئہ ارض کا مستقبل کیا ہوگا؟ اگرچہ سائنس دان اپنے طور پر ان خطوط پر کام کررہے ہیں، مگر بہت سنجیدگی سے اس گمبھیر صورتِ حال پر کوئی خاص سوچ بچار نہیں ہورہی۔ تادمِ تحریر دنیا کے چھے ممالک کے بڑے جنگلوں میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، جو یقیناً انسانی زندگی کی تباہی کا پیش خیمہ ہیں۔ دوسری طرف وسطی ایشیا کے ملک، قازقستان میں پانی کی شدید قلّت کے نتیجے میں انسان، حیوانات اور پرندے بڑی تعداد میں ہلاک ہورہے ہیں، جب کہ چین اور بھارت میں تواتر سے آنے والے سیلاب بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر، کراچی کو لاوارث سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ حالاں کہ یہ ہمیشہ سے غریب پرور شہر رہا ہے۔ اس شہر کے سمندر کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ اس کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سمندر کی سطح اسی رفتار سے بڑھتی رہی، تو خدشہ ہے کہ آئندہ 35 سے 45 برسوں کے درمیان کراچی کے ساحلی علاقے ڈوب جائیں گے۔ گرین واچ کے گلوبل کلائمیٹ انڈیکس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پانچوں نمبر پر ،جب کہ اس کا سب سے بڑا شہر کراچی خطرناک شہروں کی فہرست میں اوّل نمبر پر ہے۔ 

مذکورہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 1999ء سے2018 ء کے درمیان موسمی تغیّرات کے باعث پاکستان کو تقریباً دس ہزار انسانی جانوں اور 3.8 ارب ڈالر کے اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ ان خطرات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ تاہم، یہ امَر خوش آئند ہے کہ حکومت ملک بھر میں دس ارب درخت لگانے کی مہم کام یابی سے چلا رہی ہے۔ اس ضمن میں عوام کو بھی چاہیے کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس مہم میں شامل ہوں، کیوں کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ہی ماحول کو انسان دوست بنایا جاسکتا ہے۔

یاد رہےکہ قیامت خیز جوہری اسلحے (نیوکلیئر) کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، کیمیائی فیکٹریز سے نکلنے والے دھوئیں کے مضر اثرات اور اس کے نتیجے میں تیزابی بارشوں کی وجہ سے جہاں درختوں، پودوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، وہیں فضا میں ریڈیائی لہروں اور پانی میں کیمیائی مادّوں کی بہتات کی وجہ سے سمندروں میں آلودگی بڑھ رہی ہے، تو مچھلیوں کی افزائش کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اقوامِ عالم کو بڑے ممالک نے کنزیومرازم کے تحت شاپنگ پر لگا رکھا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق، کراچی میں یومیہ 14ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے،جس میں دیگر اشیاء کے ساتھ زیادہ ترپلاسٹک کے شاپنگ بیگز ہوتے ہیں۔عموماً اس کچرے کا صرف نصف حصّہ ہی ٹھکانے لگایا جاتا ہے، بقیہ گلی محلّوں کےگٹروں میں چلا جاتا ہے،جن سے ابلنے والا گندا پانی مہلک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ دوسری جانب دیکھیں، توکراچی کے جزائر پر شہروں کی تعمیر کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔ جزائر پر شہروں کی تعمیر سے سندھ کے وڈیروں، حکمرانوں کو تو یقیناً حصّہ مل جائے گا، لیکن غریب مچھیروں کی زندگی عذاب بن جائے گی۔ 

صرف یہی نہیں، بلکہ صوبہ خیبرپختون خوا کے شہرایبٹ آباد، سوات اور باجوڑ کی زرعی اراضیوں اور پہاڑوں پر بھی ملک کے با اثر، مال دار طبقے دھڑا دھڑ مکانات تعمیر کررہے ہیں اور ماحولیات کی داعی حکومت اس سے صرفِ نظر کیے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں، ایک عرصے سے صوبہ پنجاب اور کے پی کے کی زرعی اراضی پر رئیل اسٹیٹ مافیا، سوسائٹیز بنا کر ناجائز طور پر مکانات تعمیر کر رہی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل میں آبادی میں اضافے کے ساتھ فوڈ سیکیوریٹی کا مسئلہ بھی پیدا ہوجائے گا۔ خیبرپختون خوا کے علاقے باجوڑ کے حوالے سے تجزیہ نگار، شاہ خالد نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ’’باجوڑ کی زرعی زمینوں پر پکّی عمارتیں تعمیر کیے جانے کی وجہ سے زرعی زمینیں سکڑتی جارہی ہیں۔ دوسری جانب ماحول پر دھنک رنگ کے اثرات مرتّب کرنے کے لیے محکمۂ زراعت کی جانب سے کسانوں کو زیتون کے پودے مفت تقسیم کیے جارہے ہیں۔

ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بیت الخلاء کتنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے کبھی کسی دانش وَر اور سیاست دان کو بات چیت کرتے نہیں سنا۔ البتہ ’’ورلڈ ٹوائلٹ ڈے‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اخبار ات و جرائد میں کچھ مضامین شایع ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی 80فی صد آبادی بیت الخلاء کے بغیر کس طرح زندگی بسر کر رہی ہے، یہ بھی ایک الَم ناک کہانی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں منافع کمانے کی ہوس نے انسانی بنیادی مسائل کو یک سر نظر انداز کردیا ہے۔ 

یہ نظام صرف ایک بڑے طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کررہا ہے۔ اس لیے عام آدمی کی زندگی دشوار تر ہوتی جا رہی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ میں کبھی اس چیز کا ذکر ہی نہیں کیا گیا کہ غیر استعمال شدہ برقی آلات کا کچرا کتنا سود مند یا کتنا نقصان دہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 2019ء میں پیدا شدہ مذکورہ کچرے کے خام مال کی مالیت 57 ارب ڈالر تھی۔ پھر غیر استعمال شدہ برقی آلات کے کچرے کی آلودگی سے بھی دنیا بھر میں نت نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جن میں پھیپھڑوں کی بیماری سرِفہرست ہے۔

’’ای ویسٹ فورم‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’2016ء میں 44.7؍ملین میٹرک ٹن الیکٹرانک کچرا پیدا ہوا۔پھر غیرقانونی تجارت کے ذریعے سیکنڈہینڈ کے نام پر بوسیدہ مصنوعات دوبارہ تیار کرکے اسمگل کی جاتی ہیں، جن سے پیدا ہونے والے اثرات تیسری دنیا میں خطرناک بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چین اور بھارت میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے لاتعداد منصوبے کام کررہے ہیں، جن کی وجہ سے یہ دونوں ممالک فضا میں سب سے زیادہ کاربن پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ اگرچہ حال ہی میں چین نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر پابندی لگائی ہے، لیکن بھارت میں اب بھی بڑے پیمانے پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

بہرحال، دنیا بھر میں آلودگی کی خراب صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے عالمی اور ملکی سطح پر وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ زمین کا درجۂ حرارت بھی شدّت سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اوزون میں پیدا ہونے والے خلا کے حوالے سے عالمی سطح پر غیر سنجیدگی اختیار کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ 2003ء کے بعد سے، جب سے ٹھنڈے ممالک میں درجۂ حرارت میں اضافہ ہونا شروع ہوا، تو سیکڑوں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ روس میں 2010ء میں محض گرمی نے 50؍ہزار افراد کی جان لے لی، لیکن اس پر غور و فکرکے بجائے بڑی طاقتوں کا سارا زور اسلحے کی خرید و فروخت اور تیسری دنیا میں جنگی فروغ سے ہلاکت خیزی کو مہمیز دینے پر ہے۔

کچھ عرصہ قبل امریکی سابق نائب صدر، الگور نے ماحولیاتی آلودگی پر اپنی کتاب A Inconvenient Truth (تکلیف دہ سچائی) میں لکھا تھا کہ ’’امریکا میں 2000ء کے انتخابات میں گلوبل وارمنگ کا مسئلہ انتخابی مہم کا مرکزی خیال تھا اور بش نے اس مسئلے کو بڑی اہمیت بھی دی۔ تاہم، منتخب ہونے کے بعد وہ بھول گئے کہ انہوں نے اس ضمن میں کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔‘‘ صدر الگور اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں میں امریکا کا حصّہ 30؍فی صد سے زائد، جب کہ یورپ اور روس کا بالترتیب 27؍اور 13؍فی صد سے زائد حصّہ ہے۔‘‘ اسی لیے دنیا کی شادابی و ہریالی میں 60فی صدکمی آئی ہے، تو 50؍ممالک میں پینے کے پانی کا قحط ہے۔ اب دنیا پہلے کی طرح نہیں چلائی جاسکتی۔ 

اِدھر کووِڈ19 نے بھی یہ اشارہ دے دیا ہے کہ مستقبل انسانوں، حیوانوں اور پرندوں کے لیے قیامت خیز ہوگا، لیکن دولت اور اقتدار کے لیے انسان کی ہوس بڑھتی ہی جارہی ہے۔ حالاں کہ پانی کی اہمیت پر ازسرِنو سوچنے کی ازحد ضرورت ہے۔ واٹر اکانومی پر دھیان نہ دیا گیا، تو بہت سے ممالک میں قحط انسانوں کے لیے قیامت برپا کردے گا۔ اپنے ملک کی بات کی جائے، تو بدقسمتی سے حکومتی ارکان اور صارف واٹر اکانومی کے حوالے سے بالکل لاعلم اور بے حس ہیں۔ پانی کی خشک سالی کا دوسرے ممالک سے موازنہ کریں، تو پاکستان میں ایک کیوبک پانی 0.13؍کلو گرام زرعی پیداوار فراہم کرتا ہے، جب کہ بھارت میں 0.39؍، چین میں 0.28؍اور امریکا 1.56؍کلو گرام زرعی پیداوار فراہم کرتا ہے۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ’’زمین کو نسبتاً کم ہم وار کرنے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے 60؍فی صد پانی بچایاجاسکتا ہے۔‘‘ جب کہ دوسری طرف جاگیر دار، زمین دار اور وڈیرے اب تک ڈرپ آب پاشی نہیں اپنا رہے ہیں۔ اللہ وہ وقت نہ لائے کہ سائنسی علوم سے نابلد جاگیردار اور زمیں دار پانی پانی کریں اور پانی کہیں نہ ہو۔ لہٰذا زراعت اور پانی کی مینجمنٹ سے وابستہ حکومتی اداروں کو اس مسئلے پر غور کرکے پانی محفوظ کرنے کے حوالے سے سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس حوالے سے اگر اب بھی عالمی سطح پر سنجیدگی اختیار نہیں کی گئی، تو ممکن ہے کہ 21؍ویں صدی دنیا کی آخری صدی کا آغاز ثابت ہو۔ اندازہ کیجیے کہ تمام صنعتی مراکز میں تیزابی دھوئیں، فیکٹریز سے نکلنے والا کیمیائی زہریلا سیال مادّہ، کیڑے مار ادویہ اور ان کا کثرت سے استعمال، دخانی سواریوں اور ہوائی جہازوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ وغیرہ وہ عناصر ہیں، جو زمین کی مٹّی، حیوانات، نباتات، دریا، سمندر اور فضا سب ہی کو آلودہ اور فنا کررہی ہے۔ بڑی بڑی شان دار، یادگار تاریخی عمارتیں بوسیدہ ہورہی ہیں۔

بلاشبہ، زراعت اور صنعت و حرفت ہماری ناگزیر ضرورت اورتوانائی ایک اہم حاجت ہے، بلکہ اس وقت پاکستان کا سب بڑا مسئلہ ہی انرجی ہے۔چوں کہ اس حوالے سے 1994ء میں ایک معاہدہ بھی ہوچکا ہے، تو عالمی تجربات و حوادث اور اقدامات کی روشنی میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ فیکٹریز کے خطرناک سیّال مادّے، گاڑیوں کے دھوئیں کا تدارک کرکے زرعی اراضی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم، عمران خان کے بلین ٹریز کے منصوبے سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے۔ 

ملک بھر میں ڈیمز بنانے کے حوالے سے صرف باتیں ہی ہوتی ہیں، اب ایک درجن ڈیمز کی بات ہورہی ہے اور امید دلائی جارہی ہے کہ تین سال کے عرصے میں تین ڈیمز بنادئیے جائیں گے۔ بہرحال، اگر سنجیدگی اور نیک نیتّی سے کوشش کی جائے، تو دریائے کنہار پرسکی کناری، آزاد پتن، مہمند، داسو اور نیلم ڈیم چند سال میں مکمل ہوسکتے ہیں۔ یوں بھی افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے خطّے کی حالت کافی نازک ہے،تو اس ضمن میں خطّے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کرآگے بڑھنے ہی میں بھلائی ہے۔ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جس رفتار سے آلودگی بڑھ رہی ہے، اگر اس کا فوری تدارک نہ کیا گیا، تو یہ بنی نوع انسان کی خود اپنے ہاتھوں شکست و تباہی ہوگی۔

سنڈے میگزین سے مزید