• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی مردم شماری 18 ماہ میں مکمل ہوگی، فواد چوہدری


وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 18 ماہ میں نئی مردم شماری مکمل ہوگی۔

وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں فواد چوہدری نے کہا کہ ساتویں مردم شماری کی منظوری کے مراحل چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساتویں مردم شماری میں پہلی بار ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، اگلا الیکشن نئی حلقہ بندیوں اور نئی مردم شماری کے تحت ہونا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات کرانی پڑیں گی، اپوزیشن کو بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی سیاست صرف پیسے بچانے کے لیے ہے، آج کہہ دیں کہ جو پیسے اور جائیداد بنائی وہ آپ کی ہوئی، یہ سیاست سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے کیلکولیٹر اور باکس کو اکٹھا کردیا جسے ای وی ایم کہتےہیں، عجیب و غریب موقف ہے ہمارے پاس کوئی اصلاحات نہیں آپ بھی نہ کریں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ادارے ہمارے ہیں، سب کنٹرول ہمارا ہے تو ہمیں اصلاحات کی کیا ضرورت، یہ بونے رہ گئے ہیں، ان کے لیے کرسیاں نیچے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لیڈر بنے پھر رہےہیں میرٹ پر ان کو کوئی کلرک بھرتی نہ کرتا، ہنڈی حوالہ سے باہر گیا پیسہ واپس نہ لائیں تو ان کو کوئی مسئلہ نہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ لوگ ان کے ساتھ اس لیے ہیں کہ ہم سے ناراض ہیں، ورنہ یہ اس قابل نہیں۔

اُن کا کہنا تھاکہ کسان کی گیارہ سو ارب روپے کی اضافی آمدن ہوئی، مستری کی دیہاڑی تین گنا بڑھی، پلمبر کی دگنی ہوگئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نےکہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں حکومت کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے،7ماہ میں صرف ایک پولیو کیس سامنے آیا ہے، کابینہ نے وزارت صحت کو سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک گریڈ 22 تک کے ملازمین کے ہاؤس رینٹ الاؤنس میں 44 فیصد اضافہ کردیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ازبکستان کو بزنس ویزا لسٹ میں شامل کیا جارہا ہے، ہم کراچی سے تاشقند تک براستہ مزار شریف ٹرین چلانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کیسز میں کمی ہورہی ہے، این سی او سی کے ساتھ سینما کھولنے کی بات کررہے ہیں، سینما کو بجلی اور ٹیکسز میں رعایت دے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایرانی، ترکش اور کینیڈین پنجابی فلموں کوسنیما میں چلانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض ویڈیو کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید