• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوان پاکستانی لڑکی کی ایشیا پیسیفک ریجن کی نمائندگی

24 سالہ پاکستانی لڑکی ایمن بابر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 50 ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس میں ایشیا پیسیفک ریجن کی نمائندگی کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

اتنی کم عمری میں ایمن بابر کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایشیا پیسیفک ریجن کی نمائندگی کرنا پاکستان کے لیے بلاشبہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں کسی بھی شعبے میں ترقی حاصل کرنے کے لیے ذہانت کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ایمن بابرنے پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goal)  کے حوالے سے ہونے والے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے سربراہی اجلاس میں خطاب کیا۔

ایمن بابر نے اس اجلاس میں 50 ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں ایشیا پیسیفک ریجن کی نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ پاکستان میں دیہی اور زرعی زمین سے محروم خواتین اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ کام کرتی ہیں، لہٰذا وہ کچھ واضح اور بنیادی مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ’یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ تیزی سے رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ایمرجنسی اقدامات اور 2050ء تک ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلے مادوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیےمقررہ اہداف کو حاصل کرنے میں ابھی تک نیو لبرل ایجنڈا غلط ثابت ہوا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارپوریٹ ورلڈ کے بتائے گئے جن طریقوں پر عمل کیا جا رہا ہے جس میں’گرین‘ فائنانس اور جی ایم اور ہائبرڈ بیج کے ذریعے مونوکلچرل فوڈ پروڈکشن کرنا شامل ہیں، یہ طریقے اس وقت رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کا حل نہیں ہیں۔

ایمن نے اس حوالے سے مزید کہا کہ’یہ صرف حیاتیات کو ختم کر کے فطری علم کو کارپوریٹ ورلڈ کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ ہے اور اس کا ایک مقصد کارپوریٹ ورلڈ کو بڑے پیمانے پر جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل پر قابض ہونے کے مواقع فراہم کرنا ہے  جو کہ جو دیہی برادریوں کی زندگی اور معاش کے لیے اہم ہیں۔‘

انہوں نے دیہی برادریوں کی زندگی اور معاش کو بہتر بنانے کے لیے اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ ’مالیاتی نظام کی بنیادی تبدیلی میں خوراک اور زراعت کے شعبے میں کارپوریٹ ورلڈ کو سرمایہ کاری کرنے سے روکنا چاہیے۔‘

ایمن نے معاشرے میں اعتدال قائم کرنے کے لیے خوراک اور زراعت کے شعبے کو تحفظ فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگلات یا دیگر قدرتی وسائل کارپوریٹ ورلڈ کی ذاتی ملکیت نہیں ہے کہ وہ انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بالکل اسی طرح تمام اہم سرکاری شعبوں میں ڈیجیٹل اور اے آئی ٹیکنالوجی معقول معاش کےحصول کے تناظر میں لوگوں کے حقوق اور خصوصاََ خواتین کے حقوق کو متاثر کر رہی ہے ۔

ایمن نے کہا کہ کثیرالجہتی کے قیام کے اپنے عزم کو پورا کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم معاشرے میں اعتدال پیدا کریں اور خاص طور پر انسانی حقوق کا خیال رکھیں اور یہ صرف تب ممکن ہوگا جب مقابلے بازی کے بجائے باہمی تعاون کے ساتھ مسائل کاحل تلاش کیا جائے گا ۔ 

خاص رپورٹ سے مزید