• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا عرس شروع

سندھ کے عظیم صوفی بزرگ شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تین روزہ عرس شروع ہوگیا ہے، اس موقع پر سندھ بھر میں عام تعطیل رہی۔

عرس کے آخری روز لطیف ایوارڈ کی تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شرکت کریں گے۔

شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت باسعادت 1689ء بمطابق 1101ھ میں مٹیاری ضلع کی تحصیل ہالا کی حویلی میں ہوئی۔ ان کے آباؤ اجداد سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی ابتدائی زندگی خصوصاً تعلیم کے حوالے سے پردۂ خفا میں ہے۔ مختلف مورخین نے آپ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں اپنی اپنی عقیدت کے اعتبار سے ذکر کیا ہے، لیکن حتمی طور پر تاریخ خاموش ہے۔

شاہ صاحب امن و محبت اور انسان دوستی کے سفیر تھے، آپ نے اپنے پیغام کے ذریعے رواداری اور انسان دوستی کا درس دیا۔ وہ ایک درویش تھے، جنہیں قدرت نے شعر کہنے کا سلیقہ عطا کیا۔ آپ نے شاعرانہ حیثیت میں بہ حیثیت صوفی شاعر شہرت حاصل کی۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کو سندھی زبان کے علاوہ عربی، فارسی، سرائیکی، ملتانی، ہندی، بلوچی، پوربی اور پنجابی زبانوں پر عبور حاصل تھا، لیکن شاہ صاحب کا کلام ہمیں صرف سندھی زبان میں ملتا ہے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے 14 صفر 1165 ہجری بمطابق 1752 عیسوی میں وفات پائی، آپ کی وصیت کے مطابق آپؒ کی بھٹ شاہ میں ہی تدفین کی گئی۔

قومی خبریں سے مزید