• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی ٹیبل ٹینس ٹیم ایک بار پھر عالمی مقابلوں میں شرکت سے محروم ہوگئی

پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے اختلافات اور حکومت کی جانب سے این او سی نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان ٹیبل ٹینس ٹیم کے کھلاڑی ایک بار پھر انٹرنیشنل مقابلے میں شر کت سے محروم ہوگئے۔

این او سی جاری نہیں ہونے کی وجہ سے قومی ٹیم رواں ماہ دوحا قطر میں کھیلی جانے والی ایشین ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں حصہ نہیں لے سکے گی۔

پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے نائب صدر عرفان اللّٰہ نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس بی کے تاخیری حربے کی وجہ سے کھلاڑی ایشیائی مقابلے میں شر یک نہیں ہوسکیں گے۔

دوسری طرف پی ایس بی کے ڈی جی کرنل (ر) آصف زمان نے کہا ہے کہ انہوں نے این او سی کے کا غذات مثبت سفارش کے ساتھ مجاز اتھارٹی کو بھیج دیے تھے۔

فیڈریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ہم چین کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اسی کے گیم میں کھلاڑیوں کو شریک نہیں ہونے دیتے۔

حکام کے مطابق ایشین ایونٹ میں انٹری کے لئے منتظمین نے ہماری درخواست پر 24 ستمبر تک کی ڈیڈلائن دی تھی مگر ہمیں این او سی جاری نہیں کیا گیا۔

فیڈریشن حکام کے مطابق پاکستان کے پانچ مرد اور پانچ خواتین کھلاڑیوں کو ایشین چیمپئن شپ میں حصہ لینا تھا، ان میں قومی چیمپئن شاپ خان، رمیز خان، فہد، عاصم قریشی اور بلال یاسین کے علاوہ پرنیا خان (قومی چیمپئن)، حائقہ (کراچی) صنم، ثناء اور عائشہ فہیم شامل تھے۔

شیڈول کے مطابق قومی کھلاڑیوں کو ہفتے کو قطر روانہ ہونا تھا، جہاں 2 دن وہ قرنطینہ کرنے کے بعد پریکٹس کا آغاز کرتے۔

کھلاڑیوں نے حکومت کی جانب سے اجازت نہیں ملنے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اور فیڈریشن کی لڑائی میں کھلاڑیوں کو نقصان کیوں پہنچایا جاتا ہے۔

قومی چیمپئن شاپ خان نے کہا کہ بہت دکھ ہوا، خاتون چیمپئن پرنیا خان نے کہا کہ ایونٹ کے لئے بہت تیاری کی تھی۔

ان کے والد قمر زمان نے کہا کہ حکومت کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں کیا کرے یہ قوم کی شان ہیں۔

سابق انٹرنیشنل ٹیبل ٹینس کھلاڑیوں نے بھی حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ صورت حال کا نوٹس لیں اور ذمے داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

واضح رہے کہ حکومت اور فیڈریشن کی چپقلش کی وجہ سے 2018 میں بھی پاکستانی کھلاڑی سوئیڈن کے عالمی اور انڈونیشا کے ایشیائی مقابلے میں شریک نہیں ہوسکے تھے، جس کی وجہ سے پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن پر عالمی اور ایشیائی فیڈریشنوں نے 9، 9 ہزار ڈالرز جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

2019 میں ہنگری میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں بھی تاخیر سے این او سی ملنے کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کے 2، 2 میچز واک اوور کا شکار ہوگئے تھے۔

دریں اثناء سابق اور موجودہ کھلاڑیوں نے اس بات پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ فیڈریشن کے صدر توقیر مہاجر اور سکریٹری احمر ملک نے انہیں صورت حال کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا، وہ ہمارے فون بھی اٹینڈ نہیں کررہے تھے اور نہ ہی واٹس اپ کا جواب دے رہے تھے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید