• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسٹمز کا چھالیہ اسمگلنگ روکنے کیلئے فیکٹریوں اور گوداموں پر چھاپے مارنے کا فیصلہ

کسٹمز نے چھالیہ کی اسمگلنگ روکنے کے لیے فیکٹریوں اور گوداموں پر چھاپے مارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صنعتی علاقوں میں واقع فیکٹریوں پر چھاپے انٹیلی جنس کی بنیاد پر مارے جائیں گے۔

کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے گذشتہ 3 روز میں ایک فیکٹری اور ایک گودام پر چھاپے میں 7 کروڑ روپے مالیت کی 63 ہزار 300 کلو گرام چھالیہ اور 6 ہزار کلو گرام سویٹ سپاری ضبط کی۔

کسٹمز کے اسسٹنٹ کلکٹر ہیڈ کواٹر شفیع اللّٰہ کے مطابق چھالیہ کی اسمگلنگ پرکشش بزنس بن گیا ہے، اس لئے روز بروز اس کی اسمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کسٹمز نے اسمگلنگ روکنے کے لئے سڑکوں پر کئی کامیاب آپریشن کیے اور گاڑیوں سے بڑے پیمانے پر چھالیہ ضبط کی ہے۔

تاہم اب اس بڑھتی ہو ئی برائی کو روکنے کے لیے حکمت عملی میں تبدیل کرتے ہوئے فیکٹریوں پر چھاپوں کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس کی ڈیمانڈ میں کمی آئے۔

اس حکمت عملی کے تحت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پہلی کارروائی میں سائٹ ایریا کراچی میں واقع فیکٹری پر چھاپہ مار ا گیا۔

جہاں سے چھالیہ کے بھرے ہوئے1920پی پی بیگ برآمد ہوئے، جن میں 48 ہزار کلو گرام چھالیہ تھی۔

اسی فیکٹری سے 200 کارٹن سویٹ سپاری بھی برآمد ہوئی، ان کارٹن سے 6 ہزار کلو گرام سویٹ سپاری برآمد ہوئی۔

چھالیہ اور سویٹ سپاری کی مالیت 5 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

ایک دوسری کارروائی میں سائٹ ایریا میں ایک گودام پر چھاپہ مارکر 15ہزار 300 کلو گرام چھالیہ ضبط کی گئی، جس کی مالیت ایک کروڑ 53 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

دونوں کامیاب کارروائیوں کے بعد ایف آئی آر درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید