• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے، وزیراعظم


وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت کورونا، معیشت اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان اب تک کورونا پر بڑی حد تک قابو پانے میں کامیاب رہا۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن کورونا کے خلاف ہماری منصوبہ بندی کا محور رہے۔

وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیروں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنیوا کنونشن کے خلاف ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ امن کا خواہشمند ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سینئر رہنماؤں کو قید کیا ہوا ہے، سید علی شاہ گیلانی شہید کی نمازجنازہ میں شرکت کے لیے اہل خانہ کو روکا گیا، جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں۔ افغانستان کے معاملے پر امریکا اور یورپی کچھ رہنماؤں نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ 

انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا جیسے رجحان کا ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے، اسلاموفوبیا پر قابو پانے کے لیے عالمی مکالمہ ہونا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے غریب ملکوں کی معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے، بدعنوانی کے باعث امیر اور غریب ملکوں کے درمیان فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا وہی ترقی پذیر ملکوں کی اشرافیہ کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ہماری بقا کو درپیش خطرات میں سے ایک ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں سے ایک ہے، درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

قومی خبریں سے مزید