واشنگٹن (اے ایف پی/واجد علی سید) افغانستان علاقائی سلامتی کے لئے بڑھتا ہوا خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دیئے گئے تحریری بیان میں امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل مارک ملی نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے عجلت میں انخلا سے علاقائی عدم استحکام کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جس میں پاکستان کی سلامتی شامل ہے۔ اس کے علاوہ متشدد انتہا پسند تنظیموں کو دنیا میں تقویت ملے گی۔ انہوں نے حیران کن اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں 20سالہ جنگ ہار گئے، جنگ ان شرائط پر ختم نہیں ہوئی جن پر ہم چاہتے تھے۔انہوں نے کہا اتحادیوں اوران کے پارٹنرز نقصان میں رہیں گے اور افغانستان کو تنہا چھوڑ دینے کا بیانیہ تیزی سے پھیل جائے گا۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے مہینوں قبل امریکی محکمہ دفاع کے جائزے کے مطابق ضروری شرائط کی تکمیل کے بغیر فوجی انخلا سے وہاں پر حاصل کامیابیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ امریکا کی ساکھ متاثر ہوگی یا افغان فوج کے تتر بتر ہوجانے اور افغان حکومت کے گر جانے سے افغانستان پر طالبان کا مکمل قبضہ ہوجائے گا یا وہاں خانہ جنگی ہوجائے گی۔ جنرل مارک ملی نے سینیٹ کو بتایا کہ کابل میں طے شدہ ٹائم لائن تخمینی ٹائم لائن سے مختلف تھی۔ انہوںنے کہا کہ جس رفتار سے افغان حکومت کا زوال ہوا یکے بعد دیگرے صوبائی دارالحکومت ہاتھوں سے نکلتے گئے وہ حیران کن رہا۔ 11؍ دنوں میں افغان حکومت کے زوال کا کوئی اندازہ نہ تھا۔ امریکی انخلا سے قبل ہی وہاں کابل میں حکومت ختم ہوگئی انٹیلی جنس برادری کے انتباہ کے اسٹریٹجک سطح پر روشنی ڈالتے ہوئے جنرل مارک ملی نے کہا کہ گزشتہ فروری تک 419؍ میں سے 78؍ اضلاع پر طالبان کا کنٹرول تھا جون تک یہ تعداد بڑھ کر 100؍ اور وسط جولائی میں 200؍ تک پہنچ گئی اور لڑائی 15؍ اضلاع کے گرد و نواح تک ہونے لگی۔ جولائی کے اواخر تک واضصح ہوگیا کہ سیکورٹی صورتحال تیزی سے بگڑتی جارہی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ انٹیلی جنس اندازے کے مطابق امریکی فوج کے انخلا کے بعد ہفتوں یا مہینوں میں افغان فوج کے بکھر جانے اور افغان حکومت زوال پذیر ہوسکتی ہے۔ جنرل ملی نے اصرار کیا کہ طالبان دہشتگرد تنظیم ہے اور رہے گی۔ اس کے القاعدہ سے بدستور تعلقات ہیں۔ جن سے ہمارا و اسطہ تھا، ان کے باے میں کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ دیکھنا یہ تھا کہ طالبان اپنے اقتدار کو مستحکم کرپائیں گے یا افغانستان خانہ جنگی کا شکارہوجائے گا۔ امریکی فوج کے سربراہ نے کہا القاعدہ اور داعش کے امریکا پر حملے کے عزائم بڑی حد تک حقیقی امکان ہے۔ حکومتی عمل داری سے محروم علاقوں پر آئندہ 12؍ ماہ صورتحال کے ساتھ وہاں پاکستان کے کردار اور طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں انتہا پسندوں کی پناہ گاہوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق سیکریٹری ایسپر نے گزشتہ 9؍ نومبر کو ایک یادداشت میں سفارش کی تھی کہ امریکی فوج اس وقت تک افغانستان میں موجود رہےجب تک مزید کٹوتی کے لئے حالات سازگار نہیں ہوجاتے۔ دو دن بعد 19؍ نومبر کو انہیںایک دستخط شدہ حکم نامہ ملا جس میں 15؍ جنوری 2021ء تک افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی ہدایت کی گئی تھی۔ 17؍ نومبر کو ایک اور حکم نامہ ملا کہ امریکی فوج کی تعداد کو 15؍ جنوری تک ڈھائی ہزار کی طح پر لایا جائے۔ جب صدر جوبائیڈن نے اپنے منصب کا حلف اٹھایا اس وقت افغانستان میں امریکا کے 3500؍ اور ناٹو کے 6300؍ کنٹریکٹرز افغانستان میںموجد تھے جن کا مقصد افغان فوج کو تربیت، مشورہ اور معاونت فراہم کرنا تھا۔ اسٹریٹجک صورتحال جمود کا شکار تھی۔ جنرل ملی نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے عمل کے ذریعہ فروری، مارچ اور اپریل میں ایک سخت انٹر ایجنسی جائزہ لیا اس عمل کے دوران خود جنرل مارک ملی، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل میکنزی اور یو ایس فورس اے کے کمانڈرجنرل ملر نے حکومت کو وسیع تر امکانات سے آگاہ کیا۔ مشن کو درپیش لاگت، خطرات، فائدے اور امریکا کے قومی سلامتی کے مقاصد کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر بائیڈن نے 14؍ اپریل کو امریکی انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا۔ مشن میں تبدیلی کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے تحفظ کے لئے 600؍ سے 700؍ تک نفری رکھنے کا اعلان کیا۔ کابل ایئرپورٹ کے تحفظ کے لئے ترکی کی معاونت کی جائے گی۔