• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1۔ پردے میں وہ چھپ کر آیا

رخ پر سے جب پردے کو ہٹایا

منہ سے تو وہ کچھ نہ بولا

لکھی ہوئی ہر بات کو کھولا

2۔ زمین پر چلنا سدا ہے کام

سر پر پڑے تو وہ بدنام

مٹھی میں وہ لاکھوں آئیں

گن کر ہم کیسے سمجھائیں

منہ ہے چھوٹا بڑی ہے بات

سن لو دنیا کے حالات

لکڑی کی ڈبیہ ہاتھ میں آئے

ڈبیہ کو توڑا کھائی مٹھائی

کان پکڑ کر ناک پہ بیٹھے

ناک چڑھی کہلائے

لوگ اسے آنکھوں پہ بٹھائیں

اپنی شان دکھائے

جس نے بھی وہ ساز بجایا

خود نہ سنا اوروں کو سنایا

8۔ ایک بڈھے کے سر پر آگ

گاتا ہے وہ ایسا راگ

اس کے منہ سے نکلیں ناگ

جو تیزی سے جائیں بھاگ

ایک شے سب کی دیکھی بھالی

رہتا ہے پیٹ اس کا خالی

جو کچھ اس کے منہ میں جائے

کاٹ کر پھینکے ، پرے گرائے

10۔ سر ہے چپٹا، منہ نوکیلا

بگڑے کام سنوارے

جو پکڑے وہ ہاتھ میں لے کر

سر پر چوٹ لگائے

جوابات:

1۔ خط2۔ جوتا 3۔ ریت کے ذرے 4۔ لاؤڈاسپیکر 5۔ بادام 6۔ عینک 7۔ خراٹے 8۔ حقہ 9۔ قینچی 10۔ کیل