• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی پیداوار میں اضافہ، معاشی ترقی کا ضامن

معیشت تین اجزاء کا مجموعہ ہوتی ہے، پیداوار ، پیداوار کی تقسیم اور معیار زندگی۔ اس کا اہم ترین حصہ پیداوار ہے جبکہ باقی دو شعبوں کا عمل شروع ہی اس وقت ہوتا ہے جب پیداوار موجود ہو۔ اگر پیداوار ہو گی تو اس کی تقسیم (منصفانہ یا غیر منصفانہ) بھی ہو گی اور وہ خرچ بھی ہوگی۔ بغیر پیداوار کے نہ تقسیم پیداوار کا سوال پیدا ہوتاہے، نہ شہریوں کے اسے استعمال کرنے کا۔ کسی بھی ملک کی کل پیداوار ہی اس کی آمدن ہوتی ہے۔ 

مجموعی قومی پیداوار کا حساب مینوفیکچرنگ، خدمات اور زراعت کے شعبوں کی مجموعی پیداوار پر کیا جاتا ہے۔ اگر مجموعی پیداوار بڑھ یا کم ہورہی ہے تو اس کا مطلب تمام شعبوں میں اضافہ یا کمی نہیں ہو رہی بلکہ کچھ شعبے بہت زیادہ اضافہ دکھا رہے ہوتے ہیں اور کچھ شعبوں میں کمی دیکھنے میں آ تی ہے۔ دنیا میں آج وہی ملک ترقی یافتہ ہیں جن کی پیداوار حجم میں بہت زیادہ ہے۔ دورِ جدید کی سب سے بڑی قدر بھی پیداوار ہے۔ اس میں اضافے کی ایک وجہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی بھی ہے۔

معاشی، سیاسی اور سماجی ارتقاء میں ذرائع پیداوار(Means of production) کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ ان میں خام مال، سہولیات، مشینری، خدمات اور سامان کی تیاری میں استعمال ہونے والے ٹولز شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے بعد مشینیں ایجاد ہوئیں، جس نے صنعتی عہد کو جنم دیا اور پھر یہ دورِ جدید میں ڈھل گیا۔ معیشت میں ہر وہ عمل اچھا ہے جس سے پیداوار میں اضافہ ہو۔ ایسا اضافہ جو لوگوں کی ضروریات زندگی پوری کرے اور انہیں راحت پہنچائے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ ایک معاشرہ اپنی پیداوار میں اضافہ کیسے کرے کہ نہ صرف اس کی ضروریات پوری ہو ں بلکہ وہ اردگرد کے دوسرے معاشروں کے لیے بھی بہتری کا سامان کر سکے؟ باوجود اس کے کہ ہم اس وقت تیسرے صنعتی انقلاب سے گزر کر چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو رہے ہیں اور ہمارے پاس اعلیٰ درجے کی جدید ترین مشینری ہے، جس نے پیداوار کے عمل کو انتہائی تیز رفتار اور معیار میں شاندار بنا رکھا ہے مگر اس کے باوجود معاشی عمل کا مکمل انحصار تمام معاشی ایجنٹس ( معیشت میں کام کرنے والے تمام افراد) کے معاشی فیصلوں اور معاشی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔

پیداوار میں اضافہ یا معاشی ترقی کا حقیقی سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب تمام افراد میں محنت ، مثبت معاشی فیصلوں اور سرگرمیوں کی تحریک پیدا کی جائے۔ انسان اپنی ہر سرگرمی کو سرانجام دینے سے پہلے یہ ضرور سوچتا ہے کہ اس عمل سے اسے فائدہ ہو گا یا نقصان؟ سڑک پار کرتے ہوئے ہر شخص دائیں بائیں اس لیے دیکھتا ہے کہ کہیں سڑک پار کرتے ہوئے کوئی گاڑی اسے کچل نہ دے۔ 

درحقیقت ذاتی فائدے کی جستجو تمام انسانوں کی فطرت کا لازمی جزو ہے۔ اگر تمام افراد اپنے مفادات کی جستجو کریں تو یقیناً اس کا فائدہ بھی ملک و قوم کو ہی ہو گا۔ تاہم، اگر کسی ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد ٹیکسوں کی صورت میں اکٹھا نہ ہوتواسے زوال پذیر معیشت کا نام دیا جاتا ہے۔

معاشی عمل میں تیز رفتاری اور ترقی اس وقت آتی ہے جب تمام افراد کو اس سے فائدہ حاصل ہو اور تمام افراد اس کا حصہ ہوں۔ فائدے کا حصول مزید فائدے پر اُکساتا ہے اور نقصان سے عمل میں سستی اور جذبوں میں مایوسی آتی ہے۔ اگر ملک تیز رفتار اور مستقل ترقی چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس میں رہنے والے تمام افراد کو معاشی عمل میں شامل کیا جائے۔ 

معیشت میں تمام افراد کے مفادات کو ترجیحی بنیادوں پرشامل کیا جائے اور لوگ معاشی عمل میں تیز رفتاری اور مستقل مزاجی کو اپنا کر اسے مزید بہتر سے بہتر بنائیں ۔ معاشی عمل میں تمام افراد کی شمولیت اور فائدے کے بنیادی محرک کے بغیر معاشی ترقی کا خواب کبھی عملی تعبیر نہیں پا سکتا۔

پیداوار میں اضافہ کے لیے ضروری ہے کہ مقابلے کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ اس میں تمام افراد کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے بہتر نتائج، پیداواری صلاحیت، ذہانت اور دریافت و ایجاد کے منصفانہ انعام کو یقینی بنایا جائے۔ یقیناً محنتی اور باصلاحیت معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں اجارہ داری کو ناممکن بنایا جائے اور تخلیق و دریافت (پیداوار) کو سب سے بڑی طاقت سمجھا جائے۔ ہمارا اصل انعام ہماری اپنی محنت ہے اور اگر کوئی ہم سے زیادہ محنت کرتا ہے اور اس کا زیادہ انعام حاصل کر رہا ہے تو ایسے میں ہمیںاس سے آگے بڑھنے اور خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آج دنیا کی ترقی یافتہ معیشتیں پیداواری صلاحیت اور پیداواری عمل میں سب آگے ہیں۔ امریکا، چین، جاپان اور جرمنی سالانہ ہزاروں ارب ڈالر کی اشیا اور خدمات پیدا کرتے ہیں، اسی لیے ان کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سینٹرل افریقن ریپبلک، ملاوی، برونڈی ، گیمبیا اور نائجر وغیرہ دنیا میں سب سے کم اشیا اور خدمات پیدا کرتے ہیں، اس لیے ان کا ترقی یافتہ ممالک کی درجہ بندی میں مقام سب سے کم ہے۔ 

جتنی زیادہ فی کس پیداوار ہو گی اتنا ہی لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوگا۔ تاہم، ہمیں پیداواری وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اجناس کی پیداوار اور اس کی سائنسی بنیادوں پر تقسیم کا طے شدہ فارمولا ترتیب دینا ہوگا۔

کامرس سے مزید