• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحولیاتی تبدیلی، کرہِ ارض کے وجود کیلئے سے بڑا خطرہ

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی پر تشکیل کردہ نئے اِنٹر-گورنمنٹل پینل (IPCC)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرہِ ارض کا درجہ حرارت ہمارے خدشات سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب عالمی سطح پر ماحولیات سے متعلق انتہائی نوعیت کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ شمال مغربی بحرالکاہل میں شدید گرمی کی لہر سے لے کر سائبیریا کے جنگلات میں لگنے والی آگ اور دنیا کے مختلف ممالک میں آگ لگنے، سیلاب اور سمندری طوفان آنے کے کئی واقعات، یہ سب خطرناک ماحولیاتی تبدیلی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

ہرچندکہ، کووِڈ-19وَبائی مرض کے باعث نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ایسا معلوم ہورہا تھا کہ شاید زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی آئے گی، تاہم یورپ کے ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، 2016ء کی طرح 2020ء بھی تاریخ کا گرم ترین سال رہا۔ اعدادوشمار کے مطابق، 2020ء کے دوران عالمی درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں اوسطاً 1.25سینٹی ڈگری زیادہ رہا، اور اس طرح سال 2020ء نے سال 2016ء کے گرم ترین سال کے ریکارڈ کو برابر کیا۔ صرف یہی نہیں، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی رپورٹ2021ء کے مطابق، دسمبر 2020ء میں زہریلی گیسوں کا اخراج دسمبر 2019ء کے مقابلے میں 2 فی صد زیادہ رہا۔

انتہائی گرمی کی لہریں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے سیلاب ناصرف انسان کے لیے خطرناک ہیں بلکہ وہ جنگلات، سرسبز کھیتوں اور زیرِ سمندر حیاتیات سمیت سارے ماحولیاتی نظام کو بھی تباہ کررہے ہیں۔ اس ماحولیاتی نظام کی تباہی کے نتیجے میں ان معاشروں اور معیشتوں کو مزید نقصان پہنچتا ہے، جن کا ان پر دارومدار ہوتا ہے۔

سائبیریا کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ آگ کی مثال لے لیتے ہیں، جوکہ دنیا کے سرد ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ شدید آگ نے ناصرف 5ہزار 7سو مربع کلومیٹر پر محیط جنگلات کو تباہ کیا بلکہ اس سے 65میگا ٹن سے زائد کاربن کا اخراج ہوا اور ہوا کے خراب معیار کے باعث رہائشی اپنے گھروں کے اندر رہنے پر مجبور ہوئے۔

زیرِ سمندر حیاتیاتی نظام (کورل ریف) اس کی ایک اور مثال ہے۔ کورل ریف ایک تہائی سے زائد سمندری حیات کی کمین گاہ ہیں، تاہم ماحولیاتی تبدیلی کے باعث یہ تیزی سے ختم ہورہی ہیں۔ کورل ریف کی تباہی صرف سمندری حیات کے لیے ہی خطرے کی بات نہیں بلکہ اس سے ان معیشتوں کو بھی نقصان پہنچے گا جو خوراک، سیاحت اور سمندری طوفانوں سے بچنے کے لیے ان پر انحصار کرتی ہیں۔ اور ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایمیزون کے جنگلات، جنھیں کبھی ہم ’’دنیا کے پھیپھڑے‘‘ کہا کرتے تھے، جنگلات کی تباہ کاریوں کے باعث ان کی حالت بھی یہ ہوگئی ہے کہ اب وہ جتنا کاربن جذب کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ خارج کرتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے بحران کی شدت اور فطرت کی تباہ کاریوں میں تیز رفتار اضافہ اب دستاویزی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ خوش قسمتی سے، اب بھی وقت مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نہیں نکلا اور اب بھی ایسے لائحہ عمل دستیاب ہیں، جن کو اختیار کرتے ہوئے اس دو رُخی مسئلہ سے نمٹا جاسکتا ہے۔ نیز، ماحولیاتی بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے ماحولیاتی بحالی کے اقدامات کرکے اضافی ماحولیاتی، سماجی اور معاشی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

مستقبل میں کیا ہوگا؟

سائنسدانوں نے درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کو گلوبل وارمنگ کے لیے 'محفوظ حد مقرر کیا ہے۔ اگر درجہ حرارت زیادہ ہو جائے تو قدرتی ماحول میں نقصان دہ تبدیلیاں انسانوں کے طرز زندگی کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایسا ہوگا اور صدی کے اختتام تک 3 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

دنیا بھر میں اس کے مختلف اثرات ہوں گے

* برطانیہ انتہائی بارش کی وجہ سے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا

* بحر الکاہل کے نشیبی جزیروں والے ممالک بڑھتی سطحِ سمندر کی وجہ سے پانی کے نیچے غرق ہو سکتے ہیں

* بہت سے افریقی ممالک خشک سالی اور خوراک کی قلت کا شکار ہوں گے

* شمالی امریکا میں بگڑتی خشک سالی کی وجہ سے مغربی حصے متاثر ہوں گے جب کہ دیگر علاقوں میں اضافی بارش اور زیادہ شدید طوفان آنے کا امکان ہے

* آسٹریلیا کا سخت گرمی اور شدید خشک سالی کی لپیٹ میں آنے کا امکان ہے

اس سلسلے میں برطانوی نشریاتی ادارے کی دستاویزی سیریز ’لائف ایٹ 50سی‘ میں اس بات کی تحقیق کی گئی ہے کہ کس طرح شدید گرمی پوری دنیا میں زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ 50 سیلسئیس سے کم درجہ حرارت بھی انسانی صحت اور ہوا میں نمی کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

رٹگرز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، 2100ء تک دنیا بھر میں 1.2 ارب افراد گرمی کے شدید دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہ آج کے متاثرہ افراد سے کم از کم چار گنا زیادہ ہے۔ تاہم، ارد گرد کا منظر بدل رہا ہے اور لوگوں کو اس سے بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ شدید گرمی خشک سالی اور جنگلوں میں آگ کے امکانات بڑھا رہی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی اور بچوں کا مستقبل 

عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور طبی جریدہ دی لینسیٹ کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بچوں کا مستقل خطرے سے دوچار ہے کیونکہ کوئی بھی ملک ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہا۔ اقو ام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات پر قابو پانے اور بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری صاف اورصحت مند ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ”ماحولیاتی تبدیلی، حیاتیاتی انحطاط، بڑے پیمانے پرہجرت، تصادم کے واقعات، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور تجارتی مقاصد کے لیے بچوں کے استعمال نے دنیا کے ہر ملک میں بچوں کی صحت اور ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔“

عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور طبی جریدے دی لینسیٹ نے اپنی مشترکہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ خوشحال ملکوں میں بچوں کی بقاء اور نشوونما کے زیادہ بہترامکانات ہیں لیکن ان ممالک کی طرف سے کاربن کے حد سے زیادہ اخراج کے سبب تمام بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی بہتری کے حوالے سے جن تین پیمانوں، یعنی بچوں کی بہتر نشوونما، پائیداری اور مساوات کی بنیاد پر ملکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ان پر کوئی ایک بھی ملک پورا نہیں اترسکا۔

پائیدار ترقیاتی اہداف اور بچے

رپورٹ میں تمام ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حوالے سے 2015ء میں جو وعدے کیے تھے، ان کے حصول کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں بچوں پر سب سے زیادہ توجہ دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے”پائیدار ترقیاتی اہداف دو مقاصد پر مبنی ہیں، پہلا یہ کہ ہم اپنے کرہ ارض کو خطرناک اور غیریقینی مستقبل سے بچائیں اور دوسرا یہ کہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، منصفانہ اور صحت مند زندگی کو یقینی بنائیں۔ بچوں کو ان کی ضروریات، حقوق، مناسب حالات اور شراکت کے ساتھ ان مقاصد کے مرکز میں رکھنے کی ضرورت ہے۔“

سائنسدان کیا کر رہے ہیں؟

موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سائنسدانوں کی معلومات ہر وقت بڑھ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ اب آب و ہوا کی تبدیلی اور کسی ایک موسمی واقعے جیسا کہ سخت بارش اور گرمی کی لہر کے درمیان ربط کا پتا لگا سکتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی موسمی آفات کا بہتر اندازہ لگا سکیں گے۔

لوگ کیا کر سکتے ہیں؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لوگ مندرجہ ذیل اقدام اٹھاسکتے ہیں:

* سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ یا سائیکل کا استعمال کر کے گاڑیوں پر انحصار کو کم کریں

* اپنے گھروں کو انسولیٹ کریں

* ہوائی سفر کم کریں

* گوشت اور دودھ کے استعمال میں کمی کریں