• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

شوبز میں دوست دشمن کی پہچان مشکل ہوگئی ہے

شو بزنس کی دُنیا میں حُسن اور ذہانت کا خُوب صورت امتزاج بہت کم دیکھنے میں آتا ہے، اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کسی فن کارہ میں حُسن ہوتا ہے، تو صلاحیتوں کا فقدان نظر آتاہے اور جب فن کی دولت کسی پاس ہوتی، تو حُسن کی کمی نظر آتی ہے۔ ٹیلی ویژن کی معروف فن کارہ مدیحہ افتخار کو قدرت نےحُسن اور فن کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ انہوں نے نہایت قلیل عرصے میں شوبزنس کی دُنیا میں اپنی منفرد شناخت بنائی۔ 

باصلاحیت اور با کمال اداکارہ مدیحہ افتخار نے چند برس قبل جیو ٹیلی ویژن کے مقبول ڈرامے ’’پارٹیشن ایک سفر‘‘ سے اپنا فنّی سفر شروع کیا اور پھر اس کے بعد ان کے لیے کام یابیوں اور کامرانیوں کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ مدیحہ5 فروری کو اپنی سال گرہ مناتی ہیں۔ وہ ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والدین افتخار احمد اور ریحانہ افتخار نے قوتِ گویائی سے محروم ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو بھرپور تعلیم و تربیت فراہم کی۔ وہ دونوں پی ٹی وی سے ایک مقبول پروگرام’’بولتے ہاتھ‘‘ کی وجہ سے بے حد مقبولیت حاصل کی۔ 

مدیحہ کی تین بہنیں ہیں۔ سب نے تعلیمی مدارج راول پنڈی اور اسلام آباد ہی میں مکمل کیے۔ مدیحہ نے ایک نجی تعلیمی ادارے سے ملٹی میڈیا میں گریجویشن کیا اور شوبزکی دنیا میں انہیں ٹیلی ویژن کی معروف شخصیت رعنا شیخ نے متعارف کروایا۔ 

مدیحہ کو ابتدا میں جن چند ڈراموں سے بھرپور شناخت و پہچان ملی، ان میں صرف ایک بار، شہرکی راتیں، کاملہ اور ماہرہ شامل ہیں، جب کہ بعد میں ان کے کام یاب ڈراموں کی ایک طویل فہرست تیار ہوگئی، جن میں سرکار صاحب،پپو، سوتیلی، مجھے اپنا بنالو، صاعقہ، عشق کی انتہا، تجھ پہ قربان،کیسا یہ جنوں، دل، درد، دھواں ،نیلم، کیسی یہ دیوانگی،خواب آنکھیں خواہش چہرے، پالکی، سپنوں کی اوٹ میں اور دوسرے متعدد ڈرامے شامل ہیں۔ وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی ہیں، لیکن ان کی ترجیح فی الحال ماڈلنگ پر زیادہ ہے۔ 

انہوں نے ڈراموں میں یاد گار اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیے، وہ ہر کردار میں ڈوب کر اداکاری کرتی ہیں۔ گزشتہ دِنوں جب وہ دبئی سے پاکستان آئیں، تو ہم نے ان سے بات چیت کی۔ اُن سے سب سے پہلے ہم نے پوچھا کہ شادی کے بعد آپ کہاں غائب ہوگئیں تھیں؟ 

اس سوال کے جواب میں مدیحہ افتخار نے بتایا کہ شادی کے بعد دبئی شفٹ ہوگئی تھی، اس وجہ سے کچھ عرصے کے لیے پاکستانی ڈراموں میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا، اب پھر سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے واپس پاکستان آنا پڑا۔ اس دوران دبئی میں انٹرنیشنل برانڈز کے ساتھ بہت کام کیا، وہاں کے فیشن شوزمیں حصہ لیا، ماڈلنگ بھی کی۔ یہ حقیت ہے کہ کوئی بھی اداکار ساری زندگی ایکٹنگ نیہں چھوڑ سکتا، اس کے اندر کا فن کبھی نہیں مرتا۔ 

باوجود اس کے میں دبئی میں ماڈلنگ میں زیادہ مصروف رہی ، لیکن اداکاری کو ہرگز نہیں چھوڑا، آج بھی ڈراموں میں کام کرکے بہت انجوائے کرتی ہوں، حالاں کہ ماڈلنگ کے مقابلے میں اداکاری کو بہت زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔ 12 گھنٹے کی شفٹ ہوتی ہے ،جب کہ ماڈلنگ میں کم وقت لگتا ہے اور آپ کے کام کا نتیجہ بھی جلدی آجاتا ہے۔ 

پاکستان آکر سب دوستوں سے رابطہ کیا اور ڈراموں اداکاری اور ماڈلنگ شروع کردی۔ان دِنوں مجھے ہدایت کار افتخار عفی کے ڈرامے ’’ہائے موٹی‘‘ میں پسند کیا جارہا ہے۔ تین چار اور بھی سیریز میں کام کیا ہے، کچھ نئے اسکپرٹ آئے ہیں، پڑھ کر فیصلہ کروں گی کہ اس ڈرامے میں کام کرنا ہے یا نہیں۔‘‘ شادی کے بعد آپ کہ مقبولیت میں کوئی منفی اثرات مرتب ہوئے؟ پہلے شوبز کی لڑکیاں شادی کو چُھپاتی تھیں،اب وقت بدل گیا ہے ، اداکارائیں اپنے فن کے عُروج پر بھی شادیاں کررہی ہیں۔ 

شادی کے بعد میرے شوبز کیرئیر پر کوئی فرق نہیں پڑا،بلکہ مجھے تو اور زیادہ شہرت ملی ہے، میرے لیے دبئی کے شاپنگ مالز میں شاپنگ کرنا مشکل ہوجاتا ہے، مداح بہت پیار دیتے ہیں، ساتھ سیلفیاں بنواتے ہیں، تو اچھا لگتا ہے۔ دبئی میں پروفیشنل ازم بہت زیادہ ہے، جب کہ ہمارے یہاں شوبزنس میں آج کل سیاست زیادہ ہوگئی ہے۔ فن کار ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، سامنے تعریف کرتے ہیں اور پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں، دوست دشمن کی پیچان کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ دبئی میں ٹیلنٹ اورآڈیشن کے بعد کام ملتا ہے، وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس کے سوشل میڈیا پر کتنے فالوورز ہیں۔‘‘

بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ ’’میرا بچپن بہت زبردست ماحول میں گزرا۔ میں نے جو مانگا، جس خواہش کا اظہار کیا، وہ والدین نے پوری کی۔ شرارتی بالکل نہیں تھی۔ ہم چاروں بہنوں میں بے انتہا پیار تھا اور آج بھی اتنا ہی ہے۔ میں اپنے ماں، باپ کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتی، وہ میری کل کائنات ہیں۔ مجھے قدم قدم پر اُن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ہم چار بہنیں ہیں، تین بہنوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ 

میں سب سے چھوٹی ہوں۔ اب میری بھی شادی ہوچکی ہے۔ شادی کے بعد دبئی شفٹ ہوگئی تھی۔ میرے شوہر بزنس مین ہیں اور میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ میری ایک بہن پروفیسر روحی راشد، دوسری ڈاکٹر رابعہ راحیل اور تیسری بینکر ہیں۔ اُن کا نام مہرین ابرار ہے۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے مجھے بے حد پیار ملا۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ 

اس کمی کا احساس تو تھا، مگر بہنوں کی شادیوں کے بعد سب کا خیال رکھنے والے دولہا بھائی مل گئے، تو اب اس کمی کا احساس نہیں ہوتا۔ ویسے ایک بات ہے، اسکول کے زمانے میں میری ٹیچرز سب میری دوست تھیں۔ میں اپنی عمر کے معاملے میں ہمیشہ سچ سے کام لیتی ہوں۔ میں جتنے برس کی ہوں لوگوں کو اپنی اتنی ہی عمر بتاتی ہوں۔ نہ خود کو چھوٹی سمجھتی ہوں اورنہ ہی زیادہ عمر کی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تم اپنی صحیح عمرکیوں بتاتی ہو، مگر مجھے بتانے میں کوئی عار نہیں۔ جب میں شوبزنس میں آئی تھی تو میرا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا تھا۔‘‘

’’شوبز میں آمد کس طرح ہوئی؟‘‘ اس سوال کے جواب میں مدیحہ افتخار نے بتایا ’’یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب میڈم رعنا شیخ اپنے ڈرامے ’’پارٹیشن ایک سفر‘‘ کے لیے نیا ٹیلنٹ ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں نے آڈیشن دیا اور منتخب ہوگئی۔ اس کے بعد دو سال تک شوبزنس سے دوری اختیار کی، کیوں کہ مجھے اپنی تعلیم مکمل کرنی تھی۔ پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوبارہ شوبز میں آگئی۔ مجھے بہت حیرت ہوتی ہے کہ میں اتنے کم وقت میں اتنی مقبول کیسے ہوگئی، مگر یہ سب اوپر والے کی کرم نوازی ہے۔ وہ جس کو چاہے جتنی کام یابی اور عزت عطا کردے۔ 

میرے والدین نے میری تربیت پر بھرپور توجہ دی تو میں آج اس قابل ہوں کہ لوگ مجھے پہچانتے ہیں۔ میں اپنے ساتھی فن کاروں سے ذرا مختلف ہوں۔ آپ کو خوش گوار حیرت ہوگی کہ میں صبح سویرے اٹھتی ہوں۔سب سے پہلے جِم جاتی ہوں اور ڈراموں کی شوٹنگز اور فیشن شوٹس سے فارغ ہوکر گھر کے کچھ کام کرتی ہُوں۔ میں جانتی ہوں کہ کام یابی حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے تو آپ کی نیت کا اچھا ہونا بہت ضروری ہے، اگر نیت اچھی ہوگی تو میرا یقین ہے کہ کام یابی ضرور حاصل ہو گی، مگر محنت اور لگن کا ہونا بھی ضروری ہے۔‘‘

’’کیا آپ اپنے ڈریس خود ڈیزائن کرتی ہیں؟‘‘ اس بارے میں انہوں نے بتایا ’’میں اپنی ڈریس ڈیزائنرکو آئیڈیا دے دیتی ہوں اور پھر وہ خود ہی خوب صورت سا لباس تیار کردیتی ہیں۔‘‘ مدیحہ کا کہنا ہے کہ ’’کوئی بھی فن کارہ جب تک گھر سے اعتماد اور بھروسا لے کر نہیں نکلے گی، شوبز میں اس کی کام یابی مشکل ہوگی۔ میرے والدین نے میری ایسی تربیت کی ہے کہ مجھے خود پر بے حد اعتماد اور بھروسا ہے۔ دوسری ساتھی فن کارائوں کی طرح میری امی کبھی بھی ڈراموں کی شوٹنگز پر میرے ساتھ نہیں گئیں۔ ان کا بس اتنا کہنا ہے کہ جس روز بھی کوئی شکایت آئی، تمہیں اسی روز شوبزنس چھوڑنا ہوگا۔‘‘ 

مدیحہ نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ ’’مستقبل میں، میں اپنے آپ کو اچھی اور منجھی ہوئی اداکاراؤں کی صف میں کھڑا دیکھ رہی ہوں۔ مجھے موسیقی کا بے حد شوق ہے۔ میں پاپ موسیقی، کلاسیکل، غزل گیت وغیرہ سب سنتی ہوں۔ راحت فتح علی خان کے گائے ہوئے گانے کافی شوق سے سُنتی ہوں۔ مجھے خود بھی گانے کا بے حد شوق ہے، اسکول میں گاتی بھی رہی ہوں۔ میں نازک سی ہونے کے باوجود بھی اسکرین پر خاصی موٹی نظر آتی ہوں۔ اس لیے کھانے پینے میں احتیاط سے کام لیتی ہوں۔

مجھے ہالی وڈ اور بالی وڈ سے فلموں میں کام کی پیش کش ہوئی، مگر میں نے انکار کر دیا، کیوں کہ بہرحال میں ایک مشرقی لڑکی ہوں۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلموں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے، وہ میں ہرگز نہیں کرسکتی۔ ابتدا میں نعمان اعجاز، ندیم بیگ، طلعت حسین نے شوبز میں میری خاصی مدد کی، اداکاری سے متعلق اہم ٹپس دیں۔ میں ان کے ڈرامے بہت شوق سے دیکھتی ہوں۔ اب ٹی وی ڈراما بہت بدل گیا ہے، دنیا بھر میں ہمارے ٹی وی ڈرامے دل چسپی اور توجہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اسی لیے مجھے ڈراموں میں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید