• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور ہائیکورٹ کا شوگر ملز مالکان کو 13 اکتوبر تک کا اسٹے آرڈر

اسلام آباد (حنیف خالد) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی 28شوگر ملوں کے مالکان نے وفاقی شوگر اپیلٹ کمیٹی کے اُس فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ میں جمعہ کو مشترکہ رٹ پٹیشن دائرکر دی۔ اپیلٹ کمیٹی کے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملیں 84روپے 75پیسے کے ایکس ملز ریٹ پر ڈیلروں کو چینی سپلائی کیا کریں اور صارفین کو 89روپے 75پیسے فی کلو کے حساب سے چینی مہیا کی جائے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس جمعہ کی شام پی ایس ایم اے میں مرکزی چیئرمین ذکاء اشرف چوہدری کی صدارت میں ہوا جس میں ایسوسی ایشن کے تمام سینئر ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں شوگر اپیلٹ کمیٹی کے چار صفحات پر مشتمل فیصلے کا ایسوسی ایشن کے وکلاء کے پینل سے مشورہ کر کے لاہور ہائیکورٹ میں یہ رٹ دائر کر دی ہے کہ شوگر ملوں کی اوسطاً پیداواری لاگت ایک سو چار روپے کلو ہے‘ وہ چوراسی روپے پچھتر روپے ایکس ملز ریٹ پر چینی سپلائی نہیں کر سکتے۔ ذرائع کے مطابق کئی ہفتوں سے شوگر ملوں کا ایکس ملز ریٹ ایک سو روپے کلو کے لگ بھگ چلا آ رہا ہے۔ اس رٹ پٹیشن کی سماعت کیلئے چیف جسٹس آف لاہور ہائیکورٹ عنقریب خصوصی بنچ تشکیل دینگے۔ ادہر لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ جو مسٹر جسٹس شاہد کریم اور مسٹر جسٹس رسال حسن سید پر مشتمل ہے‘نے شوگر ملز مالکان کی رٹ پٹیشن پر 13اکتوبر تک کیلئے اسٹے آرڈر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کسی شوگر ملز سے کوئی چینی نہیں اٹھا سکتی کیونکہ کوئی بھی ایسا قانون موجود نہیں جس کے تحت ڈپٹی کمشنر‘ اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس چینی اُٹھا سکیں۔ اسلام آباد میں شوگر اپیلٹ کمیٹی کے فیصلے کے بعد پنجاب حکومت نے بہاولپور‘ مظفر گڑھ‘ چنیوٹ‘ فیصل آباد‘ قصور‘ منڈی بہائوالدین‘ پتوکی اور دوسرے ضلعوں کی شوگر ملوں پر دھاوے بول دیئے۔ اُن ملوں کے تالے توڑ دیئے گئے بھاری پولیس فورس لیکر چینی اٹھانے کی کارروائی کی۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلاء نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس عہدیداروں کو ایسوسی ایشن کے وکلاء کے تحریری خطوط دیئے جن میں ہائیکورٹ کے مذکورہ ڈویژن بنچ نے 13اکتوبر تک کسی بھی شوگر ملز سے چینی اٹھانے سے منع کیا ہے اور شوگر ملز مالکان کو معمول کے مطابق چینی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ فیصل آباد کی حمزہ شوگر ملز میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کیخلاف توہین عدالت کی پٹیشن پر ڈویژن بنچ نے فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر کو بلا کر عدالت میں سرعام سرزنش کی اور یہ کہا کہ آپ نے کون سی کمیونسٹ رجیم بنا لی ہے‘ کس قانون کے تحت آپ نے شوگر ملز سے متعلق ہمارے آرڈر کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ توہین عدالت کے مرتکب ہیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے ڈویژن بنچ سے معافی مانگی اور غلطی کا اعتراف کیا جس کے بعد اپیل کنندہ کی شوگر ملز نے چینی فروخت کرنا شروع کر دی۔

اہم خبریں سے مزید