حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن آپ یورپ، امریکہ اور برطانیہ کے کسی بھی گلی، کوچے، بازار سے گزریں تو آپ کو ایک مخصوص عجیب سےبو آئے گی۔ اس مخصوص سی خوشبو یا بدبو کو ایک نارمل انسان اگر باقاعدہ تھوڑی دیر رک کر سونگھ لے تو اس کا سانس لینا محال ہوجائے یا پھر اس کا سر چکرا جائے۔ اس عجیب سی خوشبو کے بارے میں اگر مقامی لوگوں سے پوچھا جائے تو وہ ایسی کسی حیرت کا اظہار نہیں کرتے کہ جس سے پریشانی ظاہر ہوکہ یہ کوئی خطرناک بدبو ہے یا پھرانہیں اس بدبو کی عادت ہوجاتی ہے۔ اب ہم مسلمان تو نشہ دینے والی ہر چیز کو حرام ہی جانیں گے مگر یہ ہی چیز جسے ہم نشے کے زمرے میں لیتے ہیں مگر یورپ میں اس کی کیٹگری بنادی گئی ہیں بلکہ پاکستان و دیگر ایشیائی ممالک میں بھی اسے استعمال کرنا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ فرض کیجئے کوئی اگر کسی کو کہے کہ فلاں فلاں شخص نشہ کرتا ہے۔ تو دوسرا شخص یہ پوچھے بنا نہ رہے گا کہ ’’کون سا؟‘‘ جب بتایا جائے کہ فلاں شخص ’’چرس‘‘ کا نشہ کرتا ہے تو سننے والا کہے گا۔ اوہ چرس؟ یہ تو کوئی بات نہیں، عام استعمال ہورہی ہے۔ یعنی چرس گویا کوئی بڑی چیز ہی نہیں، کوئی نشہ نہیں بلکہ عام سی کھانے والی روزمرہ کی غذا ہے۔ اب نشے بھی رینک رکھتے ہیں کہ کون سا نشہ کس رینک پر آتا ہے۔ یعنی جس قسم کا ہوگا اسی طرح گناہ کے لیول بڑھیں گے اور گھٹیں گے۔چرس، افیون، بھنگ کو بہت سےلوگ گناہ کے ہائی لیول پر نہیں رکھتے، اسے مکروہ سمجھتے ہیں، اگر حرام کہہ دیا جائے تو وہ کھا جانے والی آنکھوں سے گھورتے ہیں۔ چرس تو امریکہ میں لیگل ہوچکی ہے اوربرطانیہ و یورپ میں بھی حال کوئی مختلف نہیں ہے، یہ عام استعمال ہوتی ہے، لوگوں کو تب ہی تو ہر گلی محلے سے چرس کی بدبو عام سونگھنے کو ملتی ہے۔ ہمارے یہاں اس کی کاشت کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ دوا سازوں کو دوائوں میں اس کی ضرورت رہتی ہے۔ دوائوں میں ان کا استعمال جائز ہے لیکن شراب اور دوسرے نشے کسی بھی حالت میں بالکل بھی جائز نہیں باوجود اس کے کہ تمام مذاہب میں اس پر پابندی ہے مگر اس کا استعمال کو پھر بھی عام شے سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ ظاہر ہے جب درخت، پھول، پھل، پودے اگنا شروع ہوئے تو تب ہی اس کے پودے بھی اگنا شروع ہوئے ہوں گے۔ اس پرانے نشے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے بلکہ اسلا م نے اسے ’’ام الخبائث‘‘ کا نام دیا گیا ہے تمام برائیوں کی ماں ہے چرس، افیون وغیرہ۔اس چرس سے ہی نشے دنیا میں پھیلے ہیں جسے لوگ بے ضرر نشہ سمجھتے ہیں، وہی ام الخبائث نے دنیا بھر میں مختلف نشوں کو پیدا کیا اور پھیلایا۔ جو چیزیں ہیں آج کل ان میں مختلف قسم کے تمباکو، نشیلی پان کی بیڑیاں، گٹکا، گانچچہ، بھنگ، کوکین، شیشہ، افیم ، ہیروئن، وہسکی، شیمپن، شیمپین، حشیش، شراب اور آئس کا نشہ ہے۔ دنیا میں طرح طرح کےنشے پھیل گئے ہیں کہ اب پارٹیز بھی اسی لحاظ سے ہونے لگی ہیں، کہیں چرس کی پارٹی ہے تو کہیں آئس کے نشے کی، وہسکی اور شیمپئنن جیسی شراب کی پارٹیز تو عام سی بات ہے۔ یورپ میں تو ایسی پارٹیز ہر ویک اینڈ پر ہوتی ہیں اورایشیائی ترقی پذیر ممالک بھی پیچھے نہیں رہے۔ پاکستان میں پہلے لوگ ویک اینڈ پر کھانے کے مشہور مقامات پر جانا پسند کرتے تھے یا کبھی گھروں میں بڑے پیمانے پر کھانے کے اہتمام کیاکرتے تھے مگر اب کھانا کی بجائے فارم ہائوسز کی طرف گاڑیوں کا رخ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہاں کھانوں کے ساتھ ساتھ نشوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ ایسی پارٹیز نے لوگوں میں عیاشی کا انداز بدل دیا۔اب تو ہر جگہ نشوں کی بھر مار ہے اور اب پارٹیز کے وہ انداز ہوگئے کہ نشے سے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہونے لگا ہے، لگتا ہے پورے کا پورا جہان نشے میں بدمست ہوکر جی رہا ہے۔ خبروں کے مطابق اب پارٹیز کے خاص نام تو ہیں ہی مگر اس میں جو کام ہوتے ہیں وہ شرمناک حد تک انسانیت سے گرے ہوئے ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک بالی ووڈ ایکٹر کے جواں سال بیٹے کو گرفتار کیا گیا۔ اس کی گرفتاری کے ساتھ ہی ان کے ادارے این سی بی کے عہدیداران نے کروز پر ہوئی پارٹی کا خلاصہ بھی بیان کیا کہ گرفتار نوجوان Rave Partyارینج کرتا ہے۔ ریو پارٹی ایسی بے حیائی کی تصویر پیش کرتی ہے کہ جس میں منشیات، شراب، عجیب سا رقص و موسیقی اور بعض مرتبہ دوسرے بے حیائی کے عناصر و عوامل ہوتے ہیں۔ ایسی پارٹیز نہایت ہی رازداری اور منظم طریقے سے ارینج کی جاتی ہے۔ انجان لوگوں کو اس کی بھنک تک نہیں پڑنے دی جاتی۔ یورپ کے علاوہ انڈیا ایسی پارٹیز کے لیے محفوظ مقام ہے۔نوجوان لڑکے سے جو نشہ آور اشیا برآمد ہوئیں، ان کے نام بھی Raveپارٹی کی طرح مختلف ہیں۔ جیسے کہ کوکین، میفیڈرون، کیٹا مائن، ایکسٹی، ایم ڈی اے اور چرس جیسی چیزیں پکڑی گئیں۔ یہ تمام چیزیں جب پارٹی میں استعمال ہوتی ہیں تو ماحول بھی ویسا ہی بنایا جاتا ہے۔ بلند آواز میں میوزک وہ بھی الیکٹرک ٹرانس خاص میوزک سسٹم ہوتا ہے۔ لیزر سے رنگین تصاویر ویژول ایفیکٹس اور دھواں دار ماحول بنانے والی مشین بھی ریو پارٹی کا حصہ ہوتی ہیں۔ نشے میں مصروف لوگ اس ماحول کو پسند کرتے ہیں اور گھنٹوں نہیں بلکہ تین چار دن اسی ماحول میں گزار دیتے ہیں۔ہمیں اب عالمی سطح پر نشے کے معاملے میں کسی بھی ملک سے اپنا موازنہ نہیں کرنا ۔ پاکستان میں تقریباً76لاکھ افراد نشے میں بدمست ہیں۔ان میں 78فیصد مرد اور22فیصد خواتین ہیں۔ شراب، ہیروئن، چرس، کرسٹل، بھنگ، آئس، صمد بانڈ کے علاوہ سکون بخش ادویات اور سرنج سے نشہ کرنے والوں کی تعداد بے حد ہے، دیکھا جائے تو ہر قسم کے نشے کارجحان ہے کس کس کو گرفتار کریں گے ۔