• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر میں باغبانی کیلئے جگہ مختص کرنا

ماحولیاتی آلودگی میں اضافے اور غیرمعیاری پھلوں اور سبزیوں کی دستیابی کے باعث آجکل درخت لگانے اور آرگینک فوڈ کے حصول کی طرف توجہ دی جارہی ہے۔ ایسے میں اگر آپ اپنے گھر میں باغبانی کے لیے جگہ مختص کرتے ہیں تو اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کا گھر ہرا بھرا اور خوبصورت نظر آئے گا جبکہ دوسرا فائدہ تازہ اور صحت بخش پھلوں اور سبزیوں کی صورت میں ہوگا۔

پرانے وقتوں میں لوگ گھر کے بیرونی حصوں (صحن، عقبی حصہ، دروازے سے باہر) میں اپنے شوق کی خاطر کچھ پودے، بیلیں یا پھر درخت لگا لیتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ پھول پودوں کی اہمیت کو جاننے کے بعد اب لوگ اپنی بالکونی، ٹیرس، چھت، کچن وغیرہ میں بھی باغبانی کرنے لگے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے گھر کے مختلف حصوں کے لیے باغبانی کے نت نئے ٹرینڈز اپنانے کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ ان ٹرینڈز میں ’گارڈن روم‘کا اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے، جو کم بجٹ میں جدید تعمیراتی انداز کے ساتھ گھر کے بیرونی حصے میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ مکان تعمیر کروارہے ہیں یا ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ آپ باغبانی کے لیے پہلے ہی مناسب جگہ مختص کردیں۔

کتنی جگہ مختص کی جائے؟

کسی بھی عمارت کی تعمیر میں نقشہ سازی (فلور پلان) انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے تحت پہلے سے ہی یہ طے کرلیا جاتا ہے کہ کونسی چیز کہاں، کیسے اور کتنے رقبے پر تعمیر کی جائے گی۔ فلور پلان کے مطابق تعمیرات کے ذریعے جگہ کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے اور ہر چیز کے بننے میں ایک ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ اسی لیے گھر کی خوبصورتی اور مکینوں کے صحت مند طرز زندگی کے لیے فلور پلان میں ہی باغبانی کے لیے جگہ کا تعین کرنا مناسب رہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ باغبانی کے لیے فلور پلان میں کتناحصہ مختص کیا جائے؟ ماہرین تعمیرات بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عام طور سے متوسط طبقے کے افراد 80سے 120گزکے پلاٹ پر ذاتی مکان تعمیر کرواتے ہیں، گھر کے فلورپلان میں باغبانی کے لیے کوشش کرکے کم ازکم 10فیصد حصہ مختص کیا جائے۔ 

تاہم، اگر آپ کے پاس تعمیرات کے لیے اس سے زائد رقبہ دستیاب ہے تو آپ وہاں 10فیصد سے زائد حصے پر ایک خوبصورت اورکشادہ باغیچہ ڈیزائن کرواسکتے ہیں۔ باغبانی کے مختلف ٹرینڈ ز کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے گھر کے بیرونی حصے میں سوئمنگ پول یا سائبان کی تعمیر کے ذریعے باغیچے کی قدرتی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسے جدید انداز بھی دیا جاسکتا ہے۔

موزوں جگہ کا انتخاب

گھر کے دیگر حصوں کی طرح باغیچے کے لیے بھی موزوں جگہ کا انتخاب سوچ بچار کے بعد کیا جانا چاہیے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ باغیچہ صرف صحن یا پورچ میں ہی بنایا جاسکتا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ باغبانی کے لیے آپ گھر کے عقبی حصے، چھت، بالکونی/ٹیرس وغیرہ کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ گھر میں کسی چھوٹی سی جگہ کو بھی باغبانی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 

تاہم، اس حوالے سے آپ کو ان حصوں کے متعلق آگاہ ہونا ضروری ہے جنہیں عمارت کی نقشہ سازی کے دوران باغبانی کے لیے مختص کیا جاسکتا ہے۔ ڈیزائن منتخب کرتے ہوئے گھر کی بناوٹ، سائز، ساخت اور اِردگرد کےعلاقے کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے۔

باغیچہ کے لوازمات

باغیچے کے سائز اور ڈیزائن کا انتخاب بجٹ پرمنحصر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گارڈننگ کے لیے آپ جتنے زیادہ لوازمات استعمال کریں گے، اتنا ہی یہ دکھنے میں دیدہ زیب نظر آئے گا۔ تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ باغیچے میں مختلف اقسام کے خوبصورت پھول پودے، فوارہ، لکڑی کی بنچیں اور دیگر ایسی اشیا استعمال کی جانی چاہئیں جو لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالیں۔ اگر آپ کے پاس جگہ زیادہ ہے تو باغیچے میں بیٹھنے کا مناسب انتظام کرتے ہوئے شیڈ بھی لگوائیں تاکہ دھوپ اور بارش سے بچا جاسکے۔ ایک سادہ سی کافی ٹیبل اور چند کرسیاں بھی باغیچے کو دلکش بناسکتی ہیں۔

پانی، بجلی اور نکاسی کا نظام کسی بھی باغیچے کے اہم عناصر ہیں۔ اس کے لیےآپ کو آرکیٹیکچر کے ساتھ مل کر نقشے (فلور پلان) پر بات کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی الیکٹریشن سے وائرنگ کے حوالے سے تمام معاملات پہلے ہی طے کرلینی چاہئیں ۔ باغیچے میں متاثر کن لائٹنگ بھی اس کو چار چاند لگانے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ باغیچے کی دیواروں کو قوس و قزح کے رنگوں سے پینٹ کریں۔ اس سے آپ کی طبیعت، مزاج اور ماحول پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ 

آپ خوبصورتی میں اضافے کے لیے کسی دیوار پر سجاوٹی آبشار سجا سکتے ہیں یا پھر کہیں کونے میں رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیوار میں طاق بنائیں اور اس میں اس طرح پودے رکھیں کہ وہ آبشار کے قریب ہوں مگر خیال رہے کہ ان میں پانی نہ گرے۔ اگر آپ صحن یا عقبی حصے میں باغیچہ بنارہے ہیں تو اس میں حوض بنانے سے اس کی ظاہری شکل بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی اس میں مناسب سوئمنگ پول لائٹس، پودے اور فاؤنٹین نصب کرکے دلکش بنایا جاسکتا ہے۔ باغیچہ بنانے پر کافی محنت اور وقت لگتا ہے، لہٰذا اس کام پر بھرپور توجہ دیں تاکہ وہ خوبصورت نظر آئے۔