• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مفتی محمود ؒ مرحوم ملت اسلامیہ کا روشن ستارہ

تحریر…قاری محمد عثمان

محدث کبیر،مفتی اعظم پاکستان، داعی اسلامی انقلاب، شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانامفتی محمود رحمۃ اللّٰہ علیہ ملت اسلامیہ کا روشن ستارہ، ملک و ملت کے عظیم محسن،عالم اسلام کے ایک عظیم رہنماء، ایک عالمگیر تحریک، ہر میدان کے شہسوار، علم و حکمت کے پہاڑ، ہر مظلوم کا خیرخواہ اور ظالم کیلئے سیف بے نیام، جو بیک وقت مفتی اعظم، شیخ الحدیث و التفسیر مجددِوقت،میدان سیاست کے بے تاج بادشاہ اور اتحاد امت کی علامت تھے۔

یہاں حضرت مفتی صاحب کی زندگی کی آخری تاریخی تقریر کا کچھ حصہ قارئین کے استفادہ کے لئے ضروری سمجھا گیا جو انہوں نے 6جون 1980ء کو جامعہ عثمانیہ شیرشاہ کے افتتاح کے موقع پر جامع مسجد طور شیرشاہ میں ایک عظیم الشان اجتماع میں کی تھی۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضرت مفتی صاحب ؒ نے فرمایاکہ: ہم نے اپنی زندگی کا مقصد طے کرلیا ہے یا تو اسلام کا نظام عدل پاکستان میں حاصل کرکے ر ہیں گے یا پھر اپنی جان دیدیں گے۔ تیسرا درمیان میں کوئی راستہ نہیں۔اسلام کے علاوہ کسی باطل نظام سے صلح نہیں کرسکتے۔ 33سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے۔ اس پورے عرصہ میں ہماری جدو جہد کے سامنے مشکلات حائل ہوئی ہیں لیکن ہم مایوس نہیں۔ اس لئے کہ نتائج ہمارے اختیار میں نہیں۔ وہ اللّٰہ کے اختیار میں ہیں نہ معلوم وہ ہمارا کتنا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ ”ایسا نبی خدا کے سامنے آئے گا جس کے ساتھ ایک بھی امتی نہیں ہوگا،کسی کے ساتھ ایک امتی ہوگا۔ایسا نبی خدا کے سامنے آئے گا جس کے ساتھ دو امتی ہوں گے۔ ایسا نبی آئے گاجس کے ساتھ چھ، سات، آٹھ امتیوں کی جماعت ہوگی“۔ ہمیں یقین ہے کہ ان پیغمبروں نے جن کے ساتھ لوگ نہیں تھے اپنے مشن کو تکمیل تک پہنچانے میں پوری زندگی صرف کردی،حضرات انبیاء ؑ کبھی تبلیغ دین میں کوتاہی نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی غلط بیانی ہے کہ کہا جائے کہ فلاں پیغمبر نے دین میں کوتاہی کی۔ ہر پیغمبر نے پوری عظمت کے ساتھ نبوت کی شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے اللّٰہ کی دعوت پہنچائی لیکن دل خدا کے ہاتھ میں ہے۔ نتائج اللّٰہ کے ہاتھ میں ہیں۔”بنی آدم کے دل اللّٰہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، جیسے چاہے پھیر دے“۔

تو ہدایت، کامیابی اور نتائج کا مرتب ہونا یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ہم تو اتنے مکلف ہیں کہ اس راستے پر چلیں اور اسی پر زندگی گزاریں۔ اس لئے ہم اللّٰہ کے سامنے اور آپ کے سامنے یہ اقرار کرتے ہیں کہ(اللّٰہ ہمیں توفیق بخشے) انشاء اللّٰہ ہماری زندگیاں اسلام کے لئے وقف ہیں اور ہم نے اسلامی نظام کو نافذ کرنا ہے۔

میرے محترم دوستو! پاکستان کا اقتدار جو آپ کے سامنے ہے اس اقتدار کو بچانے کے لئے اور اپنی کرسی کے تحفظ کے لئے جو بھی آتا ہے وہ اس کرسی کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے وہ ہمیشہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس کرسی سے نہیں اترنا۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے لیکن میں اس اقتدار کے انجام کو جانتا ہوں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟۔

یہاں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان مرحوم جب وزیر اعظم بنے ان کا انجام کیا ہوا؟ایک بدو شخص نے لیاقت باغ راولپنڈی کے اندر جلسہ عام میں ان کو گولی ماری اور بے کس کی لاش پڑی رہی۔ اس کے بعد جنرل غلام محمد آیا جسے لوگ مردِآہن کہتے تھے۔ جب مفلوج ہوا،لعاب اس کے منہ سے بہتا تھا لیکن اس کے حواری کہتے تھے کہ آپ جیسا مضبوط،طاقتور اعصاب والا کوئی نہیں۔ وہ خوش تھا کہ واقعی مجھ جیسا مضبوط آدمی کوئی نہیں ہے۔ اس کا حشر کیا ہوا؟اس مرد آہن کے سینے پر پستول رکھ کر اس سے استعفیٰ دلوایا گیا۔ پھر جب ان کی رحلت ہوئی تو کراچی کے اندر گوروں کے قبرستان میں ان کی قبر بنی۔ مسلمانوں کے قبرستان میں ان کو جگہ نہیں ملی،اس کے بعد سکندر مرزا تشریف لائے۔ سکندر مرزا کو یہاں سے جہاز میں بٹھاکر لندن بھیجا گیا۔وہ لندن کے ایک عام سے ہوٹل میں منیجر لگا اور ہوٹل کے منیجر کی حیثیت سے اس کا انتقال ہوا۔ اس کی لاش ایران لائی گئی اس وقت ایران میں اس کی تدفین ہوئی۔ آج کل آپ نے اخبارات میں دیکھا کہ ایران کے لوگوں نے اس کی لاش کی ہڈیاں نکال کر باہر پھینک دیں اور کہا کہ یہ غدار ایران کی سرزمین پر دفن نہیں ہوسکتا۔ دیکھا آپ نے اقتدار کا انجام؟اس کے بعد ایوب خان آیا۔ ایوب خان غریب بڑی مشکل سے دس سال گزارسکا،لیکن ایک دن جب اس نے اپنے بچوں سے سنا کہ ایوب کتا ہائے ہائے۔ اپنے بچوں کو بلایا اور پوچھا تو بچے کہنے لگے کہ ابا جی! ہم تو اسکول میں بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔ وہ پھر بھی ہوشیار تھا وہ سمجھ گیا اس نے استعفیٰ دیا اور الگ ہوکر بیٹھ گیا۔ پھر جناب آغا محمد یحییٰ خان تشریف لائے۔وہ آج کل پنڈی کے ایک محلہ میں رہتا ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ محلے کی کسی گلی سے باہر نہیں نکل سکتا۔ آزاد ہے لیکن بچوں کے ڈر سے باہر نہیں نکل سکتا۔بچے پیچھے پڑجاتے ہیں۔اس کے بعد بھٹو صاحب تشریف لائے اور اس کا حشر بھی ہم سب نے دیکھ لیا۔ مجھے تعجب اور افسوس ہے کہ پاکستان کے مقتدر لوگوں کی تاریخ سے کسی نے سبق نہیں سیکھا، ہم نے سبق سیکھا۔ جب میں وزیر اعلیٰ تھا میں نے استعفیٰ دیا اور جب قومی اتحاد نے میری مرضی کے خلاف حکومت میں شمولیت کی تو میں نے ان کو کھینچتے ہوئے سب کو باہر نکالا۔ جنرل ضیاء الحق نے گزشتہ سال 12ربیع الاول کو چند اسلامی قوانین نافذ کئے تھے وہ بھی قومی اتحادسے مجبورہوکر، اس لئے کہ قومی اتحاد نے اسلامی قوانین کی شرط لگائی تھی،پھر قومی اتحاد نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد انہوں نے ان قوانین کا جو حشر کیا وہ سب نے دیکھا۔ اس وقت تک تقریبا ڈیڑھ برس گزر چکا ہے، کیا کسی چور کا ہاتھ کٹا ہے؟کیا کسی زانی کو سنگسار کیا ہے؟ کسی ڈاکو کو پھانسی دی؟ اسلامی حدود کے اعلان کے بعد عملاً ایک کیس بھی اسلامی قوانین کے مطابق نہیں ہوا۔ابھی چند دن پہلے انہوں اپنی تقریر میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا، لیکن کہا کہ اصل میں عدالتی نظام غلط ہے۔نئے سرے سے قاضیوں کا تقرر کیا جائے گا۔ لیکن قاضی کہاں سے لاؤ گے؟کیا یہ قاضی بنیں گے؟جو بلدیاتی نظام کے ذریعے صوبائی اسمبلیوں میں پہنچنے ہیں۔آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نامزد اسمبلیاں وجود میں آئی ہیں۔ اب نیشنل اسمبلی کو بھی نامزدگی کر کے پر کیا جا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قیامت کی علامت ہے۔ قیامت کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ نئے نئے امور منکشف ہوں گے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا اسلامی حدود کا نفاذ عدالتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے نہ ہوسکا؟یا کوئی اور وجہ تھی؟انہوں نے طریقہ کار یہ اپنایا کہ ہر ضلع میں ایک شرعی عدالت ہوگی۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ضلع جھنگ میں ایک شرعی عدالت میں ایک مرزائی کو جج مقرر کیا گیا اور کہا کہ یہ جج رہے گا۔ غرض یہ ہے کہ شرعی عدالتیں بھی مرزائیوں سے تشکیل دی جاتی ہیں اور پھر جب کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو یہ ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد السلام آتے ہیں تو پورے ملک میں ان کو استقبالیہ دیا جاتا ہے۔ وہ واضح مرزائی ہے، جب قومی اسمبلی سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو ڈاکٹر عبد السلام اس فیصلہ پر ناراض ہوکر ملک چھوڑ کر چلے گئے اور کہا کہ میں اس ملک میں نہیں رہتا جسمیں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیاگیا ہے اور پھر آج جنرل ضیاء الحق کے دور میں واپس آئے، جنرل صاحب پر اعتماد تھا تو اس لئے واپس آئے۔ اس اسمبلی کے اندر جس میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ جنرل ضیاء کی موجودگی میں اسٹیج پر دو کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ ایک پر جنرل ضیاء اور دوسری پر ڈاکٹر عبد السلام بیٹھے تھے۔ اسی اسمبلی ہال میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد السلام نے کہا کہ میں واحد مسلمان سائنسدان ہوں جس نے نوبل انعام حاصل کیا ہے۔ جنرل ضیاء کی موجودگی میں اس نے اپنے آپ کو مسلمان کہا۔ اسی وقت اس کے منہ اور دانت توڑنے کے قابل تھے۔ کیا یہ اس آئین کی توہین نہیں؟جس کا جنرل ضیاء نے بھی حلف اٹھایا تھا؟(جنرل ضیاء الحق کا یہ کردار سوالیہ نشان ہے)میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ ناممکن ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے مرزائیوں کو پھر مسلمان قرار دیا جائے۔ غرض اس نے قوانین بھی بنائے اور طریقہ کار یہ رکھا کہ شرعی عدالت اگر چور کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ سنائے تو اس پر عمل درآمد اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک سیشن کورٹ اس کی توثیق نہ کرے۔ شرعی عدات کے فیصلہ کرنے کے بعد سیشن کورٹ اس سزا کو رد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ کیا شرعی اور قرآنی فیصلہ کو سیشن کورٹ کے فیصلہ پر موقوف کرنا، شرعی عدالت کے فیصلہ کو انگریزی قانون کے تحت رکھ کر انگریزی قانون کی بالادستی قبول کرنا، یہ کھلم کھلا اسلام کی توہین نہیں؟

تینوں قوانین بیک وقت موجود ہیں۔ شرعی سزا کے نفاذ کے بعد مارشل لاریگولیشن منسوخ کی گئی اور نہ ہی انگریزی قانون کی سزا کو ختم کیا گیا۔ اب جب کیس ہوتا ہے تو انتظامی افسر ملزم سے کہتا ہے کہ تمہارے کو کس عدالت میں لیجایاجائے؟ہاتھ کاٹنے والی عدالت میں، یا دیگر عدالتوں میں۔ ملزم روتا ہے کہ مجھے شرعی عدالت میں مت لیجاؤ۔ آپ بتائیں کہ جب مسلمان شرعی عدالت سے انکار کرے وہ مسلمان رہتا ہے؟

میرے دوستو! ہم یہ نہیں چاہتے کہ کسی کا ہاتھ کٹے، نہ کوئی چور چوری کرے، ہم چاہتے ہیں کہ جرائم کا سدباب ہو اور جرائم کا سدباب صرف اسلامی قوانین سے ہوگا۔ اس کراچی میں اگر ایک چورکا ہاتھ کاٹ کر لٹکادیا جائے تو پوری کراچی میں نہ کوئی چور چوری کرے گا نہ کسی کا ہاتھ کٹے گااور پورے شہر میں امن ہو تو کیا یہ سودا سستا نہیں؟ اللّٰہ تعالیٰ ہماری زندگیاں اسلام کے نفاذ کے لئے صرف کردے۔قارئین کرام! حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر آج کے حکمرانوں کیلئے سبق ہے انکا خطاب آج سے 41سال قبل اس وقت ہوا تھا جب پاکستان 33 سال کا تھا، آج پاکستان 74 سال کا ہوگیا ہے۔ آج کے حکمران کتنے سنجیدہ ہیں یہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ مولانا مفتی محمود رحمتہ اللّٰہ علیہ کا دور حکومت مثالی تھا۔ انہوں نے پہلی بار اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان کے طور صوبہ سرحد کی سرکاری زبان قرار دیکر جس حب الوطنی کا مظاہرہ کیا تھا قیام پاکستان سے آج تک اسکی مثال نہیں ملتی۔شراب اور جوے پر پابندی لگانا مولانا مفتی محمود رحمتہ اللّٰہ علیہ کا صدی کا سب سے بڑا کارنامہ تھا مگر افسوس پاکستان میں قومی ہیروز کے تاریخی کردار کو ہمیشہ بھلا دیا جاتا ہے اور ایسے قیمتی اثاثوں کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں پاکستان کی تاریخ کی طویل ترین جرح کے بعد مرزا ناصر ملعون کو لاجواب کرکے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم جیسے روشن خیال زیرک سیاستدان اور ملک کے طاقت ور حکمران سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا مولانا مفتی محمود رحمتہ اللّٰہ علیہ اورانکی پاکیزہ ٹیم کا عالم اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ آج پوری دنیا میں مفتی صاحب ؒاور انکی پاکیزہ ٹیم کی بے مثال جدوجہد کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت سمجھا جاتا ہے۔ دوران جرح جب مرزا ناصر بن ٹھن کر شیروانی اور دستار پہن کر داڑھی میں تیل لگاکر ہال میں داخل ہوتے تھے تو ارکان اسمبلی مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمود صاحب رحمتہ اللّٰہ علیہ سے پوچھا کرتے کہ مفتی صاحب یہ داڑھی پگڑی اور شیروانی والا کیا کافر ہوسکتا ہے؟ تو حضرت مفتی صاحب ؒفرماتے کہ لباس اور داڑھی میں اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام میں لباس اور داڑھی ہے۔ مزید فرماتے کہ آپ بحث کو غور سے سنیں، انکے بارے میں آپ خود فیصلہ کریں گے کہ یہ کون ہیں اور تاریخ گواہ ہے پھر یہی ہوا۔ بحث کے اختتام سے پہلے ہی قومی اسمبلی کے ارکان یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اس عقیدہ کے پیروکار مسلمان نہیں ہوسکتے اور یہ وہ تاریخ ساز فیصلہ تھا جس کے ذریعہ متفقہ طور پر قومی اسمبلی کے ارکان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیکر پیارے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت کا عملی مظاہرہ کیا۔

ملک بھر سے سے مزید