• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن



سابق صدر آصف علی زرداری کی 8 ارب روپےکی مشکوک ٹرانزیکشن کیس میں بریت کی درخواست خارج کردی گئی، عدالت نے کہا کہ فرد جرم آئندہ سماعت پر عائد کی جائے گی۔

احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی سابق صدر کے خلاف 8 ارب روپےکی مشکوک ٹرانزیکشن کیس کی سماعت کی۔

سابق صدر آصف زرداری اور ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

آصف زرداری نے احتساب عدالت میں پیش ہوکر فرد جرم عائد کرنے کے بجائے بریت کی درخواست دی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جسے بعد میں سنایا گیا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 28 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور انہیں آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے سے قبل زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی، نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد کیس نہیں بنتا۔

وکیل فاروق نائیک کی دائر درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ کیس میں قومی خزانےکو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں، اس کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی بری کیا جائے ، درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کریں۔

جج اصغر علی نے ریمارکس دیئے کہ پہلے آپ یہ بتائیں یہ درخواست قابل سماعت بھی ہے یا نہیں، پہلے آپ اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر تو مطمئن کریں۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے جواب میں کہا کہ پہلے آپ نوٹس جاری کریں اس کے بعد ہم دلائل دینگے، ہمیں کیس سے متعلق سب کچھ پڑھنا پڑے گا، 161 کے بیانات کو بھی پڑھنا ہوگا۔

فاروق نائیک نے کہا کہ یہ کیس کرپشن اور کرپٹ پریکٹس میں آتا ہی نہیں ہے۔

جج اصغر علی نے کہا کہ درخواست قابل سماعت ہونے پر آپ کے دلائل سن لئے ہیں، کچھ دیرمیں فیصلہ کر دیں گے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج نے 8 ارب روپےکی مشکوک ٹرانزیکشن کیس کی گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیئے تھے کہ آصف زرداری پیش نہ ہوئے تو وارنٹ جاری کریں گے۔

قومی خبریں سے مزید