• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معروف ادیب خالد احمد نے رائے بہادر سَر گنگا رام کو ’’بابائے لاہور ‘‘ کہا ، کیونکہ انہوں نے اس شہر کے لیے وہ سب کچھ کیا جو اُن سے بن پڑا ،وہ ایک سول انجینیر، آرکی ٹیکٹ(عمارت کار ) تھے ۔حکومتِ وقت کی ملازمت کے دوران انہوں نے لاہور کی مشہور عمارات ڈیزائن اور تعمیر کیں ، جن میں لاہور میوزیم، جنرل پوسٹ آفس، ایچی سن کالج، کالج آف بینکنگ اینڈ فناس، وغیرہ شامل ہیں۔ گنگا رام اسپتال اُن ہی سے منسوب ہے۔ وہ ایک برٹش نیشنل ہندوستانی تھے۔ 13اپریل1851 ء کو پنجاب کے ایک ضلع منگتاں والا میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق امرتسر اور خاص طور پر لاہور سے رہا ۔

انہوں نے1873 میں حکومت سے پچاس ہزار ایکڑ بنجر زمین لےکر اپنی صلاحیتوں سے ایک ہائیڈرو پلانٹ ڈیزائن کرکے پنجاب کے لوگوں کے لیے قابلِ کاشت بنادیا۔ انہیں لاہور سے انتہائی درجے کی محبت تھی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ اُن کا انتقال دس جولائی 1927ء کو لندن میں ہوا، مگر ان کی سمادھی لاہور میں ہے۔ لاہور کے لوگوں کو بھی ان سے بے انتہا محبت تھی ،وہ انہیں اپنے باپ کا درجہ دیتے تھے ،ہر تکلیف کے لیے ان کی طرف دیکھتے تھے۔

کراچی کی تاریخ پر نظر ڈالیں توہمارے ذہن میں فوری طور پر جو شخصیت سَر گنگا رام جیسی نظر آتی ہے وہ ہےجمشید نسر وانجی مہتاکی، جنہوں نے کراچی سے اور کراچی والوں سے بے انتہا پیار کیا ،یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی والے آج تک اُن سے محبت کرتے ہیں اور اُنہیں ’’بابائے کراچی ‘‘ کہتے ہیں ۔ 

جب جب لوگ بڑے غرور کے ساتھ کراچی کی سڑکوں کے دُھلنے کا تذکرہ کرتے ہیں تو دراصل وہ ان ہی کے دورِ خدمات کا تذکرہ کرتے ہیں ۔وہ بھی ایک ایسے ہی انسان تھے ،جنہوں نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کرسکتے تھے ۔عمارات ،سڑکیں ،مسافر خانے، سُستانے کے لیے جگہ جگہ بینچوں کا انتظام ،جانوروں کے لیے’’پیاؤ ‘‘ کی تعمیرات جہاں کئی جانور ایک ساتھ پانی پی سکتے تھے، کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نَلکوں کا انتظام کیا، تاکہ خواتین اپنے برتن یا کپڑے مَل جُل کر دھو سکیں اور اس طرح معاشرتی زندگی میں ایک نکھار آسکے۔

جمشید نسر وانجی کراچی کے پہلے منتخب میئر تھے ،یہ انتخاب 1933ء میں ہوا مگر اس سے قبل بھی وہ بیس برس تک کراچی میونسپل کمیٹی میں خدمات انجام دیتے رہے تھے، جس کی جگہ کراچی میو نسپل کارپوریشن کی تشکیل ہوئی اور جمشید نسروانجی پہلے میئر منتخب ہوئے ۔یہ ایک بلدیاتی نظام تھا، جسے انگریز حکومت نے یکم نومبر1884ء کو قائم کیا تھا ۔ایسا نہیں ہے کہ انگریزوں سے پہلے یہاں کوئی سرکاری انتظام نہیں تھا ۔بلدیاتی یا شہری حکومت کسی بھی سیاسی حکومت کے تیسرے درجے میں آتی ہے اور ہمیشہ سے اسے ریڑھ کی ہڈّی شمار کیا جاتا ہے۔ 

دیبل، بھنبھور، موہن جو ڈارو وغیرہ میں عوامی سہولت کے اُمور،شہری تنظیم، خدمات فراہمی و نکاسیِ آب، شہری سڑکوں اور گلیوں میں روشنی کا اہتمام، یہ سب بلدیاتی نظام کے تحت ہی ہوا کرتا تھا اور ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا۔’’پٹیالی پُترا ‘‘ کی قدیم حکومت کے تحت چھہ بنیادی محکمے قائم کیے جاتے تھے، جن میں مزدوری کا تعین، صنعتی پیداوار اور رسد کا تعین، بیرونی شخصیات سے ملاقات کے معاملات، سیّاح اور غیر ملکی شخصیات ،رجسٹری اور سرکاری کاغذات کا تحفظ وغیرہ شامل تھے۔

اس کے علاوہ انتہائی ضروری محکمہ محصولات کی وصولیابی،تجارتی قوانین،اوزان کے قوانین،اجازتوں کے قوانین، لائسسنس اور دیگر اجازت نامے، بلدیہ کی تنظیم کے حِصّے تھے جس کا منتظم ’’ناگا ریکا ‘‘ (nagarika ) کہلاتا تھا، کوتوال بھی شہری امور کا ذمّہ دار تھا،یہ منتظم بادشاہ کا متعین کردہ ہوتا تھا، رگ وید میں پنچایت سسٹم کا ذکر ہے، یہی پنچ مشاورتی ادارے کے اراکین ہوتے تھے، یہ پنچایت سسٹم 1200قبل مسیح میں بھی قائم تھا۔

برٹش ایمپائر کے دور میں یہاں بھی اُن ہی کے قوانین لاگو ہوئے،میئر کا پہلا انتخاب 1884 میں ہوا اور جناب نسر وانجی کی شخصیت پہلے صدر کی صورت میں سامنے آئی،انتخابی حلقہ مختلف ذاتوں،گوتوں،اور مذہبی عناصر پر مشتمل تھا،اس کے بعد مختلف پارسی، مسلمان، ہندواور عیسائی لوگ اس ادارے کے سربراہ منتخب ہوئے، یہاں تک کہ پاکستان کے قیام کا زمانہ 1947ء تک آگیا،اُس وقت بلدیہ کے میئرحکیم محمد احسن تھے، جن کی خدمات 9مئی 1946ء تا 25مئی 1948 تھیں۔ان کے بعد غلام علی الانہ5جولائی1948ء تک رہے۔پہلے پارسی میئر جمشید نسروانجی مہتا تھے،پہلے ہندو میئر ٹیکم داس ودھو مَل ہوئے اور پہلے مسلمان میئر قاضی خدا بخش تھے۔ضیاء الحق کے زمانے میں غیرسیاسی انتخاب ہوا جس میں جماعتِ اسلامی کے عبدالستار افغانی میئر منتخب ہوئے۔

اب شہری حکومت کراچی میٹرپولیٹن کارپوریشن کے نام سے قائم ہے، جس میں حکومتِ سندھ کے لوکل گورنمنٹ قانون 2013 کے تحت تمام امور انجام دیے جارہے ہیں،بنیادی ڈھانچہ کچھ اس طرح ہے کہ اس کارپوریشن کے چھہ ذیلی کارپوریشن ہیں، یہ’’ DMCs کہلاتی ہیں، ان کے سربراہ چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین ہوتے ہیں،یہ ضلعے مرکزی، مغربی، مشرقی، جنوبی، ملیر اور کورنگی ہیں۔ ان ضلعوں کو مزید یونین کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو’’یو سی ‘‘کہلاتی ہیں۔ 

ان کے سربراہ چیئر مین اور نائب چیئر مین ہوتے ہیں۔ ہر یونین کمیٹی کے مزیدچار وارڈز ہوتے ہیں، یوسی چیئر مین اور وائس چیئر مین کا انتخاب براہِ راست ہوتا ہے، یوسی کے مزید چار اراکین بھی منتخب کیے جاتے ہیں،جن میں خواتین،غیر مسلم اقلیت، نوجوان نسل اور مزدوروں کی نمائندگی ہوتی ہے، لیکن یہ تمام نمائندگان ،چیئر مین اور نائب چیئر مین نامزد کیے ہوئے ہوتے ہیں۔

یونین کمیٹی کا چیئر مین ’’سٹی کونسل ‘‘ سے متعلق ہوتا ہے (KMC )،اور یہی لوگ میئر اور ڈپٹی میئر کو منتخب کرتے ہیں،جبکہ وائس چیئرمین یونین کمیٹی DMC کے چیئر مین اور وائس چیئر مین کو منتخب کرتا ہے۔DMC کے اہل کار ضلعی کارپوریشن کے دفاتر میں کام کرتے ہیں۔ عظیم الشان بلدیہ عمارت جو محمد علی جناح روڈ(بندر روڈ)پر واقع ہے ،اسی میں میئر اور ڈپٹی میئر کے دفاتر ہیں۔ اسی میں سٹی کونسل ہال واقع ہے،اور یونین کمیٹی کے 304اراکین کے دفاتر ہیں۔ اس عمارت کی بنیاد ۱1927ء میں رکھی گئی تھی،اور یہ تعمیر 1930 میں مکمل ہوئی۔

اُس زمانے میں یہ عمارت 17 لاکھ 25 ہزار روپئے میں تعمیر ہوئی تھی،اس کے پہلے منتخب میئر جناب جمشید نسروانجی مہتا تھے، جنہیں ’’بابائے کراچی‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ 7جنوری 1886 کو پیدا ہوئے اور ان کا انتقال یکم اگست 1952 کو ہوا،انہیں احتراماََ ’’میکر آف ماڈرن کراچی‘‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی جدید کراچی کا بانی۔

وہ پاکستان بوائے اسکائوٹ تنظیم کی ایک معروف اور اہم شخصیت تھے، انہوں نےاپنی تعلیم ڈی۔جے سائنس کالج کراچی اور بمبئی سے حاصل کی تھی،ان کا ایک بڑے کاروباری خاندان سے تعلق تھا،جن کا الفنسٹن اسٹریٹ پر ایک بڑا شو روم تھا، یہ سڑک اب زیب النسا اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ اس خاندان کی ملکیت میں سالٹ فیکٹری، ٹائل فیکٹری،آٹے کا مِل، اور برف کا کارخانہ بھی تھا۔

یہ 1918ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے کائونسلر منتخب ہوئے تھے، اس عہدے پر انہوں نے چھہ سال خدمات انجام دیں،جلد ہی وہ کارپوریشن کے صدر منتخب ہوگئے جہاں انہوں نے بارہ سال کام کیا،یعنی اپریل 1922ء تا اکتوبر1933ء،اسی سال وہ پہلے میئر منتخب ہوئے۔وہ سندھ مجلسِ قانون ساز کے بھی رکن تھے،انہیں بابائے اسکائوٹنگ بھی کہا جاتا ہے۔ڈپٹی چیف کمشنر آفس GHQ کے اعزازی خازن بھی تھے۔1922 میں جمشید کوارٹرز کی پوری اسکیم اُنہی کی سرکردگی میں تکمیل کو پہنچی۔ اُن کی یاد میں حکومتِ پاکستان نے 7جنوری 1988 کو ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا،جمشید میموریل ہال بندرروڈ ان ہی کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔

جمشید نسروانجی کے بعد اسی عہدے پر فائز چند مشہور شخصیات میں درگا داس ایڈوانی،حاتم علی علوی،محمد ہاشم گزدر،سہراب کیٹرک،یوسف عبداللہ ہارون، حبیب اللہ پراچہ،محمود ہارون،ملک باغ علی،صدیق وہاب،ایس ۔ایم توفیق اور اللہ بخش گبول صاحبان وغیرہ شامل ہیں۔ 1979ء میں صدر ضیاء الحق نے غیر سیاسی انتخابات کرائے مگر بہر حال امیدواروں کا کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق ضرور ہوتا تھا ،اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے ،مثلاََ اسی انتخاب میں عبدالستار افغانی میئر ہوکر آئے جن کا تعلق جماعتِ اسلامی سے تھا۔ دوسری بار بھی یہی کامیاب ہوئے،پھر فاروق ستار،نعمت اللہ خاں، مصطفیٰ کمال اور وسیم اختر وغیرہ منتخب میئر تھے۔

اب کیا کوئی ایسی شخصیت ہے جسے کہا جاسکتا ہو کہ وہ کراچی کا کرتا دھرتا ہے یا رکھوالا ہے؟ اب تو کراچی کی سڑکوں پر لکھنا پڑتا ہے کہ’’ کراچی کو اپناؤ ،own کرو ‘‘،جب ایسی باتیں دیواروں پر نعروں کی شکل میں لکھی جائیں تو شہر کا اللہ ہی حافظ و ناصر ہے۔