• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

یہ ایک نہایت واضح لیکن تلخ حقیقت ہے کہ بحیثیت امت محمدیہ ﷺ اور اس کے آخری نبی و رسول ﷺ پر ایمان رکھنے کے باوجود ہم اپنی عملی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور بہت دور ہیں، اس کے باوجود اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں چند ایسے ایام اور مہینے عطا فرمائے ہیں کہ جن کے آتے ہی ہمارے شب و روز کا رنگ بدل جاتا ہے اور ہماری زندگیوں میں ایسی مثبت تبدیلی رونما ہو جاتی ہے کہ جس کے زیرِ اثر کمزور سے کمزور ایمان اور بد تر سے بدتر کردار کے حامل مسلمان کی زندگی میں بھی اسلامی تعلیمات کا کوئی نہ کوئی جُزو ، حصہ، اصول، طریقہ یا حکم عمل کا روپ دھار لیتا ہے۔

ایسا ہی ایک رحمت و برکت والا مہینہ ’’ربیع الاوّل‘‘ بھی ہے کہ جس کے آتے ہی ہمارے اندر عشقِ رسالت ﷺ کی مدھم ہوتی روشنی پوری توانائی کے ساتھ فروزاں ہو جاتی ہے اور ہمارے قلب و نظر کے ویرانے، ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کی تابانیوں سے جگمگا اٹھتے ہیں، ہمارے گھر گھر ، قریہ قریہ ، کوچہ کوچہ، ذکرِ خیر الانام ﷺکے نغموں سے گونچ اٹھتے ہیں۔ ہمارے محلوں ، دیہاتوں اور شہروں کی فضائیں درود و سلام کے نذرانوں سے معمور ہو جاتی ہیں۔

لیکن اس عشق و محبت ، وارفتگی و سرشاری میں ہم اس بات کو یکسر فراموش کر جاتے ہیں کہ آخر وہ کیا مقصد و مشن تھا کہ جسے لےکر اللہ کے آخری رسول ﷺ ’’حریمِ اسریٰ‘‘ کی بلندیوں اور عرش ِ اعلیٰ کی رفعتوں سے دنیا والوں کی طرف تشریف لائے اور یہ کہ آپ ﷺ جس وقت نبی بن کر دنیا میں مبعوث ہوئے اس وقت دنیا کی معاشرتی ، اخلاقی اور مذہبی حالت کیا تھی۔

آفتابِ نبوت ﷺ کے طلوع کے وقت دنیا پر کفر و شرک اور گمراہی و جہالت کی گہری گھٹا ٹوپ اندھیری رات چھائی ہوئی تھی۔ انسان خوف اور حزن کے عالم میں راہِ گم کردہ ٹھو کریں کھا رہا تھا۔ خالقِ کائنات کی وحدانیت کا تصور انسانی ذہن سے مٹ چکا تھا ۔ زمین پر ہر طرف فساد برپا تھا۔ قتل و غارت ، ظلم و ستم، بداخلاقی و بے حیائی کا بازار گرم تھا۔ ان بدترین معاشرتی حالات میں اللہ کے آخری رسول ﷺ اللہ کی طرف سے انسانوں کی اخلاقی و معاشرتی، سیاسی و مذہبی اصلاح کا مقصد اور ذمہ داری لے کر دنیا میں تشریف لائے، ایسے بگڑے ہوئے معاشرے کے بے راہ رو اور بے مہار انسانوں کہ جن کی تہذیب و تربیت مشکل ہی نہیں نا ممکن تھی، کے سامنے اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا اسوۂ حسنہ نسخۂ کیمیا کے طور پر پیش کیا اور سماج کی پوری طاقت کے خلاف ہمہ گیر جدوجہد کرتے ہوئے اپنی فہم و فراست اور حکمت و بصیرت سے معاشرے کی ایک ایک برائی اور خرابی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور ایک ایسے اعلیٰ انسانی اوصاف و اخلاق کے حامل معاشرے کی بنیاد رکھی کہ جس میں بت تراش، بت شکن ،رہزن، رہبر بن گئے۔ 

فاسق و فاجر مقدس و پاک طینت بن گئے جو مردہ دل تھے، وہ دلوں کو زندہ کرنے والے بن گئے ، جانوروں کو پانی پلانے پر جنگیں کرنے اور خون بہانے والے اپنی جان دےکر دوسروں کی پیاس بجھانے والے بن گئے، اس ذاتِ اقدس کے اسوۂ حسنہ کے نور سے ایسے عظیم انسان تیار ہوئے کہ جو قرآن و دین کے صرف راوی ہی نہیں ،بلکہ خود دین اور اسوۂ حسنہ کا چلتا پھرتا نمونہ بن گئے۔ وہ رضائے حق کی علامت بن کر قیامت تک کے لئے ’’رضی اللہ عنہم و رضواعنہ‘‘ کے لقب اور اعزاز سے سرفراز ہوئے اور امت نے ہمیشہ اُن کے سیرت و کردار کو اپنے لئے مشعل راہ اور نمونہ عمل سمجھا۔

اگر ہم بحیثیت ’’امتِ محمدیہ‘‘ اپنی حالت پر غور کریں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آج ہمارا معاشرہ بھی بگاڑ اور خرابی کے اُسی دوراہے پر کھڑا ہے جس پر اللہ کے رسول ﷺ کی اس دنیا میں آمد کے وقت انسانیت کھڑی تھی۔ دورِ جاہلیت کا کوئی ایسا عیب اور کوئی ایسا فتنہ نہیں کہ جس میں ہم بحیثیت قوم کے مبتلا نہ ہوں ۔ معاشرتی بگاڑ اور جاہلانہ رسم و رواج کی زنجیروں نے ہمیں اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آج ان اخلاقی و روحانی ، معاشرتی و مذہبی خرابیوں کی اصلاح کیسے ہو اور اصلاح کا کام کون کرے؟ اس کا جواب اور علاج علامہ اقبالؔ کی زبان میں یہ ہے کہ ؎

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

یعنی اقبال کی نظر میں اس معاشرتی بگاڑ کا علاج فرمانِ خداوندی ’’ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ‘‘ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقۂ ’’تربیت و تزکیہ اور آپ ﷺکا اسوۂ حسنہ‘‘ ایسا حکیمانہ ہے کہ اسے جب بھی معاشرتی اصلاح کے لئے اختیار کیا گیا تو وہ تازہ بہ تازہ ،نو بہ نو کی صورت میں نظر آیا، آج بھی ہمیں اپنے معاشرے کی اصلاح اور اخلاقی امراض سے شفائے کامل کے لئے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کے اسی نسخہ ٔ کیمیا کی طرف رجوع کرنا ہوگا ۔

رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ وہ معجز نما نمونۂ عمل ہے کہ جس سے ہر انسان ، مرد و عورت سبق لے سکتا ہے۔ جس سے ایک بچہ سبق لے سکتا ہے تو ایک بوڑھا بھی سبق لے سکتا ہے جس سے ایک بیٹا سبق لے سکتا ہے تو ایک باپ بھی سبق لے سکتا ہے۔ جس سے ایک ماں سبق لے سکتی ہے تو ایک بیٹی بھی سبق لے سکتی ہے ، جس سے ایک عالم سبق لے سکتا ہے تو ایک عامی بھی سبق لے سکتا ہے۔جس سے ایک استاد سبق لے سکتا ہے تو ایک شاگرد بھی سبق لے سکتا ہے،جس سے ایک فاتح سبق لے سکتا ہے تو ایک مفتوح بھی سبق لے سکتا ہے جس سے ایک جنرل سبق لے سکتا ہے تو ایک سپاہی بھی سبق لے سکتا ہے ،جس سے ایک حاکم سبق لے سکتا ہے تو ایک محکوم بھی سبق لے سکتا ہے جس سے ایک افسر سبق لے سکتا ہے ، تو ایک ماتحت بھی سبق لے سکتا ہے، جس سے ایک تاجر سبق لے سکتا ہے تو ایک خریدار بھی سبق لے سکتا ہے،جس سے ایک عابد و زاہد سبق لے سکتا ہے تو ایک دنیادار بھی سبق لے سکتا ہے ،جس سے ایک سخی سبق لے سکتا ہے تو ایک فقیر بھی سبق لے سکتا ہے،جس سے ایک پیر سبق لے سکتا ہے تو ایک مرید بھی سبق لے سکتا ہے، ان سب سے بڑھ کر ایک فرد سبق لے سکتا ہے تو ایک پوری قوم بھی سبق لے سکتی ہے۔ غرض یہ کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنے اپنے شعبۂ زندگی میں اور اپنے کاروبار حیات میں اسوۂ حسنہ سے سبق نہ لے سکتا ہو۔