• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا‘، ’گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا‘۔ وقت کی اہمیت پر یہ اور اس جیسی کئی کہاوتیں، اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہم سب نے سُن رکھی ہیں۔ ان کہاوتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لیے وقت کا مؤثر اور کارگر استعمال انتہائی ضروری ہے۔ وقت کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے بروقت کام انجام دینا ایک بہترین ہنر ہے، جس سے ہر شخص واقفیت نہیں رکھتا۔ 

ہم وقت کے مؤثر استعمال کے مفید مشورے (ٹِپس) مینجمنٹ کی کتابوں، کامیاب لوگوں کے ترغیبی اقتباسات، حوصلہ نہ ہارنے کا سبق دینے والی فلمیں یا کسی نئی تحقیق سے حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان تمام ذرائع سے وقت کو پیداواری بنانے کی ٹپس حاصل کرنا ایک مشکل طلب کام ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے وقت کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی کچھ ماہرین کی تجاویز ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔

ایک منٹ میں ہوجانے والا کام فوراً کر ڈالیں

’ایک منٹ کا قانون (One-minute Rule) پر عمل کریں اور ہر وہ کام فوری کر ڈالیں، جسے ایک منٹ میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ کسی ضروری دستاویز کو فائل کرنا، فون پر بہت پہلے سے آئے ہوئے شارٹ میسیج یا ای میل کا جواب دینا، جلدی میں صوفے، بیڈ یا کرسی پرپھینک دیے جانے والے کوٹ کو الماری میں لٹکانا اور اس جیسے دیگر کئی چھوٹے چھوٹے کام۔ یہ تمام کام اس تیزی سے پلک جھپکتے میں ہی کیے جاسکتے ہیں، اگر آپ واقعتاً چاہیں تو اس قانون پر عمل کرنا انتہائی آسان بن جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد کرکے بڑے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں‘۔

(گریچین روبین، مصنّفہ Better Than Before اور The Happiness Project)

کام کے وقت فون دور رکھیں

’اگر فون سے دوری آپ کے کسی کام کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں ڈالتی تو دوپہر کے کھانے تک فون کو خود سے دور رکھیں یا پھر دوسرے کمرے میں رکھ دیں۔ اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ جب میرا فون میرے ساتھ رہتا ہے، میں بھی باقی سب کی طرح بن جاتا ہوں جیسا کہ ہر تین منٹ بعد خوامخواہ فون چیک کرنا۔ جب میں فون کو دوسرے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں تو میری توجہ نہیں بٹتی اور صبح میں کسی خلل کے بغیر تین سے چار گھنٹے مسلسل اپنے اہداف پر کام کرلیتا ہوں ‘۔

(جیمز کلیئر، مصنّف Atomic Habits)

سوچنے کیلئے وقت نکالیں

’میں حساس اور اہم مسائل پر گہری سوچ بچار کرنے کے لیے اپنے کیلنڈر میں اس طرح وقت مختص کرتا ہوں جیسے کوئی میٹنگ یا اپائنٹمنٹ ہو اور اگر کوئی اس وقت میری توجہ حاصل کرنا چاہے تو میں مصروفیت بتاکر معذرت کرلیتا ہوں۔ اس سادہ تکنیک سے مجھے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میں اپنا کام تندہی کے ساتھ کرپاتاہوں۔ اس دوران میں کوئی کام زیادہ تیزی اور دیگر کام سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں، جس سے میں اندازہ لگاتا ہوں کہ اس طرح کی سرگرمیاں میرے شیڈول میں کس طرح کا کردار ادا کررہی ہیں‘۔

(کال نیوپورٹ، ایسوسی ایٹ پروفیسر جارج ٹاؤن یونیورسٹی، مصنّف Deep Work)

اپنی ترجیحات کا تعین کریں

’ہر جمعہ کے دن، میں آنے والے ہفتے کا سوچتی ہوں۔ میں تین کیٹیگریز میں اپنی ترجیحات کی فہرست بناتی ہوں: پیشہ ورانہ زندگی، سماجی تعلقات اور میری ذات۔ تین کیٹیگریز کی فہرست یاد دِلاتی ہے کہ مجھے آنے والےہفتے کے دوران ان تینوں کےلیےکچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ یہ میرے لیےمتوازن زندگی گزارنے کی کا ایک یقینی طریقہ ہے۔ فہرست بنانے کے بعد میں آئندہ ہفتے کا کیلنڈر اُٹھاتی ہوں اور چیزوں کے لیے وقت کا تعین کرتی ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ ترجیحی فہرست کو کاغذ پر تحریر کیا جائے‘۔

(لارا وینڈرکیم، مصنّفہ Off the Clock)

15منٹ کی فہرست بنائیں

’سستی، کاہلی اور چیزوں کو تاخیر میں ڈالنے اور ملتوی کرتے رہنے کی عادت سے جان چھڑائیں اور پورے دن کے لیے 15منٹ کی فہرست بناکر کام کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں مکمل کرنے کی عادت پیدا کریں۔ یہ آپ کے ان کاموں کی فہرست ہے، جس میں درج ہر کام کو 15منٹ کے انفرادی دورانیہ میں کیا جاسکتا ہے۔ آپ روزانہ کی اس فہرست کو اپنے ساتھ رکھیں اور اس پر لائن میں کھڑے ہوکر انتظار کرنے کے دوران بھی عمل کریں۔ 

یہ فہرست آپ کو سست پڑنے سے روکے گی۔ ان میں سے کچھ کام ایسے بھی ہونگے، جو 15منٹ سے بہت پہلے مکمل کیے جاسکیں گے، پھر ان فارغ لمحات میں آپ چہل قدمی کریں، اپنے کسی پیارے سے فون پر بات کریں وغیرہ۔ اس طرح آپ خود کو اگلا زیادہ چیلنجنگ اور زیادہ پیچیدہ پروجیکٹ کرنے کے لیے تیار پائیں گے‘۔

(کارسن ٹیٹ، مصنّفہ Work Simply)

ہر دن کیلئے تین اہداف مقرر کریں 

’وقت کے استعمال کو مؤثر بنانے کا میرا پسندیدہ فارمولا Rule of Threeہے۔ ہر دن کے آغاز پر میں خود سے پوچھتا ہوں: ایسے کون سے تین کام ہیں، جو میں چاہتا ہوں کہ آج کا دن ختم ہونے سے پہلے مجھے کرلینے چاہئیں؟‘ میں چند منٹ میں ضروری اور غیر ضروری چیزوں کا تعین کرلیتا ہوں۔ اگر آپ اپنے وقت کو کارآمد بنانے کے لیے ایک درجہ اور اُوپر جانا چاہتے ہیں تو میں تجویز کروں گا کہ آپ اپنے لیے ہر ہفتے اور ہر مہینے کے لیے بھی تین، تین اہداف کا تعین کریں، جو روزانہ کے اہداف سے الگ ہوں۔ 

اپنی توانائی اور حدود کا تعین کریں اور آسائش کے دائرے سے باہر آئیں۔ آسائش کا دائرہ آپ کے اندر موجود آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے، جسے کسی باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں‘۔

(کرس بیلی، مصنّف A Year of Productivity)