• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعات کی تیاری میں صارفین کی ترجیحات کو فوقیت دینا

جیسے ہی ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوئے تو انٹرنیٹ کی بدولت کاروباری دنیا میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور ای کامرس کا کردار کہیں زیادہ بڑھ گیا، جس نے لامحدود امکانات کو پیش کیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں مصنوعات کی تیاری یا خدمات کی فراہمی میں صارفین کی پسند ناپسند کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں صارفین اور کمپنیوں کے مابین تعلق پر روشنی ڈالی جارہی ہے ۔

چوائس بورڈ کا دور

صارفین نے ایک طرح سے مصنوعات کے ڈیزائن پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے، ایسے میں صنعتوں کے مابین مقابلہ نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ کمپنیاں وہی مصنوعات بناتی ہیں ، جو کہ ان کے مطابق صارفین پسند کرتے ہیں اور خریدار وہی خریدتے ہیں جو انھیں پیش کیا جاتا ہے۔ خریداری کے مقام (Point of sale) پر کچھ معمولی ردوبدل کی جاسکتی ہے جیسے کہ چند اختیاری خصوصیات یا اضافہ لیکن صارفین کی پسند ناپسند کا خیال مصنوعات کی خریداری سے قبل ہی رکھ لیا جاتا ہے۔ 

تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مستقبل کی مانگ کے حوالے سے پیش گوئیاں اکثر غلط بھی ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹورز، اخبارات اور کیٹلاگ کے صفحات سیل، فیکٹری قیمت اور دیگر مراعات کے اعلانات سے بھرے ہوتے ہیں۔ مصنوعات کی فروخت نہ ہونے سے مایوس ہوجانے والے دنیا بھر کے ریٹیلرز اور مینوفیکچررز ہر سال لاکھوں ڈالرز ڈسکاؤنٹ کی مد میں خرچ کرتے ہیں تاکہ ان کی کافی عرصہ سے اسٹاک میں پڑی ہوئی مصنوعات فروخت ہوجائیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مینوفیکچرنگ کے عمل میں سپلائی لائن کو ٹھوس معلومات کی بنا پر صارفین کی ڈیمانڈ کا پہلے سے ہی اندازہ ہو۔

پروڈکٹ ٹیکر سے پروڈکٹ میکر تک

انٹرنیٹ کی بدولت سپلائر اور صارفین کے مابین بالآخر رابطہ ممکن ہوا ہے۔ مارکیٹ چاہے کوئی بھی ہو، اب صارفین اپنی مطلوبہ چیز کے بارے میں آگاہ کرسکتے ہیں اور سپلائرز وہ مطلوبہ مصنوعات یا سروس بغیر کسی سمجھوتے یا تاخیر کے فراہم کرسکتے ہیں۔ 

اس تبدیلی کو چوائس بورڈ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آن لائن سسٹم انٹرایکٹو ہے، جس میں صارفین انفرادی سطح پر اپنی مطلوبہ مصنوعات کو مہیا کی گئی صفات، اجزاء، قیمتوں اور ترسیل کے مطابق انتخاب کرکے انہیں خود ڈیزائن کرسکتے ہیں۔ صارفین کے انتخاب سپلائر کے مینوفیکچرنگ سسٹم کو سگنل بھیجتے ہیں جو خریداری ، اسمبلی اور ترسیل کے عمل کو حرکت میں رکھتے ہیں۔

اس نظام میں صارفین کا کردار ایک خریدار سے بڑھ کر فعال ڈیزائنر کی جانب منتقل ہوگیا ہے۔ یہ تبدیلی معیشت میں صارفین کے کردار کے طویل المیعاد ارتقا کا ایک مرحلہ ہے۔ بیسویں صدی کے بیشتر عرصے میں صارفین ’پروڈکٹ ٹیکر‘ اور ’پرائس ٹیکر‘ تھے ، جو سپلائرز کی مقرر کردہ قیمتوں پر مصنوعات خریدا کرتے تھے۔ تاہم، گزشتہ دو دہائیوں سے صارفین نے خریداری کے عمل پر زیادہ قوت حاصل کرکے ’پرائس ٹیکر‘ بننا بند کر دیا ہے۔ 

مزید اختیارات اور معلومات سے لیس ہونے کے بعد اب صارفین زیادہ سودے بازی کے ذریعے کم قیمتیں حاصل کرلیتے ہیں مگر صارفین اب بھی ’پروڈکٹ ٹیکر‘ ہی ہیں۔ سپلائرز اپنی پیشکشوں میں تبدیلی لاکر انہیں صارفین کی پسند یا معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن صارفین بالآخر اپنی پسند سے قریب تر مصنوعات خریدنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ چوائس بورڈ سسٹم کے ہوتے ہوئے صارفین اب ’پروڈکٹ ٹیکر‘ نہیں بلکہ ‘پروڈکٹ میکر‘ ہیں۔

چوائس بورڈ کا غلبہ

چوائس بورڈز پہلے ہی کئی صنعتوں میں استعمال میں ہیں جیسے کہ صارفین آن لائن کنفیگریٹر کے ساتھ اپنا کمپیوٹر خود ڈیزائن کر سکتے ہیں، دنیا کے مقبول ترین برانڈ کی گڑیا ڈیزائن کرواسکتے ہیں۔ تاہم یہ صنعتوں کی مجموعی فروخت کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔ اس کی تین وجوہات ہیں، پہلی چوائس بورڈ کے عمل کا عام نہ ہونا کیونکہ بہت سے مینوفیکچررز چوائس بورڈ ماڈل کے ذریعے کاروبار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ 

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے پورے مینوفیکچرنگ اور سیلز کے نظام کی تشکیل نو کی جائے۔ دوسری انتہائی ذمہ دار سپلائی نیٹ ورک کی کمی، جو ضرورت کے مطابق اجزاء اور خدمات فراہم کر سکے۔ تیسری اور سب سے اہم، چوائس بورڈ استعمال کرنے والے صارفین کی کمی ہے۔

مقابلے کی شرائط کو تبدیل کرنا

چونکہ چوائس بورڈز صارف کی ترجیحات اور روّیے کے بارے میں درست معلومات اکٹھی کرتے ہیں، اس لیے وہ کمپنیوں کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ صارفین کی وفاداری (Loyalty) یقینی بناسکیں۔ ہر خریداری کے ساتھ، کمپنی کو اپنے صارف کی پسند نا پسند کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ صارف کی ضروریات کا اندازہ لگانے اور اسے پورا کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ صارفین کی معلومات کو پوری پروڈکٹ لائنز کے ارتقاء کی رہنمائی اور ابتدائی مراحل میں ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

ایسے میں حریف کمپنی یا مصنوعات کے لیے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چوائس بورڈز اہم سپلائرز کو بھی راغب کرتے ہیں، جو صارفین کی جانب سے مانگ کے حوالے سے درست اور بروقت معلومات کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ آجکل بیشتر صنعتوں میں اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہے مگر صارفین سے بہتر تعلقات (Customer relationship)کو اہمیت دینے کی کمی ہے۔ وہ کمپنیاں جو چوائس بورڈز کو کنٹرول کرتی ہیں، وہ صارفین سے تعلق کو بھی کنٹرول کرتی ہیں، یہی وہ کمپنیاں ہوتی ہیں جو کسی بھی صنعت میں اہم پوزیشن رکھتی ہیں اور ان کا منافع میں حصہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

چوائس بورڈز کی جنگ

ایک بار جب کوئی کمپنی کسی صنعت میں چوائس بورڈ کو کنٹرول کر لیتی ہے، تو وہ صارفین کی حاصل کردہ معلومات کو نئی صنعتوں میں اپنا کاروبار کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہے۔ دنیا بھر میں کمپنیوں کے مابین چوائس بورڈز کی ایک جنگ جاری ہے۔ تاہم اس میں فاتح وہی ہوں گے جو بہترین ڈیزائن کردہ چوائس بورڈز، سب سے زیادہ ذمہ دار سپلائر نیٹ ورکس اور صارفین سے بہتر تعلقات کے حامل ہوں گے۔ 

کمپنیاں صارفین کے اطمینان کی سطح، ان کی خریداری کے ارادوں اور ان کی ضروریات و ترجیحات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے چوائس بورڈز کا استعمال کرتی ہیں۔ تجزیاتی (Analytical)تکنیکس کے ذریعے ، کمپنیاں معلومات کو استعمال کرتے ہوئے تقریباً تمام پروڈکٹس اور سروسز کیٹیگریز میں صارفین کی ضروریات اور رویے کی پیش گوئی کرتی ہیں۔ ایک ہی جگہ پر تمام چیزوں کی خریداری نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے اور تجارت نے بالکل نئی شکل اختیار کرلی ہے۔

ای کامرس کا دور

ریٹیل کاروبار کے ساتھ ڈپارٹمنٹل اسٹورز کھولنے کا آغاز ہوا اور اس کے بعد میگا ڈسکاؤنٹ ڈپارٹمنٹل اسٹورز کی ابتدا ہوئی۔ ای کامرس کے مقبول ہونے سے گھر بیٹھے لوگوں کو اپنی مطلوبہ اشیا کی دستیابی ممکن ہوگئی۔ ای کامرس کاروبار کرنے والوں میں ریٹیلرز اور ہول سیلرز دونوں ہی شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی ایپس اور اسٹارٹ اَپ کمپنیوں نے لوگوں کا طرزِ زندگی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب اچھے سے اچھے برانڈ کی مصنوعات بآسانی آن لا ئن مل جاتی ہیں اور صارفین کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ اپنے طور پر بہتر چیز منتخب کرسکیں۔ صارفین آن لائن شاپنگ کے ذریعے وقت کے ضیاع اور جسمانی تھکاوٹ سے بھی بچ جاتے ہیں کیونکہ اس کام کے لیے انہیں بازار نہیں جانا پڑتا اور وقت کی بھی کوئی قید نہیں۔ 

اگر آپ کسی ایک برانڈکا سامان خریدنا چاہتے ہیں تو اس کی قیمت کا موا زنہ دوسرے برانڈسے کر سکتے ہیں، اسی طرح ریل یا ہوائی جہاز کا ٹکٹ لینا چاہیں تو اس کے لئے بھی آن لائن ویب سائٹس پر جاکر کرائے معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ زندگی کے لوازمات کا ہر سامان انٹرنیٹ پر موجود شاپنگ ویب سائٹس پر دستیاب ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے میں جب چاہیں آپ خریداری کرسکتے ہیں اور یہ محض انگلی کی ایک جنبش پر منحصر ہے۔ آن لائن خریداری ان خواتین کیلئے بہترہے جو مصروفیت کے باعث بازار نہیں جا سکتیں یا جو رَش میں چلنے پھرنے اور دکانداروں سے بھاؤ تاؤ کرنے سے گھبراتی ہیں۔