• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان نے اصول نہیں اقتدار کیلئے ادارے پر حملہ کیا، مریم نواز، ہماری اداروں سے دشمنی نہیں گلہ ہے، فضل الرحمٰن


فیصل آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پنجاب کے لوگ اٹھیں گے تو سارے ملک کا حوصلہ بڑھے گا اور انقلاب کا راستہ ہموار ہو گا، پی ڈی ایم آگے بڑھے گی اور اس کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ کر کے دم لیگی، اب ہم مسلسل سڑکوں پر رہیں گے اور قوم کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، جب لوگ خودکشی پر مجبور ہوجائینگے تو پارلیمنٹ کی حیثیت کیارہ جائیگی۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اصول نہیں اقتدار کیلئے اداروں پر حملہ کیا، نواز دور میں کھانے پینے کی اشیاء، پیٹرول کی قیمت کیا تھی اور آج؟ تو چور کون ہے؟ عمران نے پوری قوم کو رلانے کا وعدہ پورا کردیا، عوام آپکی حکومت کا تیا پانچا کرنے کو تیار بیٹھے ہیں، تمام لوگ سن لیں اپنی تقدیر بدلنے کا وقت آگیا ہے، عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دینگے۔

اویس نورانی نے کہا کہ عمران خان سمیت ہر وزیر مشیر کا احتساب ہو گا، ساجد میر نے کہا اجتماعی استعفے یا اسلام آباد جا ئینگے،محمود خان اچکزئی نے کہا، جمہوری قوتیں پنجاب اور نواز شریف کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ 

ان خیالات کا اظہار پی ڈی ایم رہنمائوں نے دھوبی گھاٹ گرائونڈ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی کشمیر کا سودا کر دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا احتساب کرنے والے عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارا احتساب کا ڈرامہ ختم ہوا اب پی ڈی ایم تمھارا احتساب کریگی۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کی متبادل اقتصادی قوت بننے جا رہا ہے تو پاکستان پر دباو بڑھ رہا ہے۔ جو ادارے ریاست کی بقا کے ذمہ دار ہیں انہوں نے دھاندلی کر کے عمران خان کو اقتدار دیا۔ 

آئین نے ہر ادارے کا دائرہ کار مقرر کیا ہے جو ادارہ آئین کی حد سے باہر جائیگا اسکی مخالفت کرینگے۔انہوں نے کہا کہ چین جس کی پاکستان سے دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں آج وہ بھی ہم سے ناراض ہے اور امریکا و یورپ نے بھی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دوسروں پر چور چور کہنے والے عمران خان نے خود بیرون ملک سے تحفے میں ملنے والی گھڑیاں بھی بیچ دی ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا احمق ہو جس نے تحفے میں ملنے والی گھڑی بیچی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری،غربت اور مہنگائی کے مارے عوام نے خودکشیاں شروع کیں تو پارلیمنٹ کی کیا حیثیت رہ جائیگی۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا نواز شریف نے اپنا معاملہ اللّٰہ تعالی پر چھوڑا تھا جسکی وجہ سے آج ایک پیج پر ہونے کے باوجود تاریخی ذلت اور رسوائی ظالم کا مقدر بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خلق خدا سے سوال پوچھنا چاہتی کہ کیا آج نواز شریف کے مخالفین کو اللّٰہ تعالی نے نشان عبرت بنایا ہے یا نہیں۔ 

ماضی میں ایک شخص عمران خان کہا کرتا تھا کہ جب آٹا مہنگا ہو جائے تو سمجھ جائو کہ وزیر اعظم چور ہے، جب چینی مہنگی ہو جائے تو سمجھ جاو کہ وزیر اعظم چور ہے۔ نواز شریف کے دور میں چینی 50 روپے کلو تھی آج تین سال بعد چینی 115 کراس کر چکی ہے۔ 

نواز شریف کے دور میں روٹی پانچ روپے کی تھی آج 25 روپے کی ہے تو چور کون ہے؟ نواز شریف کے دور میں بجلی پانچ، چھ روپے یونٹ تھی آج 25، 26 روپے ہو چکی ہے تو چور کون ہے؟ نواز شریف کے دور میں پیٹرول 70 روپے لیٹر تھا آج 137 روپے ہے تو چور کون ہے؟ نواز شریف کے دور میں کوکنگ آئل 165 روپے تھا آج 365 روپے ہے تو چور کون ہے؟ 

انہوں نے کہا کہ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو دنیا کی ہر چیز مہنگی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا عمران خان نے صرف ایک وعدہ پورا کیا ہے کہ ʼ میں ان کو رلاوں گا اور آج پوری قوم رو رہی ہے اور جھولیاں اٹھا اٹھا کر عمران خان کو بددعائیں دے رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے آج فون کر کے انہیں کہا کہ ان کی طرف سے بھی عوام سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہنا کہ جب تم پر تکلیف آتی ہے تو نواز شریف کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ لوگ نواز شریف اور شہباز شریف کو یاد کر رہے ہیں۔ 

مریم نواز نے کہا کہ دوسروں کو نیب کے ذریعے احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنانے والے کی جب اپنی باری قریب آئی تو چیئرمین نیب کو ایکسٹینشن دیکر خود کو ہی این آر او دیدیا۔ غیر ملکی سربراہان مملکت سے تحفے لے کر جیب میں ڈال لئے اور اب کہا جا رہا ہے کہ تحفوں کے بارے میں بتایا تو دوست ملک ناراض ہو جائیں گے۔ 

پینڈورا پیپر میں تحریک انصاف کی جماعت اول نمبر پر آئی ہے جبکہ قوم کو کہا جا رہا ہے کہ اس میں عمران خان کا نام نہیں آیا۔ کیا کبھی کسی نے سنا ہے کہ چوروں کا جو سردار ہے وہ بڑا ایماندار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کہاں ہے وہ جے آئی ٹی، کہاں ہے اس جے آئی ٹی کے ہیرے اور وہ جسٹس کھوسہ جس نے عمران خان سے کہا کہ تم درخواست میرے پاس لاو اور پھر نواز شریف کو سازش کر کے اقتدار سے باہر کر دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اب میڈیا پینڈورا پیپر پر روز پروگرام کیوں نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکافات عمل ہے کہ جو کہتا تھا کہ نواز شریف غیر ملکیوں کے سامنے پرچی سے پڑھتا ہے اور آج خود پرچی دیکھ کر بھی غلط پڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی بے عزتی کروا رہا ہے۔ 

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کہتا تھا کہ نواز شریف اداروں سے لڑتا ہے اور فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتا ہے حالانکہ نواز شریف نے جب بھی اسٹینڈ لیا تو عوام کیلئے اسٹینڈ لیا۔ جب بھی ٹکراو ہوا تو عوام کے ووٹ اور سویلین بالادستی کیلئے تھا۔ 

نواز شریف نے اس پالیسی کی اتنی بڑی قیمت ادا کی ہے کہ اپنی تین قیمتیں گنوائیں، جیل کاٹی، بیٹی کو جیل جاتے دیکھا، اٹک قلعے میں قید برداشت کی لیکن جب عمران خان کی باری آئی تو صرف فوج کے ادارے پر حملہ نہیں کیا بلکہ خودکش حملہ کیا۔ ایک شخص کو کرسی پر رکھنے کیلئے تاکہ وہ اس کی کرسی بچاتا ہے، اس کی حکومت چلاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آج کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس نے چارج رکھنا ہے یا چھوڑنا ہے، کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ تمہارا حساب کتاب درست نہیں چل رہا، فوج کی تقرریاں وزیر اعظم نہیں کر رہا بلکہ جن بھوت کر رہے ہیں۔ 

یہ تقرریاں اس بات سے ہو رہی ہیں کہ فلاں کا نام ع سے شروع ہو رہا ہے کہ ف سے شروع ہو رہا ہے یا ل سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ تم نے کسی اصول کی خاطر نہیں بلکہ اپنے اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کیلئے فوج کی تقرریوں کو مذاق بنایا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جس نے پاکستان کا بیڑا غرق کر دیا وہ افغانستان کی صورتحال میں ملک کو کیا فائدہ پہنچائے گا۔ عمران خان جانتا ہے کہ اگر یہ ایک شخص اپنی کرسی سے ہٹا تو دو دن میں اس کی حکومت منہ کے بل زمین پر آ گرے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بصیرت کو سلام ہے جس نے چار سال قبل ہی کہہ دیا تھا کہ عمران خان جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے اور آج اسے تھالی میں سجا کر دینے والوں کا ایسا حشر ہوا ہے کہ انہیں خود بھی یقین نہیں آ رہا ہے کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ میں حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ یہ تقرری وزیر اعظم کا اختیار اور استحقاق ہے لیکن عوام کا وزیر اعظم چننا عوام کا استحقاق ہے۔ اس لئے پہلے عوام کو استحقاق دیا جائے کہ وہ اپنا وزیر اعظم چنیں پھر وہ اپنا استحقاق استعمال کرے۔ 

بھلے عمران خان سلیکٹڈ ہے ہم پھر بھی اس کے ساتھ کھڑے ہو سکتے تھے اگر اس نے کہیں بھی جمہوری رویہ اپنایا ہوتا۔ اس نے یہ اسٹینڈ آئین کی خاطر نہیں لیا بلکہ آئین کو تار تار کرنے کیلئے فوج کی تقرریوں کا تماشا بنایا ہے۔ قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوتی اگر اس نے میڈیا پر قدغنیں نہ لگائی ہوتیں، اگر اس نے عدلیہ کا چہرہ داغدار نہ کیا ہوتا۔ 

انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی بھول میں نہ رہنا کہ تم نواز شریف بن سکتے ہو کیونکہ شیر کی کھال پہن کر کوئی گیڈر شیر نہیں بن سکتا ہے۔ عوام تمہارا گریبان پکڑنے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری اور ووٹ چوری کرنے والوں سے حساب لینے کا وقت آ گیا ہے۔ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے، اس ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام شاہ محمد اویس نورانی نے کہا پی ڈی ایم کے آغاز میں ساتھ دینے والے چند دوست ساتھ چھوڑ گئے تو حکومت نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ پی ڈی ایم ختم ہو گئی لیکن آج کے جلسے میں عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر بتا رہا ہے کہ بکسے چوری کر کے اقتدار میں لائے گئے کٹھ پتلی کا انجام قریب ہے۔ 

عمران خان سمیت ہر وزیر اور مشیر کا احتساب ہو گا۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر ساجد میر نے کہا پی ڈی ایم کی قیادت ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے اجتماعی استعفوں یا اسلام آباد جانے کا جلد فیصلہ کریگی۔

نواز شریف کی قیادت میں ملک ترقی اور خوشحالی کی طرف جا رہا تھا کچھ سلیکٹرز نے پاکستان اور عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کو اقتدار دیا جس نے تین سال کے عرصے میں پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا مساوی حقوق مانگنے پر بلوچوں کو مظالم کا نشانہ بنایا گیا، بلوچوں نے پھر بھی کبھی پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا۔

پی ڈی ایم قائدین کو عوام سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی میں آئین کی پاسداری کرنے والے ججوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تک مضبوط فیڈریشن نہیں بن سکے گا جب تک پنجاب کے لوگ کھڑے نہیں ہوں گے ،انہوں نے کہا کہ ہم بے شک ہار جائیں لیکن جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

اہم خبریں سے مزید