• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان

تحریر:محمد صادق کھوکھر۔۔۔ لیسٹر
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے بہت بڑے محسن تھے، ان کے احسان کا بدلہ قوم کبھی نہیں چکا سکتی، انہوں نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیرملک بنایا، ایٹمی طاقت بنایا لیکن ہم محسن کش ہیں، دوسروں کے کہنے پر اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہیرو کو سرِ بازار رسوا کردیا، دشمنوں کے ایما پر یہ خبر پھیلائی گئی کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے بیرونِ ملک بڑے اثاثے بنائے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ان کے کاروبار ہیں، اس کا جواب انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر بدنام کرنے کی خاطر کیا جا رہا ہے بلکہ ان کا گزارہ چند ہزار روپوں کی پنشن سے ہو رہا ہے، وہ نظربندی کی طرح زندگی بسر کررہے تھے، ظلم صرف یہی نہیں بلکہ ان کی بیٹی کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا، ڈاکٹر عبدالقدیرکو بڑا صدمہ تھا کہ جس قوم کے لیے انہوں نے زندگی وقف کر دی تھی اسی قوم نے ان پر بد دیانتی اور کرپشن کے الزامات لگا دئیے حتیٰ کہ جب وہ کئی دن ہسپتال میں صاحبِ فراش تھے صدر وزیرِ اعظم اور دیگر وزراء سمیت کسی ایک کو بھی بیمار پرسی کی توفیق نہیں ہوئی، وزیرِ اعظم اسلام آباد میںموجود ہونے کے باوجود نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے حتیٰ کہ سوائے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کوئی وزیرِ اعلیٰ وہاں موجود نہیں تھا،یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بھارت میں ایٹم بم بنانے والے کو صدر بنا دیا گیا اور ہم نے اپنے ہیرو کو مجرم، حالانکہ جس الزام میں ہالینڈ میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اسی مقدمہ میں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا،وہ صدر غلام اسحاق کی تعریف کیا کرتے تھے جنہوں نے ان کے ایٹمی پروگرام کے آغاز سے لے کر تکمیل تک ساتھ دیا، سابق صدر غلام اسحاق خود بھی کرپشن سے پاک تھے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان سےہجرت کر کے کراچی کو اپنا مسکن بنایا، تعلیم حاصل کر کے جرمنی چلے گے اور پھر بلجیم چلے گئے، جہاں انہوں نے پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کی، اس کے بعد جب بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کیا تو انہوں نے اپنی خدمات پاکستان کو پیش کر دیں، اور کہوٹہ میں اپنے کام کا آغاز کر دیا جہاں اپنی ریسرچ لیبارٹری کی بنیا د رکھی، انہوں نے چوٹی کے سائنسدانوں کی باکمال ٹیم تیار کی،یہ ٹیم نہ صرف متحرک تھی بلکہ جوش و جذبہ سے بھی پوری طرح لیس تھی، اس ٹیم نے ڈاکٹر عبدالقدیرکی قیادت میں چندبرسوں میں ملک کو جوہری قوت بنا دیا۔ غالبا1983 میں انہوں نے اپنا ہدف پورا کر لیا تھا۔جب 1998 میں بھارت نےدوبارہ ایٹمی دھماکےکیے تو پاکستان کے لیے بھی جواب دینا ضروری ہو گیا تھا، سارا پاکستان اٹھ کھڑا ہوا کہ اب ہمیں ضرور دھماکہ کرنا چاہیے حالانکہ ن لیگ کی حکومت نہیں چاہتی تھی بالآخر حکومت کو بیرونی دباؤ کی بجائے اندرونی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونا پڑا جس کے نتیجے میں پاکستان نے چاغی میں پانچ دھماکے کیے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر چاہتے تھے کہ پاکستان سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کی قیادت کرے۔ انہوں نے کئی ادارے بھی بنائے جن میں لاہور میں ایک بڑا ہسپتال بھی شامل ہے جہاں غریب اور نادار لوگوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کو شعرو ادب سے لگاؤ تھا، انسان دوست اور علم دوست تھے۔ روزنامہ جنگ میں ان کے کالم شائع ہوتے تھے، قرآن پاک کا مطالعہ بلا ناغہ کرتے تھے، نہایت ملنسار تھے، ہمیشہ پُراعتماد رہتے کیونکہ وہ ایمان کی دولت سے بھی مالا مال تھے، اب وہ اپنے رب کے حضور پہنچ گئے ہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں احسان فراموشی کے بجائے احسان مندی کی صفات سے آراستہ کرے۔
یورپ سے سے مزید