• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات

تحریر: ہارون مرزا۔۔۔راچڈیل
پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت بنانے والے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان خالق حقیقی سے جاملے ، بلاشبہ ہر جاندار چیز کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے مگر دنیا سے جانے والی بعض ایسی شخصیات ہوتی ہیں جنہیں ہمیشہ تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے یاد رکھا جاتا ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی ایک ایسی ہی بے مثال شخصیت تھے جن کا آنے والی نسلیں بھی عزت و تکریم سے ذکر کریں گی، ڈاکٹر عبد القدیر خان حقیقی معنوں میں قوم کے ایک ایسے ہیرو تھے جن پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے ، انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک تو کیا گیا لیکن ان کے سفر آخرت کے موقع پر اعلیٰ شخصیات کی عدم شرکت مقام افسوس ہے ،یورپ میں اپنی تعلیم مکمل اور وہاں ملازمت کرنے والے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان حساس پروگرامز سے منسلک رہے انہیں ایٹمی راز چرا کر پاکستان لانے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا، ان کے چاہنے والے ان کی راہ میں دل بچھاتے رہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر بعض افراد کو ان سے بغض بھی رہا، 1998میں پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تو ڈاکٹر عبد القدیر خان سرخرو ہو کر کسی حد تک پس پردہ چلے گئے ا،یٹمی دھماکوں کے بعد ان پر کئی طرح کے الزامات لگنا شروع ہوئے جو کسی بھی باضمیر اور محب وطن پاکستان کا سینہ چھلنی کرنے کے لیے کافی تھے مگر محسن پاکستان کا قومی خدمت کا جذبہ پروان چڑھتا رہا ، ان پر کروڑ پتی اور لاتعداد جائیدادوں کا مالک ہونے کے بھی الزامات لگتے رہے لیکن اسلام آباد ای سیون کے ایک چھوٹے سے گھر کا مکین اپنی ساری زندگی پاکستان کے نام وقف کرنے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا، قیام پاکستان سے لے کر اب تک اگر 28مئی 1998کا دن ہماری تاریخ کا حصہ نہ ہوتا تو اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ پاکستان تاریخ میں کہاں کھڑا ہوتا، بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد جس شخصیت کو زندگی کے تمام شعبوں میں بے مثال پذیرائی اور محبت ملی اس کا نام ڈاکٹر عبد القدیر خان ہے، وہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں یکساں طور پر مقبول تھے ،قوم یہ سمجھتی تھی کہ پاکستان کو محفوظ بنانے میں ان کا بنیادی کردار ہے، وہ حسن صورت کے ساتھ حسن سیرت کا بھی شاہکار تھے انتہائی نرم اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے، ایک مستقل مسکراہٹ ان کے چہرے پر رقصاں رہتی تھی، حساس دل کے مالک تھے، 1971 کے بعد وہ پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت بنانے کیلئے جُت گئے، پاکستان سے محبت ان کی رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے تھی، وہ دشمن کے عزائم سے آگاہ تھے، انہوں نے دشمن کے ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط تحریر کیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور پھر صلہ اور ستائش کی تمنا کیے بغیر اپنے کام میں اس طرح مصروف ہوئے کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت بنا کر چھوڑا جس شخص نے ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا مستقبل قربان کیا،پُرکشش غیر ملکی نوکری چھوڑی،آرام دہ زندگی کو خیرباد کیا،یہاں سہولتوں کی عدم دستیابی کے باوجود دل چھوٹا نہ کیا،افسر شاہی کا رویہ ان کا عزم متزلزل نہ کر سکا،تھوڑا معاوضہ ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکا،عالمی سطح کی کردار کشی ان کے قدم نہ روک سکی،اسی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہم نے گھر تک محدود کر دیا جس نے پوری دنیا میں پاکستانیوں کیلئے عزت کے دروازے کھولے، اس پر آزادی کے دروازے بند رکھے گئے، عدالتوں میں اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے کئی سال بسر کردئیے، 2004میں ان کی نظر بندی کا آغاز ہوا تب سے ان کے سفر آخرت تک تمام سیاسی رہنمائوں نے ان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا،ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی پابندیوں کیخلاف سپریم کورٹ پہنچے تو ان کا موقف آنکھوں کو نمناک کرنے والا تھا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے اور مجھ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی، مجھے تعلیمی اداروں میں جانے اور وہاں لیکچر دینے کی اجازت دی جائے جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت نہ ہی میرے ساتھ گارڈز ہوتے تھے نہ میرے ساتھ کوئی بندوقیں تھیں، نہ فوج اور نہ ہی رینجرز، اب میں 84 سال کا عمر رسیدہ ہو چکا ہوں ، چلنا پھرنا مشکل ہے، میں اپنے ملک میں ہی ہوں اور باہر جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے، جان دے دوں گا کبھی ملک سے غداری نہیں کروں گا لیکن میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں مگر عدالتی حکم پر طلبی کے باوجود ان سے ناروا سلوک برتا گیا،2009میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی نظر بندی ختم کرنے کا حکم دیا مگر اس کے باوجود وہ اپنی نقل وحرکت کے بارے حکام کو مطلع کرنے کے پابند رہے، ہر وقت سیکورٹی حصار میں گھرے رہتے ان کی نماز جنازہ کے موقع پر لوگوں کے جم غفیر کو اشک بہاتے اور ان کی ایمبولنس سے لپٹتے دیکھا گیا بلاشبہ قومی ہیرو ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستان کے طو رپر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یورپ سے سے مزید