• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر عشرت العباد کراچی کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے کو تیار

دبئی (مرتضیٰ علی شاہ) ایم کیو ایم کے رہنما، سندھ کے سابق گورنر عشرت العباد نے کراچی کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ کراچی کی سیاست کے بعض سرگرم رہنمائوں اور اسٹیک ہولڈرز نے گزشتہ دنوں ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کر کے انھیں ایک دفعہ پھر کراچی کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے پر رضامند کیا ہے۔

 جنگ اور جیو کے نامہ نگار نے دبئی میں سندھ کے سابق گورنر کے ساتھ ملاقات کے دوران ان سے پاکستان اور خاص طورپر کراچی کی سیاست میں جاری اتھل پتھل کے حوالے سے، جہاں گورننس کے فقدان اور عوام کی توقعات کے مطابق ان کے مسائل حل نہ کئے جانے کی وجہ سے پیداہونے والی صورت حال میں ان کے ارادوں کے بارے میں بات چیت کی۔

 ڈاکٹر عشرت العباد نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ 2018 کے الیکشن سے قبل اور اس کے بعد بعض بااثر افراد نے انھیں کراچی کی سیاست میں واپسی کا مشورہ دیا تھا اور ان سے سرگرم سیاست میں حصہ لینے کو کہا تھا، اگرچہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس حوالے سے انھیں کیا پیشکش اور یقین دہانیاں کرائی گئیں لیکن انھوں نے اپنی گورنری کے دور کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔

 سابق گورنر سندھ کو کراچی میں اس دور میں جبکہ روزانہ درجنوں افراد ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو رہے تھےا ور اغوا برائے تاوان کے واقعات عام تھے، گینگ وار اور دہشت گردوں کی کارروائیاں عروج پر تھیں، شٹر ڈائون ہڑتالوں سے پاکستان کی معیشت تباہ ہورہی تھی، کراچی میں امن و استحکام قائم رکھنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

 اس دور میں ڈاکٹر عشرت العباد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی طاقتوں کے درمیان رابطہ تھے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کا کہنا تھا کہ 2013 میں پی ایم ایل این کے برسراقتدار آنے کے فوری بعد شروع کئے گئے کراچی آپریشن کو مرکز کی پوری حمایت حاصل تھی۔

 انھوں نے کہا کہ انفرااسٹکچر کی بڑے پیمانے پر ترقی بہت ضروری ہوتی ہے اور نواز شریف کی ترقیاتی سوچ سے اس کا موقع ملا۔ 

انھوں نے بتایا کہ نواز شریف کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران، میں نے انھیں بتایا تھا کہ آپ صرف پنجاب کے وزیراعظم نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور ماس ٹرانزٹ کراچی کا حق ہے۔ جس پر انھوں نے مجھے بعد میں ملنے کو کہا، اگلی ملاقات میں وہ قائل ہوگئے اور فوری طورپر گرین، ایم9 موٹروے اور ملیر ایکسپریس وے کی منظوری دی اور ان پر کام شروع ہوگیا۔

 کراچی آپریشن اور ترقی کیلئے ان کی سپورٹ فیصلہ کن تھی۔ ڈاکٹر عشرت العباد نومبر 2016 میں سندھ کے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر سیکورٹی کے مسائل کی بنیاد پر فوری طورپر دبئی منتقل ہوگئے تھے اور اس وقت سے ابھی تک دبئی ہی میں مقیم ہیں لیکن پاکستان کی صورت حال پر ان کی گہری نظر ہے۔

 ڈاکٹر عشرت العباد کا ایک بیٹا برطانیہ میں ڈاکٹر ہے اور دوسرا بیٹا امپیریل کالج لندن میں ڈاکٹریٹ کا طالبعلم ہے، ان کی ایک بیٹی این ایچ ایس میں نیوروسرجن ہے اور دوسری نے 3D ڈیزائن میں فرسٹ کلاس آنرز کیا ہے۔ 

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایم کیو ایم لندن کیلئے کام کرنے والے اپنے ساتھیوں سے رابطہ نہیں رکھنا چاہتے تھے اور قیاس آرائیوں سے بچنا چاہتے تھے تو انھوں نے اس کی تصدیق کی کہ لندن میں قیام کی صورت میں انھیں وہ ذہنی سکون نہیں مل سکتا تھا۔

 ایم کیو ایم کے بنیادی رکن ہونے کی حیثیت سے انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کیلئے بہت کچھ حاصل کرنے کے بعد پارٹی خود اپنے ہاتھوں تباہ ہوگئی۔ 

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ملک کے متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت تھی لیکن مٹھی بھر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں محصور ہوگئی، جس کے نتیجے میں پارٹی میں کئی دھڑے بن گئے۔

 انھوں نے کہا کہ یہ پارٹی جو کبھی قومی اثاثہ تصور کی جاتی تھی، اس وقت کے پالیسی سازوں کی نظر میں ایک بوجھ بن گئی، اس وقت ایک لطیفہ عام تھا کہ ڈاکٹر عشرت العباد گورنر کی حیثیت سے دنیا کا سب سے مشکل ترین فریضہ انجام دے رہے ہیں، وہ عموماً اپنے لئے آنے والی فون کالز سنتے تھے اورپھر اس وقت کے ایم کیو ایم کے طاقتور ترین قائد الطاف حسین عام طورپر رات گئے انھیں فون کرتے تھے، وہ عام طورپر اپنے کارکنوں کی گرفتاری پر غصے میں یا مرکز کی جانب سے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے فون کرتے تھے۔

اہم خبریں سے مزید