• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا منتظر ہے... پاکستان سے پولیو کب ختم ہوگا؟

عالمی ادارۂ صحت اور روٹری انٹرنیشنل آرگنائزیشن (Rotary International Organization) کے اشتراک سے ہر سال دُنیا بَھر میں 24اکتوبر کو’’پولیو کا عالمی یوم‘‘منایا جاتا ہے۔ اس مرض کے خلاف سیکڑوں سال نبرد آزما رہنے کے بعد آج یہ اُمید پیدا ہو چلی ہے کہ مستقل قریب میں اس مرض کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔فی الوقت پاکستان، افغانستان اور ایک آدھ افریقی مُلک سے پولیو کے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ 

پاکستان ایک ایٹمی مُلک ہے، جہاں افغانستان جیسے حالات نہیں، اس کے باوجود ہمارے مُلک سے پولیو کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج بن چُکا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا تسلّی بخش جواب کسی کے پاس نہیں۔ تاہم، ماہرینِ طب اور پاکستان میں پولیو مہمّات سے وابستہ بعض سابق سینئر ورکرز کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر غفلت، عالمی فنڈز کا مبیّنہ طور پر ناجائز استعمال، صحت کی بنیادی سہولتوں اور حفاظتی ٹیکوں کافقدان، خراب سیوریج سسٹم، آلودہ پانی، صفائی ستھرائی کی ناقص صُورتِ حال، بعض والدین کا اپنے بچّوں کو پولیو کے قطرے نہ پلوانا، پولیو کے حفاظتی قطروں سے متعلق منفی پروپیگنڈا اور پولیو ورکرز پر حملوں جیسے کئی محرّکات کے سبب پاکستان، پولیو کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی اور گرین پاسپورٹ کی بے توقیری کا باعث بنا ہوا ہے۔

شعبۂ طب کی تاریخ بتاتی ہے کہ پولیو کئی ہزار برس پُرانا مرض ہے،جو قدیم مصریوں میں پایا جاتا تھا کہ مصر میں کھدائی کے دوران دیواروں پر ایسے نقش و نگارسامنے آئے ، جن میں صحت مند افرادکے ساتھ ٹانگوں ، ہاتھوں سے معذور اور بیساکھیوں کے سہارے چلتے بچّے بھی موجود تھے۔پھر اہرامِ مصر سے ملنے والی بعض ممیوں میں بھی ایسی علامات پائی گئیں، جو پولیو سے ملتی جُلتی تھیں۔ البتہ پولیو کے پہلے ریکارڈ شدہ کیس کے طور پر مشہور مؤرخ اور ادیب سر والٹر اسکاٹ (Sir Walter Scott)کا نام لیا جاتا ہے، جو بچپن میں تیز بخار کی وجہ سے ایک ٹانگ سے معذور ہوگئے تھے۔

1789ء میں پہلی بار ایک برطانوی ڈاکٹر Michael Underwoodنے طبّی اعتبار سے پولیوکی تشریح کی، جس کے مطابق پولیو کا مخصوص وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر اعصابی نظام کم زور کردیتا ہے، نتیجتاً یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے۔پھر 1900ء میں یورپ اور امریکا پولیو کی زَد میں آئے، جب کہ1907ء میں نیویارک میں پولیو سے2,500افراد ہلاک ہوئے،جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیا۔ 

1908ء میں دو ڈاکٹرز Karl Landsteine اور Erwin Popperنے اس مرض کا باعث بننے والے وائرس کی دریافت کا اعلان کیا،مگر 1916ء میں نیویارک ہی میں پولیو اس قدر تیزی سے پھیلا کہ لوگوں نے خوف کے مارے گھربار چھوڑ چھاڑ کر نزدیکی پہاڑوں میں رہایش اختیار کرنی شروع کردی۔ تیز بخار کے ساتھ لوگوں کے جسمانی اعضاء مفلوج ہورہے تھے ،جب کہ کئی افراد لقمۂ اجل بھی بن گئے ۔1917ء تا 1950ءپولیو کے علاج کے ضمن میں کئی طریقے آزمائے گئے، جن میں ہائیڈرو الیکٹرک اور کیج تھراپیز سمیت ناکارہ ہوجانے والے اعضاء، خصوصاً ٹانگوں میں حرکت پیدا کرنے کے لیے ورزشیں اور مساج وغیرہ شامل تھے۔ 

تاہم، پولیو کے علاج کے ضمن میں انقلاب اُس وقت آیا، جب 1950ء میں امریکی فزیشن اور محقّق William McDowall Hammon نے پولیو کے مریضوں کے خون سے حاصل کی گئی اینٹی باڈیز سے ایک سیرم تیار کیا ،جو پولیو کا پھیلاؤ روکنے میں80فی صد مؤثر ثابت ہوا، مگر یہ طریقۂ علاج خاصا منہگا تھا۔ بالآخر1952ء میں پولیو کے خلاف تیار کردہ ویکسین پہلی بار آزمائی گئی اور 12 اپریل 1955ء کو اس ویکسین کی کام یابی کا اعلان باقاعدہ طور پر ریڈیو کے ذریعے کیا گیا۔1955ء میں امریکا نے بھی پولیو ویکسین کی منظوری دے دی، جس کے بعدمختصر سے عرصے میں امریکا میں پولیو کے کیسز 58ہزار سے کم ہو کر صرف 5600 رہ گئے۔

واضح رہے،یہ ویکسین انجیکشن کے ذریعے مسلز میں لگائی گئی، جسے طبّی اصطلاح میں آئی پی وی"Inactivated Polio Vaccine" سے موسوم کیا گیا۔1961ء میں ڈاکٹر Albert Sabin نے اورل ویکسین او پی وی"Oral Polio Vaccine" متعارف کروائی،جو قطروں کی صورت پلائی جاتی ہے۔بہرحال، ان دونوں اقسام کی ویکسینزکی بدولت1961ء میں امریکا میں پولیو کے صرف 161 کیسز رپورٹ ہوئے،جب کہ دیگر مُمالک بھی بتدریج پولیو ویکسین کے ذریعے ایک موذی مرض کو شکست دینے میں کام یاب رہے۔ 

1979ء میں امریکا میں پولیو کا آخری کیس رپورٹ ہوا۔ پولیو کے خلاف مؤثر ویکسین میسّر آنے کے بعد دُنیا بَھر میں انسدادِ پولیو مہم زور پکڑتی چلی گئی۔ اُس وقت تک ماہرینِ طب بھی اس نتیجےپر پہنچ چُکے تھے کہ پولیو کا وائرس انسانی فضلے، آلودہ ماحول اورگندے پانی میں تیزی سے افزایش پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکا میں صنعتی آلودگی بڑھنے کے سبب پولیو نےوبا کی صُورت اختیار کرلی تھی اور جب صفائی ستھرائی کا شعور اُجاگر ہوا تو یہ وائرس بھی بتدریج ختم ہوتا چلاگیا۔ واضح رہے کہ 19ویں صدی کے دوران لندن اور مانچسٹر میں ایک بیت الخلاء 100، 100 افراد استعمال کرتے تھے اور غلاظت گلیوں اور دریاؤں تک پھیل جاتی تھی۔

٭دُنیا بَھر سے پولیو کا خاتمہ :جی پی ای آئی(Global Polio Eradication Initiative)کے اعداد و شمار کے مطابق 1988ء تک 125مُمالک میں پولیو کے3لاکھ 85ہزار کیسز موجود تھے۔ 2000ء میں پولیو کا مرض20مُمالک تک محدود رہگیا اور صرف 3ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ۔ 2005ء میں 16ممالک سے تقریباً2ہزار کیسز منظرِ عام پر آئے، جب کہ2013ء میں8مُمالک سے416کیسز رپورٹ کیے گئے۔ 2015ء میں پوری دُنیا میں74اور 2018ء میں 33 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس وقت پاکستان، افغانستان اور ایک آدھ افریقی مُلک کے علاوہ پوری دُنیا سے پولیو کا خاتمہ ہوچُکا ہے۔

* پاکستان میں پولیو کی صُورتِ حال: ہمارے یہاں پولیو سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی ابتدا 1974ء میں ہوئی۔ تاہم، سرکاری طور پر اس بیماری کے خلاف اعلانِ جنگ 1994 ء میں کیا گیا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ جنگ عروج پر رہی اور پولیو ویکسی نیشن کی 100سے زائد مُلک گیر مہمّات عمل میں آئیں، لیکن نتیجہ حوصلہ افزا نہ تھا۔ 2014ء میں دُنیا بَھر کے مقابلے میں پاکستان میں پولیو کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف، روٹری انٹرنیشنل اور بل گیٹس فائونڈیشن کی جانب سے فنڈز جاری کرنے کے ساتھ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمیں گھر گھر جاکر بچّوں کو قطرے پلائیں گی، لیکن اس مہم کا ایک منفی نتیجہ قدامت پرست حلقوں، بالخصوص خیبر پختون خوا سے یہ سامنے آیا کہ لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہوگئے کہ حکومت اسپتالوں میں تو صحت کی دیگر سہولتیں فراہم نہیں کررہی، لیکن پولیو کے قطروں میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے کہ ورکرز خود گھر گھر جا رہے ہیں۔ 

اسی دوران جب 2011ء میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کے لیے ایک پولیو ورکر کو استعمال کیا گیا، تو اس کےبھی پولیو مہم پر انتہائی منفی اثرات مرتّب ہوئے کہ لوگ ان ورکرز کو جاسوس سمجھنے لگے۔ اس کے بعد ہی پولیو ورکرز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اور 100سے زائد ورکرز کو اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑی۔ ان ورکرز کی زیادہ تعداد کا تعلق خیبر پختون خوا سے تھا۔ بہرکیف،ان تمام شکوک کے باوجود پاکستان میں پولیو کے قطروں کی مہم بلا تعطّل جاری رہی۔ مارچ 2001ء میں دو کروڑ 70لاکھ بچّوں کی ویکسی نیشن کی گئی اور قطرے پلائے گئے۔ 

2004ء میں 3کروڑ بچّوں کی ویکسین کے لیے سال میں8بار پولیو مہم چلائی گئی، جس میں 2 لاکھ ورکرز نے حصّہ لیا۔2015ء میں مُلک میں 40لاکھ بچّوں کو ویکسین کی سنگل ڈوز کی صُورت حتمی خوراک دی گئی۔ ان مہمّات کے نتیجے میں2014ء کے مقابلے میں 2015ء میں پولیو کیسز میں 70فی صد کمی واقع ہوئی اور خیال تھا کہ 2016ء میں پاکستان ’’پولیو فِری مُلک‘‘ کہلائے گا، لیکن جب گڈاپ، کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، پشاور کے نواحی علاقوں مردان، چارسدّہ، نوشہرہ اور لکی مروت سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا تو ہدف حاصل ہوتا نظر نہیں آیا۔

افسوس کہ مزید 5سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی ان علاقوں میں پینے کا صاف پانی میسّر ہے، نہ صفائی ستھرائی کی صُورتِ حال میں بہتری آئی، جب کہ مقامی لوگوں کے ذہنوں میں ویکسین سے متعلق شکوک وشبہات بھی برقرار ہیں۔ شاید اسی لیے پولیو کے انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ نے 2020ء میں اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ"THE WORLD IS WAITING"۔

یعنی دُنیا منتظر ہے۔مختلف تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق 2020ء میں پنجاب، سندھ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد 84تھی،جب کہ 2019ء میں کُل147کیسز منظرِعام پر آئے۔ رواں برس تادم تحریر پولیو کے8کیسز رپورٹ ہوچُکے ہیں، جو گزشتہ دو برسوں کی نسبت اگرچہ کم ہیں، لیکن یہ بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک ایٹمی قوّت ہونے کے باوجود پاکستان، ایتھوپیا، سرالیون اور افغانستان جیسے مُمالک کی صف میں کیوں کھڑا ہے، جب کہ متذکرہ مُمالک، خصوصاً افغانستان کے مقابلے میں یہاں حالات بہت بہتر ہیں۔

پاکستان گزشتہ دو عشروں سے پولیو کے خاتمے کی جدوجہد کررہا ہے، اس کے باوجود ’’پولیو فِری زون‘‘میں داخل نہیں ہوسکا، جس کے پسِ پردہ کئی عوامل کارفرما ہیں۔ مثلاً حکومتی غفلت، غلط ترجیحات، غیر مُلکی فنڈز اور عطیات کا لالچ، ہمارا فرسودہ سماجی ڈھانچا اور صحت کا غیرمربوط اور رُوبہ زوال نظام وغیرہ۔ اس ضمن میں بعض ڈاکٹرز اور پولیو مہم سے وابستہ سابق اراکین سے گفتگو کے دوران کچھ تلخ حقائق سامنے آئے۔

مثلاً ایک سابق منتظم نے نام نہ بتانے کی شرط پرکہا کہ پاکستان میں شروع ہی سے پولیو کے خاتمے کی مہم کا کام غیر حقیقی اور ناقص بنیادوں پر ہوا، کیوں کہ صرف پولیو کے قطرے پلانے اور انجیکشن لگوانے ہی پر زور دیا گیا، جب کہ پولیو کا باعث بننے والے دیگر عوامل پر بالکل توجّہ نہیں دی گئی۔واضح رہے، پولیو کا وائرس انسانی فضلے اور آلودہ پانی کے ذریعے پھیلتا ہے۔ افسوس ناک امر ہے کہ زیادہ تر دیہات میں کُھلے مقامات، خاص طور پر دریاؤں، نہروں کے کنارے، بطور بیت الخلا استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

انہی جگہوں پر بچّے کھیلتے کودتے بھی ہیں۔یوں آلودہ مٹّی یا پانی کے ذریعے وائرس جسم تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ اسے طبّی اصطلاح میں Feco Oral Transmissionکہا جاتا ہے، جو پولیو کے مرض کا ایک بنیادی سبب ہے۔ پولیو سے بچّے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں 5سال سے کم عُمر 40فی صد بچّے غذائیت کی کمی اور مناسب نشوونما نہ ہونے کے باعث مضبوط قوّتِ مدافعت سے محروم ہیں۔ پھر بعض شہروں میں صاف پانی کی عدم فراہمی بھی مختلف امراض بشمول پولیو کا سبب ہے۔

دیہات میں ایک ہی جوہڑ سے انسان اور جانور پانی پیتے اور اُسی میں نہاتے بھی ہیں۔ تب ہی پولیو سروے کرنے والی ٹیمیں اکثر انہی علاقوں کو پولیو سے متاثرہ علاقے شمار کر کے پاکستان کو پولیو زدہ قرار دیتی ہیں۔ افسوس کہ آج تک کسی بھی دورِحکومت میں کھلے مقامات پر رفعِ حاجت کے خلاف مہم نہیں چلائی گئی، جب کہ بھارت میں اس ضمن میں کئی آگہی مہمّات جاری رہی ہیں۔ 2015ء کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 4کروڑ افراد بیت الخلاء کی سہولت سے محروم تھے۔ 

بلاشبہ اب حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں، لیکن 2کروڑ سے زائد افراد کو اب بھی یہ سہولت میسّر نہیں۔ واضح رہے، ہمارے ہمسایہ مُلک بھارت نے کھلے مقامات پر رفعِ حاجت کو ایک قومی مسئلہ قرار دے کر انتہائی مختصر عرصے میں 11کروڑ سے زیادہ بیت الخلاء تعمیر کیے۔ پاکستان میں صرف کاغذات کی حد تک بیسک ہیلتھ یونٹس کانظام موجود ہے، جب کہ عملی طور پر ان کی کارکردگی عدم توجہّی، فنڈز کی کمی اور ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے سبب تقریباً صفر ہے۔ 

حالاں کہ اگر یہ بنیادی ہیلتھ یونٹس مکمل طور پر فعال ہو جائیں، تو نہ صرف پولیو بلکہ دیگر وبائی امراض کے خلاف بھی جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ اس بوسیدہ اور ناکارہ نظام کی بنیادی وجہ بھی کرپشن اور حکومتی عدم توجہّی ہے۔ موجودہ صُورتِ حال کا اندازہ 21ستمبر 2021ء کو شایع ہونے والی اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے، جس کے مطابق خیبر پختون خوا اسمبلی نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو 10ارب روپے کے فنڈز میں خوردبرد کی تحقیق کرے گی۔ یہ فنڈ قطرے پلانے والی پولیو ٹیمز کی سیکیوریٹی اور ان کے قیام و طعام کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

پولیو سے متعلق جناح اسپتال، لاہور کے ماہرِ امراضِ معدہ و جگر، ڈاکٹر مزّمل کٹاریا کا کہنا کہ ’’پولیو یونانی لفظ POLIOMYELITSسے نکلا ہے، جس کا مطلب ریڑھ کی ہڈی کی سوزش ہے۔ بعد ازاں، یہ لفظ صرف پولیو رہ گیا۔‘‘ ڈاکٹر مزّمل نے اس سوال کے جواب میں کہ پولیو کا خاتمہ کیسے ممکن ہے، بتایا کہ ’’ترقّی یافتہ مُمالک نے پولیو ویکسین اور صفائی ستھرائی کے ذریعے اس بیماری کو شکست دی ہے۔ ہمارے یہاں پولیو ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کی بوسیدہ پائپ لائنز، آلودہ پانی، گندگی اور کُھلے مقامات پر (مثلاً کھیتوں، نہروں ،دریائوں کے کنارے) رفع ِحاجت جیسے دیگر عوامل پولیو کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ 

ہمارے یہاں نومولود بچّوں کو حفاظتی ٹیکوں کے ساتھ پولیو سے بچائو کا ٹیکا بھی لگایا جاتا ہے۔ بعد ازاں،5سال کی عُمر تک قطرے بھی پلائے جاتے ہیں۔اس کے برعکس ترقّی یافتہ مُمالک میں پولیو سے بچاؤ کے لیے صرف ایک انجیکشن لگاتے ہیں، جس پر قطروں کی نسبت زیادہ لاگت آتی ہے،مگر یہ زیادہ مؤثر رہتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر مزّمل نے مزید کہا کہ ’’زیادہ تر والدین حفاظتی ٹیکوں کی ساری ذمّے داری حکومت پر ڈال کر خود بری الذّمہ ہوجاتے ہیں، لہٰذا پولیو کے عالمی یوم کے موقعے پر میری والدین سے درخواست ہے کہ وہ پولیو ٹیمز کا انتظار کرنے کی بجائےاپنے بچّوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے میں خود بھی دِل چسپی لیں۔ 

اس وقت پولیو سے متاثرہ مُمالک میں پاکستان کی صُورتِ حال بہتر ہو رہی ہے، لیکن حکومت کو ہر سطح تک پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اُجاگر کرنے، کُھلے مقامات کو بطور بیت الخلاء استعمال نہ کرنے، صاف پانی کی فراہمی اور صحت کے بجٹ میں اضافے جیسے دیگر عوامل پر بھی توجّہ دینا ہوگی۔ ہمارے 60،70فی صد بچّوں کو بَھرپور غذا نہیں ملتی، جس سے وہ مختلف بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں، تو یہ سنگین طبّی مسئلہ بھی فوری حل طلب ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں علاج معالجے اور ادویہ پر اربوں کھربوں روپے صرف کرنے کی بجائے احتیاط پر مبنی اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ علاج معالجےپر اخراجات کی نوبت ہی نہ آئے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید