| |
Home Page
پیر 28 ذیقعدہ 1438ھ 21 اگست 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
حکومتی و مالیاتی اداروں کی بڑی سرمایہ کاری، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی زبردست لہر، 622 پوائنٹس کا اضافہ

Todays Print

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جاری مندی کے بادل چھٹ گئے،مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر کاری اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سر مایہ کاری کے بعد مارکیٹ میں صورتحال تبدیل ہو گئی ہےجمعرات کو بڑی سرمایہ کاری کے باعث بازار حصص کی سرگرمیوں میں اضافے کے نتیجے میں ا سٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس7بالائی حد وں کے اضافے سے41500پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بحال ہو گیا، تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں ایک کھرب سے زائدروپے کااضافہ ریکارڈکیاگیاجس سے سرمائے کاحجم 84کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ۔تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کو مسلسل مندی سے بچانے کیلئے حکومتی اور مالیاتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ میں تیزی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی اور گذشتہ تین روز سے تنزلی کی شکار اسٹاک مارکیٹ ایک بار پھر نئے ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ کاروبار کے آغا ز کے بعد سرمایہ کار بینکنگ ،توانائی ،اسٹیل اور گیس سیکٹر سمیت دیگر منافع بخش شعبوں میں سرگرم دکھائی دیے اور خریداری میں دلچسپی میں بھی لی جس کے سبب کاروبار کے دوران انڈیکس 41000،41100 ،41200 ،4130 ،41400 ،41500 اور41600پوائنٹس کی 7بالائی حدیں عبور کر گیا تھا تاہم کاروبار کے اختتام تک انڈیکس 41600پوائنٹس کی سطح پر برقرار نہ رہ سکا تھا ۔ جمعرات کو کاروبارکے اختتام پر100انڈیکس میں 621.81پ وائنٹس کا ریکارڈاضافہ ہواجس سے 100 انڈیکس 40924.14پوائنٹس سے بڑھ کر41545.95پوائنٹس پرجاپہنچا۔جمعرات کے روز مارکیٹ کے سرمائے میں ایک کھرب9 ارب 51 کروڑ 72 لاکھ 23 ہزار 990روپے کااضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کامجموعی حجم83کھرب64 ارب 19 کروڑ 87 لاکھ 64 ہزار91روپے سے بڑھ کر84 کھرب 73 ارب 71کروڑ59 لاکھ 88 ہزار 81 روپے ہوگیا۔ جمعرات کو مارکیٹ میں56 کروڑ 19 لاکھ 25 ہزارحصص کے سودے ہوئے اورٹریڈنگ ویلیو18ارب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ بدھ کے روز 50 کروڑ 64 لاکھ 26 ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے اور ٹریڈنگ ویلیو 12 ارب روپے تک محدودرہی تھی ۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز مجموعی طور پر 455 کمپنیوں کاکاروبارہواجس میں سے 325کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 116میں کمی اور 14 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوںمیں استحکام رہا۔