| |
Home Page
جمعرات 24 ذیقعدہ 1438ھ 17 اگست 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
پاناما لیکس، وزیراعظم سمیت سب کو نوٹس، عدالتیں سیاسی معاملات میں نہیں پڑتیں، سپریم کورٹ

Todays Print

اسلام آباد(نمائندہ جنگ …ایجنسیاں)سپریم کورٹ نےپاناما لیکس(پیپرز)کے حوالے  سے وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے خاندان کے مختلف افراد کی عوامی عہدے کیلئے نااہلیت سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران مسول علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں دو ہفتوں کے اندر اندر جواب داخل کرانے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن قائم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے اور پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کو بند کردینے کے حوالے سے اعلان شدہ دھر نا رکوانے کے حوالے سے دائر درخواستوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا،عدالت نے قرار دیا ہے کہ مسول علیہان کا موقف سننے کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی حکم جاری کیا جائے گا، سیاسی جھگڑے میں نہیں پڑینگے،بنیادی حقوق کے معاملے پر مداخلت کرینگے،امن وامان قائم رکھنا حکومتوں کا کام ہے، اگرکوئی حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تو پھر سپریم کورٹ اس پر نوٹس لینے کے حوالے سے غور کرسکتی ہے ،فاضل عدالت نے تمام درخواستوں کو ابتدائی سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے فریق بنائے گئے وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، انکے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، وفاق، وزارت قانون، وزارت خزانہ، کابینہ ڈویژن، ایف بی آر، چیئرمین قومی احتساب بیورو، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی،  چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،عوامی مسلم لیگ کے صدرشیخ رشید احمد ،وطن پارٹی اور طارق اسدکی جانب سے دائر کی گئیں آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کی تو عمران خان، جہانگیر ترین،سراج الحق ،شیخ رشید احمد کے علاوہ ان کی جماعتوں کے متعدد رہنما ،وفاقی وزراء خواجہ آصف، سعد رفیق ،دانیال عزیز اور دیگر حکومتی اکابرین بھی عدالت میں موجود تھے، پی ٹی آئی کی جانب سے حامد خان ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس سال اپریل میں وزیر اعظم نواز شریف ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، انکے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمدصفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز اور دیگر پاکستانیوں کے نام پاناما لیکس پیپرزمیں آئے تھے ، جس کے بعد قومی میڈیا پر شور و غوغا ہونے اور اپوزیشن کے مطالبے پروزیر اعظم نے زبانی طور پر دو دفعہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کی پیشکش کی تھی ، لیکن عملی طور پرآج تک اس پرکسی قسم کا عملدرآمد نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ ان کے موکل نے مختلف متعلقہ ریاستی اداروں کی جانب سے اس معاملہ پر کسی بھی قسم کا ایکشن نہ لینے کی بنا پر مایوس ہوکر سپریم کورٹ میں یہ آئینی درخواست دائر کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاناما لیکس کے معاملہ پر کئی غیر ملکی اعلیٰ شخصیات نے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے ہیں ،نواز شریف ماضی میں بھی بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اتفاق فائونڈری کو1972 میں قومی تحویل میں لیا گیا تھا اس کے بعد اس خاندان نے جدہ اور دبئی وغیرہ میں غیر قانونی طور پر سرمایہ کاری کی ہے، ہمارے ہاں اسٹیل ملز اور حج کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کی مثالیں بھی موجود ہیں لہذا استدعا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملہ کی بھی تحقیقات کرانے کا حکم جاری کیا جائے، درخواست گزار شیخ رشید احمد اصالتاً پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اصل معاملہ آئین کے آرٹیکل 62،63  کا ہے کیونکہ انہی آرٹیکلز کے تحت سپریم کورٹ نے  9 ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا تھا جبکہ اس کیس میں بھی عوام کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے اس لئے مسول علیہان کو عوامی عہدہ کے لئے نااہل قرار دیا جائے یا اس سے قبل اسی عدالت کی جانب سے انہی آرٹیکلز کی بناء پر نااہل قرار دیئے جانے والے ارکان کو بھی بحال کیا جائے، یہ وقت ملک کو تحفظ دینے کا ہے، ملک میں جمہوریت کو بچاتے ہوئے موجودہ حکومت سے نجات دلائی جائے، درخواست گزار جماعت اسلامی کی جانب سے اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ان کی موکل کی درخواست میں جو استدعا کی گئی ہے عدالت اس کے مطابق احکامات جاری کرے، درخواست گزار وطن پارٹی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ پر جوڈیشل کمیشن نہیں بننا چاہئے بلکہ پارلیمانی کمیشن یاکمیٹی بننی چاہئے جب پارلیمنٹ موجود ہے تو معاملے کو عدالت میں نہیں آنا چاہئے تھا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی کمیٹی یا کمیشن بنانا حکومت کا کام ہے، جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے حکومت نے خط لکھا تھا جس کا جواب بھی دیدیا گیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے دوبارہ کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے، بیرسٹر ظفر اللہ خان نے استدعا کی کہ پاناما لیکس کے معاملہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے کا حکم جاری کیا جائے، تاہم عدالت نے ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے معاملات کے حوالہ سے عدالتی کمیشن بنانے کا اختیار پہلے ہی سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے، درخواست گزار طارق اسد ایڈوکیٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے  2نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے سے متعلق دھرنا دینے کے اعلان پر حکم امتناع جاری کرنے کے حوالہ سے دائر کی گئی ا پنی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے، اس سے سارا شہر پریشان ہے، یہ غیرآئینی بات ہے اور اس کے ساتھ پاناما لیکس کا بھی گہرا تعلق ہے، انہوں نے فاضل عدالت سے اس پر حکم جاری کرنے کی استدعا کی تاہم عدالت نے ان کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ کام بھی ہم کریں، عدالتیں سیاسی معاملات میں نہیں پڑتی ہیں، امن و امان قائم رکھنا حکومتوں کا کام ہے، لیکن اگر حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میں ناکام رہی تو پھر سپریم کورٹ اس پر نوٹس لینے کے حوالے سے غور کرسکتی ہے، جسٹس عارف خلجی حسین نے کہا کہ عدالت کو کوئی دھمکی نہیں دے سکتا ہے، دوران سماعت اسد نامی ایک شہری نے بھی کیس میں فریق بننے کی اجازت کے حوالہ سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ نواز شریف فیملی کے 43 لوگ کرپشن میں ملوث ہیں اس حوالے سے 24 صفحات پر مشتمل رپورٹ نیب میں جمع کرائی گئی تھی، نیب کو 9 بار یاد دہانی کرانے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی، جس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، عدالت نے ان کو بھی فریق بننے کی اجازت دے دی،یہ بھی یاد رہے کہ قبل ازیں فاضل عدالت نے جب شیخ رشید کی درخواست کو ابتدائی سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس  جاری کرنے کا حکم جاری کیا تو درخواست گزارنے عدالت سے استدعا کی کہ مسول علیہان کو صرف سادہ نوٹسز نہیں بلکہ شوکاز نوٹسز جاری کئے جائیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ جوابات آنے دیں مسول علیہان کا موقف سننے کے بعد ہی اس حوالہ سے کوئی حکم جاری کیا جائے گا۔