لعل قلندر کی درگاہ 1356ء میں تعمیر ہوئی،بھٹو نے سونے کا دروازہ نصب کیا
| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
February 17, 2017 | 12:00 am
لعل قلندر کی درگاہ 1356ء میں تعمیر ہوئی،بھٹو نے سونے کا دروازہ نصب کیا

Todays Print

لاہور (صابر شاہ) بے رحم دہشت گردوں نے جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، عظیم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ پر آئے ہوئے زائرین کو خودکش حملہ کا نشانہ بنا کر 72جانیں لے لیں اور سو سے زائد کو زخمی کر دیا۔ پاکستان میں صوفی بزرگوں کے درباروں پر ہونے والے حملوں میں گزشتہ روز کا حملہ سب سے شدید تھا۔ لعل قلندر کی درگاہ 1356ء میں تعمیر ہوئی۔ اس کی تعمیر میں سندھی کاشی ٹائلز استعمال ہوئیں، شیشے کا دیدہ زیب کام کیا گیا اور ایران کے رضا شاہ پہلوی نے یہاں سونے کا دروازہ نصب کرایا۔ یہ دروازہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں نصب ہوا، لعل شہباز قلندر 1177-1275کو ہمیشہ لال لباس زیب تن کرنے کی وجہ سے لال کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بہاء الدین ذکریا ملتانیؒ، بابا فرید الدین شکر گنجؒ اور سید جلال الدین بخاریؒ کی طرح امن و محبت کا درس عام کیا۔ صلح کل کے مشرب کے باعث انہیں ساری دنیا میں احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک بھر کی تین درجن درگاہیں دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔ اسلامی ریسرچ سنٹر کے مطابق  2005ء سے تاحال صوفی بزرگوں کی درگاہوں پر29 حملوں کے نتیجے میں 209 افراد جاں بحق جبکہ 560 زخمی ہو چکے ہیں۔ صوفی بزرگوں کی پاک و ہند میں تبلیغی خدمات کا سلسلہ گزشتہ ا یک ہزار سال پر محیط ہے۔ غریب سے لے کر امیر تک ہر قماش کے لاکھوں انسان درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں۔ نومبر 2016ء میں شاہ نورانی کے مزار پر ہونے والے حملے سے قبل ملک میں ہونے والے ان حملوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ سب سے پہلا حملہ 18 دسمبر 2007ء میں جی ٹی روڈ پر بابا عبدالشکور ملنگ کے مزار پر ہوا۔ مارچ 2008ء میں پشاور کے نواح میں قا ئم 400 برس پرانے حضرت بابا ابوسعید کے مزار پر حملے میں 10 دیہاتی جاں بحق ہوئے۔ 25 فروری 2013ء میں شکارپور میں غلام شاہ غازی کے مزار پر حملے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 27 زخمی ہوئے۔ اس حملے میں معروف مذہبی رہنما پیر سید حاجن شاہ  جاں بحق ہوئے تھے۔ 11دسمبر 2012ء میں خیبرایجنسی میں واقع شیخ  نساء بابا اور شیخ بہادر بابا کے مزاروں پر حملہ کیا گیا۔ 3 اپریل 2011ء میں ڈیرہ غازی خان میں واقع 13ویں صدی کے بزرگ احمد سلطان کے مزار پر خودکش حملے میں  50 افراد لقمہ اجل بنے۔ جولائی 2010ءمیں لاہور میں واقع عظیم صوفی بزرگ سید علی ہجویریؒ المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر دو خودکش حملے ہوئے جس میں 45  زائرین جاں بحق ہوئے۔ اکتوبر 2010ء میں کراچی میں واقع معروف مزار عبداللہ شاہ بخاریؒ پر خودکش حملے میں 9 افراد جانوں سے گئے۔ اکتوبر 2010ء پاکپتن میں واقع مشہور دربار بابا فریدالدین شکر گنجؒ کے احاطے میں حملے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے۔ 5 مارچ 2009ء میں 17 ویں صدی عیسوی کے مشہور پشتون صوفی بزرگ رحمان بابا ؒکے مزار پر حملے کی پاکستان کے علاوہ افغانستان میں بھی مذمت کی گئی۔ اس واقعہ کے ا یک دن بعد بہادر باباؒ کے مزار پر میزائل حملہ کیا گیا۔ ہنگو، بنوں اور بنیر میں بھی صوفی بزر گو ں کے مزاروں پر متعدد حملے کئے گئے جن میں سینکڑوں اموات ہوئیں۔