| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
سری لنکن ٹیم کے پاکستان میں ٹی 20 میچز کھیلنے کا امکان روشن، اکتوبر کی سیریز میں انعقاد ہوسکتا ہے

Todays Print

راچی (عبدالماجد بھٹی/ اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ کی تجویز پر کرکٹ سری لنکا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اکتوبرمیں پاکستان اور سری لنکا کی سیریز کے کم از کم دو ٹی ٹوئنٹی میچ پاکستان میں کھیلے جائیں۔ پاکستان اور سری لنکا سیریز میں تین ٹیسٹ میچ کرانے کی تجویز تھی لیکن اب پاکستان کرکٹ بورڈ کوشش کررہا ہے کہ سیریز میں دو ٹیسٹ کرائے جائیں۔ جبکہ ون ڈے سیریز تین کے بجائے پانچ میچوں پر مشتمل ہو اور دونوں ملکوں کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلی جائے۔ توقع ہے کہ سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے ورلڈ الیون کی قیادت کریں گے۔ ورلڈ الیون کے میچوں کے لئے جائلز کلارک نے ابھی کھلاڑیوں کے نام نہیں دیئے ہیں تاہم سری لنکا کے علاوہ انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقا اور نیوزی لینڈ کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے کھلاڑیوں نے شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پی سی بی چیئرمین شہریار خان نے جمعرات کو جنگ کو لندن سے ٹیلی فون پر بتایا کہ آئی سی سی کی سالانہ میٹنگ کے دوران کرکٹ سری لنکا کے صدر سو ماتھی پالا اور دیگر حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔ کرکٹ سری لنکا حکام نے یقین دلایا ہے کہ اگر حکومت نے اجازت دے دی توسری لنکا کی ٹیم پاکستان جاکر دو ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے گی۔ شہریار خان نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا سیریز سے قبل آئی سی سی ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب ایک بڑا سنگ میل ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ تین ون ڈے انٹر نیشنل اور دو ٹی 20 میچوں کی سیریز اکتوبر کے پہلے ہفتے میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی جائے گی۔ تاہم براڈ کاسٹرز چاہتے ہیں کہ سیریز میں ون ڈے میچوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ اس لئے سیریز میں دو ٹیسٹ پانچ ون ڈے انٹر نیشنل اور تین ٹی20 میچ کھیلے جائیں گے۔ شہریار خان نے کہا کہ جو اطلاعات مل رہی ہیں اس کے مطابق مہیلا جے وردھنے ستمبر میں پاکستان آنے والی ورلڈ الیون کی قیادت کریں گے۔ اگر وہ پاکستان آگئے تو اس سے پاکستان کرکٹ کو بڑا فائدہ ہوگا۔ مارچ 2009میں جب لاہور میںسری لنکا ٹیم پر حملہ ہوا تھا اس ٹیم کے کپتان مہیلا جے وردھنے تھے۔ ان کا پاکستان آنا بڑی بات ہوگی۔ شہریار خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان سے نقصان نہیں ہوگا کیوں کہ ورلڈ الیون کے میچوں پر آنے والے اخراجات ہم اسپانسر شپ سے پورے کریں گے۔ ہم پنجاب حکومت کو خط لکھ رہے ہیں کہ وہ ورلڈ الیون کے میچوں کے لئے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کریں۔ ورلڈ الیون میں حال ہی میں ریٹائر ہونے والے کھلاڑی شامل ہوں گے۔ ان میچوں میں آئی سی سی کا اشتراک ہماری بڑی کامیابی ہے۔ یہ ملک میں بڑا کرکٹ ایونٹ ہوگا اس ایونٹ کے بعد سری لنکا ٹیم کے دورہ پاکستان کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ نے ٹیم پاکستان بھیجنے پر رضامندی کا اظہار کیا جب کہ دونوں کرکٹ بورڈ کے حکام نے سیکیورٹی صورتحال میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ کے لئے بھرپور سیکیورٹی فراہم کی گئی اور لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل میچ کے انعقاد کی وجہ سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے پیش رفت ہورہی ہے۔2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں اس وقت حملہ ہوا تھا جب ٹیم ہوٹل سے اسٹیڈیم کی جانب رواں دواں تھی اور اس واقعے کے بعد پاکستان 2011 کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم ہو گیا تھا۔ دوسری جانب نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تزئین و آرائش کا کام دو مرحلوں میں مکمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ دس ماہ میں مکمل ہوگا جس پر ایک ارب دو کروڑ سے زائد کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے میں گرائونڈ کی حالت بہتر بنانے کے علاوہ ڈریسنگ روم کو نئی شکل دی جائے گی۔ تماشائیوں کے لئے سہولتوں میں اضافے کے علاوہ پورے اسٹیڈیم کی چھتیں تبدیل کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اسٹیڈیم کے مرکزی دروازے کو نئی شکل دی جائے گی۔