| |
Home Page
بدھ 03 ربیع الاوّل 1439ھ 22 نومبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
محنت کشوں کے مسائل کے حل کیلئے سہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد جلد کیا جائے، سلطان محمد

Todays Print City News

کوئٹہ(سٹی ڈیسک) آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر سلطان محمد خان، حب ریجن کے ریجنل سیکرٹری شاہد علی بلوچ نے ایک بیان کے ذریعے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی کابینہ سے اپیل کی ہے کہ اس پسماندہ صوبے کے غریب محنت کشوں پر رحم کھاتے ہوئے اس صوبے کو ایسا لیبر منسٹر دیا جائے جو محنت کشوں کے مسائل پر بھرپور توجہ دے تاکہ محنت کشوں کے مسائل حل ہو سکیں انہوں نے کہا کہ اس کیلئے سہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد بہت ضروری ہے تاکہ محنت کشوں کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کے محنت کشوں کو مختلف مسائل درپیش ہیں لیکن ان کو حل کرنے والا کوئی نہیں نہ ہی لیبر سیکرٹریٹ میں موصوف موجود ہوتا ہے جس کی فریاد کس کے سامنے پیش کی جا سکے مگر بدقسمتی سے ہمیں ایسا لیبر منسٹر ہے جس سے گزشتہ چار سالوں سے کسی لیبر لیڈر کی کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دیگر تین صوبوں میں ورکر کی وفات کی صورت میں کمپنسیشن پانچ لاکھ روپے دیا جا رہا ہے اور بلوچستان میں دو لاکھ روپے دیئے جا رہے ہیں اس کی وجہ لیبر منسٹر کی عدم توجہی ہے جنہوں نے آج تک لیبر کے مسائل کو سمجھا ہی نہیں اور نہ ہی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے مزید برآں یہ کہ موصوف نے فاضل عدالت کے احکامات کے برعکس سوشل سیکورٹی کےع ڈپٹی ڈائریکٹر کو پروٹوکول آفیسر بنایا ہوا ہے جو کہ لیبر ڈیپارٹمنٹس میں اپنی من مانی کرتے ہوئے خلاف قانون بھرتی اور تعیناتیاں کر رہا ہے جس میں لیبر کا کوئی، اقلیتوں کا کوٹہ اور معذوروں کا کوٹہ نظرانداز کیا جا رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں ایسی ناانصافی کبھی نہیں ہوئی جو قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں پانچ لیبر قوانین بنے ہوئے ہیں جو کہ محنت کشوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازش ہے ان کو یکجا کر کے ایک لیبر قانون بنایا جائے اور صوبے میں ایسی صنعتیں لگائی جائیں جن میں بجلی کے پاور ہاؤس، سیمنٹ کی فیکٹریاں اور دیگر کارخانے لگائے جائیں تاکہ صوبے میں بیروزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔