| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
ارشد وحید چوہدری
August 07, 2017 | 12:00 am
کون سے عوام اور کیسی طاقت؟

Kon Se Awam Aor Kaisi Taqat

پاکستان مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ضرورکیا ہے لیکن اسے قبول ہرگز نہیں کیا،وہ اس فیصلے کوآج بھی اسی سازش کا حصہ قرار دیتی ہے جس کا آغاز وہ دھاندلی کے الزامات کے تحت مچائی جانے والی دھماچوکڑی کو تصور کرتی ہے۔حکمراں جماعت کے اس پختہ یقین کے پس پردہ یقیناً بہت سے عوامل کارفرما ہیں جن کا ادراک اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ مارگلہ کے دامن میں تاریخ کی شاہد عمارتوں کی راہداریاں روز گزرنے والوں کو پتہ دیتی ہیں کہ انہیں آخری سرا بند ہی ملے گا، جاہ و جلال کی علامت آہنی دیواروں کے پیچھے پڑاو ڈالنے پر آشکار ہوتا ہے کہ اندر کتنی گھٹن ہے، اونچی فصیلوں کے مکینوں کو داخلے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی چھننا کسے کہتے ہیں اوربے بسی کیا ہوتی ہے، پر شکوہ عمارتوں میں ڈیرے ڈالنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ صرف مخصوص حصوں میں آمدورفت کی اجازت ہے، فن تعمیر کے شاہکاردکھائی دینے والے نمونوں کے قریب جانے پر بھید کھلتا ہے کہ یہ تو محض سراب ہے، شاہراہ دستورپر قیام سے اس ’موم‘ کے بارے میں آگاہی ہوتی ہے جس سے آئین کی ناک بنائی جاتی ہے،، اقتدار کے عجائب گھر کی سیرکے دوران انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں توجا بجا جائے ممنوعہ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ دور کے فن تعمیر کی عکاسی کرتی وسیع وعریض شاندارعمارت پالینے کے بعد حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ آپ اس میں قیام تو کر سکتے ہیں لیکن اس کی پاور آف اٹارنی کسی اور کے پاس ہی رہے گی۔ اپنی بے بسی کی یہی داستان سناتے اورپاناما پیپرز کے فیصلے کو سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے حکمراںجماعت کی طرف سے پہلے ردعمل میں خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ’’عوام کے حق حاکمیت کوایک بار پھر پامال کیا گیا اور یہ پہلی بار نہیں ہوا،انہیں پتہ ہے کہ ان کا جرم کیا ہے،وہ سویلین بالادستی مانگتے ہیں،منتخب ہو کر آتے اور رسوا کر کے نکالے جاتے ہیں،یمن اور قطر کے تنازعات میں غیر جانب داررہنے کی قیمت چکاتے ہیں،انہیں عوام کی عدالت سے نااہل نہیں کرا یا جا سکتا،وہ واپس لوٹیں گے لیکن اس بار فیصلہ بڑا ہو گا،ہاتھ پائوں بندھوا کر واپس جانے والی روایت اب مزید نہیں چلے گی،ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والے کو ڈیڑھ منٹ میں گھر بھیج دیں اب یہ نہیں ہو گا،بار بار ملکی ترقی کو روکنے والوں سے اب پوچھیں گے کہ انہیں ایسا کرنے کا حق کس نے دیا، اب محض انتخابات نہیں ہوں گے بلکہ نئی شرائط لکھی جائیں گی اور یہ طے کرنے کے بعد ہی واپس آئیں گے کہ اس ملک میں کون حکومت کرے گا،نواز شریف اب جمہوریت کے دشمنوں کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے‘‘۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ایسا رد عمل فطری ہے لیکن اس کا اظہار پہلی بار نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ چار سال کے دوران دھرنے سے لے کر متنازع ٹویٹ اور پاناما پیپرز سے لے کر متنازع جے آئی ٹی کے قیام تک یہی کہا جاتا رہا کہ اب سب کچھ عوام کے سامنے رکھا جائے گا، پتلی تماشے کے پس پردہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے گا، نواز شریف نے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ کے ٹوٹے جنگلے کی طرف دیکھتے ہوئے بطور وزیر اعظم پاکستان اعلان کیا تھا کہ وہ مناسب وقت پر قوم کو بتائیں گے کہ یہ سب کس نے اور کیوں کیا۔ ہونی ٹل گئی وہ بھی کہا ہوا بھول گئے ،پاناما پیپرز کا قضیہ شروع ہوا تو ایک بار پھر قوم سے خطاب میں انہوں نے باور کرایا کہ وہ وقت آنے پر اس سازش کے اصل مقاصد بتائیں گے ،وہ وقت تو نا آیا لیکن ہونی ہوگئی۔ ا ب بھی جناب نواز شریف فرماتے ہیں کہ انہیں بہت کچھ سمجھ آ رہا ہے لیکن وہ فی الحال خاموش رہنا چاہتے ہیں،جو مناسب ہے صرف اتنی بات کر رہے ہیں لیکن وہ اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر جا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں پنجابی کی ایک کہاوت پیش کروں گا ’ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں‘ یعنی نماز وہی ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے ،وقت گزر جائے تو سجدے کرنا محض سرٹکرانا ہی ہوتا ہے۔ میاں صاحب گزشتہ چار سال اشاروں کنایوں میں سازش کا ذکرکرتے رہے لیکن وہ اس سازش اور اس کے پس پردہ کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ہمت پیدانہ کر سکے، نتیجہ ایک بار پھر وزارت عظمیٰ گنوا بیٹھے۔ تیسری بار عوامی مینڈیٹ کا خون کروانے کے بعد بھی ان کے انہی اشاروں کنایوں پر پنجاب ہائوس اسلام آباد میں مشاورت کے دوران جنگ کے انہی صفحات پر لکھنے والے ایک سینئر اور جہاندیدہ صحافی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے میاں صاحب کی نقل اتارتے ہوئے ان کو کھری کھری سناتے یہاں تک کہہ ڈالا کہ آپ کیا ہر تھوڑے عرصے بعد معصوم سی صورت بنا کر آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ بہت زیادتی ہوگئی ہے،زیادتی تو آپ عوام کے ساتھ کرتے ہیں جو آپ کو وزارت عظمیٰ کے منصب پہ فائز کر کے بھیجتے ہیں لیکن آپ بیچ راستے میں وہ عوامی مینڈیٹ لٹا آتے ہیں ،اس کے بعد اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہیں۔
آپ عوام میں جائیں اور انہیں سب کچھ بتائیں کہ آپ کے ساتھ کس نے یہ سب کیا۔ سینئر صحافی کی اس بے باکی سے سابق وزیر اعظم کے چہرے پر توجو ایک رنگ آیا اور گیا لیکن وہیں موجود ان کی صاحبزادی خوب محظوظ ہوئیں اور انہوں نے اپنے دل کی بات کہنے والے کوخوب داد تحسین دی۔ پارٹی اور دیگرشعبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اسی طرز کی وسیع مشاورت کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھرپورعوامی طاقت کے اظہار کے لئےبدھ کو جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے اس فیصلے پر لیگی رہنما اور کارکنان بہت پرجوش ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے منتخب وزیر اعظم کو سازش کے ذریعے گھر بھیجنے والی قوتوں کواس طرح ایک تگڑا پیغام دیا جائے گا۔ جناب سابق وزیراعظم صاحب کون سے عوام اور کیسی عوامی طاقت،اگر عوام نامی اس مخلوق اور اس کے مینڈیٹ کا کوئی اثر ہوتا تو کیا آپ کو تیسری باربھی اس طرح نکال باہر کیا جاتا۔ اگر سازش کرنے والوں کے نزدیک عوام اور عوامی طاقت کی کوئی اہمیت ہوتی تو وہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹ لینے پر آپ کو ڈیڑھ منٹ میں گھرکا راستہ دکھاتے؟۔ جناب نواز شریف صاحب کس عوام اور اس کی طاقت کا جتا رہے ہیں ،وہی عوام جس نے 1990 میں مہریں لگا کرووٹوں سے بھرے بیلٹ باکس آپ کے ہاتھوں میں تھما کر آپ کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھایا لیکن آپ نصف مدت بھی پوری نہ کر پائے کہ صدر نے اٹھاون ٹو بی کے وار سے عوامی طاقت کے غبارے سے ہوا نکال دی،عدالت عظمیٰ نے آپ کے حق میں فیصلہ سنایا لیکن پھر بھی تھرڈ امپائر نے انگلی کھڑی کر کے آپ کو آوٹ قرار دے دیا۔ جناب میاں صاحب وہی عوام اور اس کی وہی بھرپور عوامی طاقت کا خمار اب بھی موجود ہے جس کی بدولت آپ دو تہائی اکثریت سے ایوان وزیر اعظم میں داخل ہوتے ہیں، اسی عوامی طاقت کے بل بوتے پراپنی من مانیاں کرتے ہیں لیکن طیارے کا رخ موڑنے کی سازش کا مرتکب قرار دے کر طاقت کے سرچشمے کا رخ بھی موڑ دیا جاتا ہے۔ آواز خلق کی گونج اٹک قلعے کی اونچی دیواروں میں کہیں گم ہو جاتی ہے۔ جناب نواز شریف صاحب کس عوام اور اس کی طاقت آپ کے ذہن سے محو نہیں ہو رہی ، وہی عوام جس نے تیسری بار ووٹ کی طاقت سے آپ کو وفاقی دارلحکومت بھجوایا،اقتدار کا ہما آپ کے سر پر بٹھایا لیکن نقارہ خدا کو اس بار بھی کسی خاطر میں نہیں لایا گیا، پہلے آپ کو بے دست و پا کیا گیا اور اس کے بعد کاری وار سے عوامی طاقت کا کچومر نکال دیا گیا۔ جناب سابق وزیر اعظم صاحب آپ کے لئےجس عوام اور اس کی طاقت کا گھمنڈ اب بھی نہیں ٹوٹا ،اب مان ہی لیں کہ وہ عوام آپ کو منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں میں تو ضرور پہنچا سکتے ہیں لیکن عوام کی طاقت میں اب بھی اتنا دم نہیں ہے کہ آپ بطور منتخب جمہوری وزیر اعظم پانچ سالہ مدت بھی پوری کر سکیں۔ جناب نواز شریف صاحب جی ٹی روڈ سے لاہور سفر کر کے عوامی طاقت کا مظاہرہ ضرور کریں لیکن آپ جس کو بھی یہ طاقت دکھانا چاہتے ہیں اس کے لئے عوام اوراس کی طاقت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔