| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
October 13, 2017 | 12:00 am
قائد اعظم ، 11 اگست 1947ء کی تقریر

Quaid E Azam 11 August 1947 Ki Taqreer

قائد اعظم محمد علی جناح آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے ایک سچے کھرے اور دیانت دار لیڈر تھے۔ اگست 1947ء میں قیام پاکستان سے چند روز قبل کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے آئین اور انتظام مملکت کے چند بنیادی اصول بیان کیے۔
قائد اعظم کی اس تقریر سے پاکستان کے دائیں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان، دانش ور، صحافی اور دیگر اہل قلم اپنے اپنے نظریات اور سیاسی فہم کے مطابق معنی اخذ کرتے ہیں۔ آج کے کالم میںبانی پاکستان کی 11اگست 1947ء کی تقریر کے چیدہ چیدہ نکات اپنے قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ قائد اعظم کے فرمودات کا مطالعہ کیجیے اور خود فیصلہ کرلیجیے کہ بانی پاکستان کے ذہن میں پاکستان کے شہریوں کے لئے کسی سیکولر ریاست کا خاکہ تھا یا کسی مذہبی ریاست کا۔۔۔۔؟ قائد اعظم پاکستان میں مسلمانوں اور سب اقلیتوں کے لئے ایک جمہوری آئین کے ذریعے یکساں حقوق و مراعات اور فرائض کا تعین کر دینا چاہتے تھے۔
قائد اعظم نے کہا تھا۔ اس دستور ساز اسمبلی کو دنیا بھر کیلئے ایک اچھی مثال بنتے ہوئے سب سے پہلے دو فریضے سرانجام دینے ہیں۔ پاکستان کیلئے ایک دستور مرتب کرنا، اور ایک خود مختار ادارے کے طور پر پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کا کردار ادا کرنا۔ایک جمہوری آئین تیار کرنے کیلئے ہمیں اپنی بہترین کوشش کرنا ہو گی۔
پارلیمنٹ کا پہلا فریضہ :یاد رکھیے کہ یہ ایک خود مختار قانون ساز ادارہ ہے اور( آئین و قانون سازی کے لئے) آپ کے پاس مکمل اختیارات ہیں۔ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک حکومت کی سب سے پہلی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے تاکہ ریاست اپنے شہریوں کی جان مال اور ان کے مذہبی عقائد کا مکمل تحفظ کر سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آپ (اراکین اسمبلی) فیصلے کس طرح کرتے ہیں۔۔۔۔؟
ہندوستان میں رشوت ستانی اور بدعنوانی ایک زہر کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمیں ( پاکستان کی اسمبلی اور حکومت کو ) آہنی ہاتھوں سے اس زہر کا قلع قمع کردینا چاہیے۔ دوسری لعنت چور بازاری ہے۔ آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ بلیک مارکیٹنگ کرنے والے باخبر، چالاک اور بظاہر ذمہ دار نظر آنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتہائی سخت سزا ملی چاہیے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی نگرانی اور تقسیم کے نظام کو بگاڑ دیتے ہیں اور عام لوگوں میں فاقہ کشی اور اموات کا سبب بنتے ہیں۔
بہت سی اچھی چیزوں کے ساتھ ساتھ اقربا پروری اور بددیانتی (Nepotism and Jobbery)کی لعنت بھی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ (پاکستان میں) اس برائی کو بھی سختی سے کچلنا ہوگا۔ میں خود اقربا پروری اور احباب نوازی کو برداشت نہیں کروں گا اور اس سلسلے میں کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاؤں گا۔
اس کے بعد قائد اعظم علیہ الرحمۃ نے برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے چند نکات پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بعض لوگ ہندوستان کی تقسیم اور پنجاب اور بنگال کے بٹوارے سے متفق نہیں۔ (ہندوستان کی) تقسیم کے خلاف بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن اب جبکہ (سب فریقوں کی جانب سے) اسے تسلیم کیا جاچکا ہے تو ہم سب کا فرض ہے کہ ہم وفادارانہ طریقوں سے اس کی پابندی کرتے ہوئے آبرومندانہ طریقے سے اس پر عمل درآمد کریں۔ اس خطے میں دو کمیونٹیز کے درمیان موجود جذبات کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ کہیں ایک کمیونٹی اکثریت میں ہے اور دوسری اقلیت میں۔ یہ کہنے کے بعد قائد اعظم نے سوال کیا۔ اس (تقسیم) کے علاوہ کوئی اور صورت قابل عمل تھی۔۔۔۔؟ پھر فرمایا کہ تقسیم تو بہر حال ہونی ہی تھی۔ تاریخ کا فیصلہ یقینََا اس کے حق میں ہوگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تجربات سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ ہندوستان کی آئینی مشکلات کا تقسیم کے سوا کوئی حل نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کا تخیل قابل عمل نہ تھا اور یہ ہمیں خوفناک تباہی کی طرف لے جاتا۔ اس تقسیم میں کسی ایک یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود بھی ناگزیر تھا۔
اب ہمیں کیا کرنا ہے۔۔۔؟ عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال دیکھنے کے لئے ہمیں اپنی ساری توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا ہوگی، بالخصوص عام لوگوں اور غریبوں کی خوشحالی کی طرف۔ اگر آپ ماضی (کی تلخیوں) کو فراموش اور باہمی تنازعات کو نظر انداز کرتے ہوئے کام کریں گے تو کامیابی یقینََا آپ کے قدم چومے گی۔ مل جل کر اس جذبے سے کام کیجئے کہ اس ملک کے ہر شہری کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں۔ قطع نظر اس بات کہ اس کا تعلق کس کمیونٹی سے ہے اور ماضی میں اس کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے تھے۔ اس کا رنگ، نسل اور عقیدہ کیا ہے۔ اس جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اکثریت اور اقلیت، ہندو کمیونٹی، مسلم کمیونٹی، یہ تصورات زائل ہوتے جائیں گے۔ جہاں تک فرقوں کی بات ہے مسلمانوں میں بھی اور ہندوؤں میں بھی کئی کئی فرقے موجود ہیں۔ سچ پوچھیں تو انڈیا کی آزادی میں (عوام کی ) یہ تقسیم بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو ہم پہلے ہی آزاد ہوچکے ہوتے۔
اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں ۔ آپ کا کسی مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق ہو۔ مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل انگلستان کے حالات ہندوستان کے موجودہ حالات سے بھی بدتر تھے۔ وہاں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتیاں کرتے تھے۔ آج بھی دنیا میں ایسے ملک موجود ہیں جہاں کسی خاص طبقے کو امتیازی سلوک اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے سفر کا آغاز اتنے (خراب) حالات میں نہیں ہورہا۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے (قطع نظر مذہب، رنگ ، نسل، زبان) مساوی شہری ہیں۔ انگلستان کے عوام کو طویل وقت تک تلخ حقائق اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب وہاں(سیاسی معنوں میں) نہ رومن کیتھولک ہیں نہ پروٹسٹنٹ ، بلکہ اب وہاں ہر فرد برطانیہ کا ایک یکساں شہری ہے۔ ہمیں اپنا ایک نصب العین بنانا ہوگا ۔ اس کی پابندی کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ (ریاست سے تعلقات کے معاملے میں ) نا ہندو ہندو رہے گا نہ مسلمان مسلمان۔ یہ کہنے کے بعد قائد اعظم نے فرمایا کہ یقینا ًایسا مذہبی طور پر نہیں ہوگا، کیونکہ مذہب (یا عقیدہ) ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، بلکہ ایسی سوچ ریاست کے شہریوں میں سیاسی معنوں میں فروغ پائے گی۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی فکر اور آپ کا (مختصر دور کے لئے ہی سہی )انداز حکمرانی پاکستان کے ہر حکمران، ہر عوامی نمائندے اور ہر ووٹر کے لئے مشعل راہ اور تقلید کا متقاضی ہے۔
عالی قدر مفضل سیف الدین کی پاکستان آمد
داؤدی بوہرہ جماعت کے پیشوا عالی قدر مفضل سیف الدین نے اس سال محرم الحرام کی مجالس سے کراچی میں خطاب کیا۔ ان مجالس میں بیرونِ ملک سے بھی ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اچھے انتظامات اور اعلیٰ ڈسپلن کے مظاہرے پر حضرت مفضل سیف الدین کے پیروکار بوہری برادری کے اراکین خصوصاً بوہرہ کمیونٹی کراچی کے منتظمین کو ہدیہ تحسین۔ حضرت مفضل سیف الدین جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل اور 2015ء سے علی گڑھ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں۔