| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
حفیظ اللہ نیازی
November 15, 2017 | 12:00 am
قافلہ کیوں لٹا ذمہ دار کون؟

Qafla Kiyo Luta

اِدھر اُدھر کی بات کئے بغیر تعین، ناممکن۔ پاناما کیس نظر ثانی اپیل پر نیا ارتعاش، چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کا بیک وقت کسمپرسی اور صبر تحمل کا اظہار، شہباز شریف سے متعلقNROکی گونج بصورت دیگر حدیبیہ کیس،PMLN مائنس نواز شریف، ن لیگ میں نقب زنی بمع فائلیںمقدمات دکھا کر وفاداریوں کی خریدو فروخت، رہی سہی کسرMQM/PSPجوڑ توڑ پھر بھانڈا پھوڑ، اوپر سے امریکی استبداد کے منڈلاتے خطرات، پچھلے ہفتے کا مجموعہ۔
مائی لارڈ! اِدھر کی نہ سہی، اُدھر کی بات کرنے کی اجازت چاہئے کہ سنے بغیر انصاف پامال رہے گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایک آئینی ریاست ہے۔ بمطابق آرٹیکل2 اسلام ریاست کا مذہب جبکہ تمام شہری اپنے مذہب اور عقیدے کی پیروی و تقلید میں مکمل آزاد ہیں۔ آرٹیکل4 ہر شہری کے مال، زندگی، آزادی، عزت، وقار، جائیداد کی لامحدود بمطابق قانون گارنٹی دیتا ہے۔ اداروں کا اتحاد یا جماعتیں بنانا، توڑنا، ملوث رہنا آرٹیکل ( 4) کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ آرٹیکل5 کسی شہری کو کسی کام کے لئے زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا، تاہم ہر پاکستانی کو آئین سے وفاداری کا پابند بناتا ہے۔ آرٹیکل 6آئین کے خلاف ہر سازش، ہر کوشش، ہر بدزبانی کو غداری گردانتا ہے۔ آرٹیکل184(3)کا وجہ وجود، مفاد عامہ چارہ جوئی، بنیادی حقوق کی رکھوالی ہے۔ صدر، وزیر اعظم، پارلیمان، ججز، افواج پاکستان وغیرہ بآواز بلند اپنا نام پکارتے، آئین پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں کہ حلف کے بغیر امور ریاست تفویض نہیں ہوسکتے۔ بطور سمپل آرٹیکل 244کے تحت حلف نامہ ملاحظہ فرمائیں۔ ’’خدا کو حاضر ناظر جان کر قسم اٹھاتا ہوں کہ ریاست پاکستان سے میری وفاداری ایمان کے درجے پر ہو گی اور آئین جو کہ رائے عامہ کی خواہشات اور تمنائوں کی مجسم علامت، کو مضبوطی سے تھاموں گا۔ مزید میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی قسم کے سیاسی کھیل تماشے میں ملوث نہیں رہوں گا‘‘۔
میجر جنرل اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان اور غلام محمد گٹھ جوڑ کا شاخسانہ،26سال تک پاکستان آئینی ریاست نہ بن پایا، ملک دولخت ہو گیا۔ غیر معمولی اتفاق رائے سے1973 کا آئین تشکیل پایا تو چار سال بعد ردی کی ٹوکری میں۔ 5جولائی1977تادمِ تحریر آئین معطل یا اگر ٹوٹی پھوٹی پارلیمانی جمہوریت تو خوفزدہ، ہانپتی کانپتی، متزلزل۔ کیسی آئینی ریاست کہ ہر ادارہ، میڈیا اپنی حدود و قیود تجاوز کرتے، ہچکچا نہیں رہا۔ توضیحات، توجیحات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ عام ہے۔ نئی نئی ترجیحات، تشریحات سامنے، سکہ بند دفعات پس پشت۔ آئین، محض منافقت راسخ کرنے کے لئے زیر استعمال ہے۔ نام نہاد سویلین بالادستی و برتری کا خاتمہ بالخیر ہوا چاہتا ہے۔ حیف! سویلین برتری، بالادستی لمحوں میں ابدی نیندسونے کو۔
مائی لارڈ! ان حالات میں’’اِدھر اُدھر کی بات‘‘ سے صرفِ نظر کیسے ممکن؟ قافلے کے لٹنے کا سبب اور رہزن کا تعین ضروری۔ عظیم قائد کا قافلہ، ریاست پاکستان پڑائو، شہری آزادی، بنیادی حقوق، آئین، قانون مقدر بننا تھا۔ ریاست نے جب بھی ایک قدم آگے بڑھایا، چار قدم پیچھے دھکیل دیا گیا۔ 2014 سے جاری فساد، پاناما کیس پر ختم ہوا۔ پاناما کیس نے پاکستان تبدیل کر دیا۔ فیصلہ میں کئی تکنیکی غلطیاں اور تضادات نے میرٹ متاثر رکھا۔ پاناما کیس نظرثانی اپیل فیصلہ تلخیاں دے گیا۔ غصہ، الجھن، تفکرات بڑھ گئے۔ مزید جسٹس کھوسہ کو حدیبیہ پیپرز ملز بنچ کا سربراہ بنانا، اگلے دن کے اخبارات اداریے سراپا احتجاج تھے۔ بنچ بیٹھا تو جسٹس کھوسہ صاحب خود بھی برہم، ’’رجسٹرار نے میرا فیصلہ پڑھے بغیر بنچ تشکیل دیا‘‘۔ نیا سوال؟ کیا ’’سپریم کورٹ‘‘ اپنے فیصلے پڑھے بغیر، معاملات چلا رہا ہے؟طوفانی افراتفری ریاست کو برائے نام آئینی بنا چکی۔کیسے مان لوں کہ آئین بقائمی ہوش و حواس موجود ہے۔ آئین تو شہری کو آزاد سانس، برابری، فیئر ٹرائل سب کچھ گارنٹی کرتا ہے۔ گھٹن، خوف، وسوسے، تجسس نے ذہن مائوف کر رکھے ہیں۔ جب فیئر ٹرائل نہ ملے، واٹس ایپ کالز کے ذریعے JIT بنے۔ فیصلہ میں غیر ضروری لاحقے جوڑے جائیں کہ جیسے نواز شریف کی تضحیک و توہین مقصود ہو۔ آرٹیکل10(A)پس پشت رہا تو ٹرائل متنازع رہنا تھا۔ ایک ہی قسم کی عدالت، ایک ہی قسم کا مقدمہ، پانامہ کیس میں بارِ ثبوت نواز شریف پر، جبکہ جہانگیر ترین، عمران خان کیس میں بار ثبوت درخواست گزار پر، کیا تاثر جما؟ تنخواہ نہ وصول کرنا جرم بنا، وزیر اعظم نااہل ہوئے۔ کیا فرق پڑا اگر آئینی راستہ مسدود تو بلیک ڈکشنری نے راستہ دکھا دیا۔ سپریم کورٹ کے اسی پیرائے میں دوسرے کیس میں ریمارکس کہ ’’ہر جرم پر سزا نہیں بنتی‘‘۔ 8ماہ درجن بھر متحارب سیاسی جماعتیں عدالت کی ناک کے نیچے لائیو قومی میڈیا پر ایک دوسرے کو گالیاں دیں، اندر چلنے والے کیس پر باہر بحث ہو۔ نتیجتاً، آج دو بڑی سیاسی جماعتیں دو حصوں میں بٹیں، ایک دوسرے پر غضبناک۔ ایک پارٹی ببانگ دہل سپریم کورٹ اور افواجِ پاکستان کی حمایت میں خم ٹھونک چکی جبکہ دوسری پارٹی، مضروب و مظلوم، عوام کے سامنے کیس رکھے حمایت و ہمدردی کی طلب گار جبکہ عوام اداروں پر تقسیم ہو چکے۔ ذمہ دار کون؟ دنیا گھومی، کسی ملک میں اداروں کے اوپر کوئی قوم منقسم نہیں دیکھی۔ یہاں ادارے بے پروا، اپنے اپنے حصے کی سیاسی حمایت میں مستعد و مستغرق، مستفید ہو رہے ہیں۔ اقتدار، اختیارات اور مفادات کی جنگ میں آئین بھسم، جب یہ لاٹھی میری ہے تو ریاست کیوں تمہاری ہے،کا اصول جڑ پکڑ چکا۔
جج صاحب کا لکھا شعر، تاریخی فیصلے کا حصہ، سوشل میڈیا پر اس ’’زمین‘‘ پر روزانہ کی بنیاد پرحق و مخالفت میں نئی نئی تخلیق جاری ہے۔ ’’اِدھر اُدھر‘‘ کی بات اس لئے بھی ضروری کہ ’’اِدھر اُدھر‘‘ ہی نے تو تباہی کے دہانے پہنچایا۔ جب کوئی آدمی ڈوب رہا ہوتا ہے تو اپنے ڈیزائنر سوٹ نہیں بچاتا، جان بچانا واحد اور اولین ترجیح بن جاتی ہے۔ 2014دھرنا اور پاناما کیس کا سبق کچھ اور کہ ڈیزائنر سوٹ بچائیں، آئین و ریاست پھر ڈھونڈ لیں گے۔ ریاست ڈوب رہی ہے، فکر فاقہ کہ نواز شریف کو سیاست سے باہر کیسے رکھا جائے؟ مہرے آگے کیسے لائے جائیں۔MQM/PSPملا کر پاکٹ پارٹی کیسے بنائی جائے۔
نئے اتحاد کیسے تشکیل پائیں۔ دنیا کا کوئی مہذب ملک ہوتا آئین کی حکمرانی رہتی تو ’’راہزنوں‘‘ کو قبروں، کونے کھدروں سے زندہ مردہ نکال کر بمطابق آرٹیکل (6) پھانسی پر لٹکا تے۔ اگر غلام محمد، جنرل اسکند ر مرزا، جنرل ایوب خان، جنر ل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف بشمول جنرل اسلم بیگ، جنرل راحیل شریف وغیرہ وغیرہ کا حساب کتاب ہو جاتا، تو شعر لکھنے کی نوبت نہ آتی۔
عظیم قائد کا قافلہ کیوں لٹا، کیسے لٹا، کون کون ملوث رہا؟ پوری قوم سوالی، جواب چاہئے؟ عدلیہ کے فیصلے بمطابق رہزن کیوں رہے؟ درجنوں دفعہ اس کالم میں،
ہزاروں مرتبہ سینکڑوں دانشور جواب طلب، بلک رہے ہیں، راہزنوں سے عدلیہ نے صرفِ نظر کیوں رکھا؟ 70سالوں پر مٹی ڈالیں، پچھلے تین سالوں سے قافلہ اوپر کیا کیا وارنہ ہوئے؟2014 دھرنے کی تحقیقات کروا لیں، امپائر کا پتہ لیں، قانون کے ہاتھ راہزنوں تک پہنچ جائیں گے۔ 184(3)کے تحت ٹرائل بنتا ہے۔ عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ہی تو184(3) تشکیل پایا۔ کل ہی ایک ٹی وی چینل پر محمد مالک، جواد رانا اور کاشف عباسی کی گفتگو سنی، خواب آور گولیاں کھا کر سویا۔ سب میں اتفاقِ رائے کہ ’’جنرل راحیل شریف نے ’’اپنے عہدے میں توسیع‘‘ کے لئے دھرنا ڈرامہ رچایا، کٹھ پتلیوں کو نچایا‘‘۔ یعنی سابق سپہ سالار اپنے عہدے کی توسیع کے لئے منتخب وزیر اعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور کرتے رہے۔ زبوں حال اقتصادیات کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا گئے۔ بقول گیم چینجر جاوید ہاشمی، ’’عدلیہ نے ممدو معاون رہنا تھا‘‘۔ جاوید ہاشمی پر توہین عدالت لگ جاتی تو ’’اِدھر اُدھر‘‘ کی ساری باتیں منظر عام پر آ جاتیں۔ قافلہ لٹنے کے اسباب معلوم رہتے۔ شک نہیں کہ پاناما کیس، 2014کا تسلسل کہ بعینہٖ وہی اسکرپٹ، جو جاوید ہاشمی نے یکم ستمبر2014کو طشت از بام کیا تھا۔ تکلیف دہ اتنا کہ عمران خان، شیخ رشید، قادری جیسے پٹے مہرے2014طرز پر آج بھی سرگرم ہیں۔ پٹے مہرے عدلیہ اور افواجِ پاکستان کا کیس میڈیا پر جانفشانی سے لڑ رہے ہیں۔ جہاں کٹھ پتلی کرپٹ بے ضمیر سیاستدان، دانشور، اینکر، صحافی مارشل لا کو دعوت دیں، ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ کی ترغیب دیں۔ عسکری قیادت کو ’’مخمل کے ڈنڈے‘‘ سے نواز شریف کی پٹائی پر اکسائیں۔ آئینی ریاست رہتی تو ایسوں کو مخمل اتار کرڈنڈوں سے بیچ چوراہے دھلائی کر کے نشانِ عبرت بننا تھا، آج سینہ پھیلائے میڈیا معززین بن چکے۔ سپریم کورٹ کی مدح سرائی اور پذیرائی میں ہر حد ٹاپ رہے ہیں۔ بقول شیخ رشید ’’نواز شریف نے پاناما کیس کے ہر جج کو 5بلین آفر کئے‘‘۔ شہباز شریف پر الزام کہ بنفس نفیس عمران خان کو 20بلین روپے آفر ہوئے۔ عدالتوں کی ایسی تضحیک، خاطر میں کیوں نہ لائیں؟ اگر شہباز شریف آفر سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے تو بتاتا کہ جہانگیر ترین، علیم خان اور عون چوہدری کا بہتر متبادل تیار کریں، میرے حوالے، عمران خان کو شیشے میں اتار کر شہباز شریف کو طشتری میں پیش کروں گا۔ رہی سہی کسر PSPاورMQM کے جوڑ پھر توڑ ڈرامے نے پوری کر دی۔ بیچ چوراہے بستر کی گندی چادریں دھوئی جا رہی ہیں۔ دونوں فریق، تیسرے فریق پر چادر گندی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ پہلی دفعہ ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے نام پر قومی اخبارات کی شہ سرخیاں لگ رہی ہیں۔ دہائیوں سے عدالتی فیصلے اور بعد ازاں سامنے آنے والے حقائق نے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کو ثابت رکھا مگر اشتہار کبھی نہ لگے۔یہ سب کچھ پچھلے ہفتے کے حالات و معاملات نے ممکن بنایا۔ مودبانہ گزارش بمطابق آرٹیکل 6, 5, 4 اور 244کراچی میں سیاست کے جوڑ توڑ، NA120اور پشاورNA4کے الیکشن، دھرنا 2014 پاناما کیس پیچھے نادیدہ ہاتھ کی تحقیقات کروا ڈالیں۔ 184(3) کاپہلی بار اصل اور صحیح استعمال گیا تو قطعی معلوم ہو گاکہ قافلہ کیوں لٹا ؟
مائی لارڈ! ’’اِدھراُدھر کی بات‘‘ کریں گے تو راہزن پکڑے جائیں گے۔کہاوت، ’’غریب کی جورو، سب کی بھابھی‘‘۔ غریب، مجبور، مفلوک الحال رہبروں سے سوال بنتا نہیں کہ قافلہ کیوں لٹا؟یہ صریحاً زیادتی ہے۔ مضبوط ادارہ سپریم کورٹ، قوم جاننا چاہتی ہے، قافلہ کیوں لٹا؟ پاکستان کیوں ٹوٹا؟