• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جس زمانے میں کچنار کی پھلیاں بلکہ کلیاں، پھول بن رہی ہیں۔ اس زمانے میں شرمندگی کو معافی ناموں میں بدلنے کی داستان کرکٹ ٹیم نے شروع کی ہے۔ مجھے یاد آیاکہ جنرل نیازی نے تو مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالنے پہ قوم سے معافی بھی نہیں مانگی تھی۔ لوگوں نے ان پر اس طرح حملہ نہیں کیا تھا جیسے ائیرپورٹ پر جنید جمشید پر کیا گیا۔ البتہ پاکستان کی لڑکیوں کی کرکٹ ٹیم جتنا جیت سکیں، جیتیں پھر گھر عزت کے ساتھ لوٹ آئیں۔ اسلام آباد میں حالیہ دنوں کیا ہوا؟یہ کہانی آپ سب جانتے ہیں۔ میں تو یہ جانتی ہوں کہ ایک مدت کے بعد برما میں جمہوری حکومت برسر اقتدار آئی تو پارٹی کی سربراہ نے اپنے پرانے رفیق اور ڈرائیور کو صدر بنادیا اور خود وزارت خارجہ اپنے لئے منتخب کی۔ اس میں بھی حیران کن بات نہیں ہے کہ شہباز شریف صاحب نے دس بارہ وزارتیں اپنے ہاتھ میں رکھی ہیں اور وزیر اعظم نے خود کو بھی وزیر خارجہ نہیں کہا۔ آئیے آگے چل کر بتائیں کہ آج کل میں نے کیا پڑھا۔انیس ہارون نے اپنی آپ بیتی لکھتے ہوئے نہ صرف سیاسی منظرنامے کا حوالہ دیا جوکہ بھٹو صاحب کے زمانے سے شروع ہوتا ہے۔ بیگم بھٹو اور بے نظیر سے قربت کی کہانی سنائی۔ اپنے ویمن کمیشن کے زبردستی چیئرپرسن بننے کا واقعہ درج کیا۔ میں نے یہ حوالہ اس لئے دیا کہ گزشتہ چار ماہ سے حکومت کو کوئی چیئرپرسن ہی نہیں مل رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر بار بار اپنے رفیق حیات اور ہمارے دوست ڈاکٹر ہارون سے عشق سے لے کر زندگی میں جتنی بھی قباحتیں اور قیامتیں آئیں، ان کا ذکر پھر ڈاکٹر ہارون کے تعلق سے بیان کیا۔ زندگی کے رشتوں میں انہیں بس فہمیدہ ریاض ہی یاد رہیں کہ جو حیدرآباد کالج میں ان کے ساتھ تھیں۔ کراچی کے سماجی منظرنامے جن میں علی امام سرفہرست آتے ہیں اور نوکری کے اولین دن سے ش۔ فرخ کے ساتھ بیتے ہوئے دن، شاید وہ ایک نئی کتاب میں بیان کریں گی۔ یہ میں یقین کے ساتھ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ لکھنے کی عادت ایک دفعہ پڑ جائے تو قلم بار بار پوچھتا ہے کہ اب نیا کیا ہے۔ ویسے بھی پیچھے مڑ کر دیکھیں تو انیس نے ایم کیو ایم کی خواتین کے بارے میں عرصہ ہوا، ایک کتاب لکھی تھی۔
اب آئیے مظفر علی سید کے مضامین کی جانب جنہیں انتظار حسین اور سائرہ علوی نے مرتب کیا۔ جس دن یہ کتاب طباعت کے بعد آئی۔ اسی دن انتظار حسین دنیا و مافیہا سے بے خبر اسپتال پہنچ چکے تھے۔ مظفر علی سید، انتظار صاحب کے ہم عصر تھے۔ کچھ عرصہ باہر رہے، کچھ عرصہ ائیر فورس میں اور پھر خود کو رہا کروا کے پڑھنے لکھنے میں مصروف ہوگئے۔ فی الحال یہ کتاب ’’سخن اور اہل سخن‘‘ ان کے پرانے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود، ان مضامین سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موضوعات اور مصنفین بھی وہ کہ جن پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ مثلاً اختر الاایمان، مختار صدیقی، راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس، ناصرکاظمی کی پہلی کتاب پہ مضمون ہے، اسی طرح راشد کی ایران میں اجنبی پر مضمون ہے۔ البتہ انتظار حسین سے متعلق دو طویل مضامین ہیں اور میر کی فارسی شاعری پر بھی ایک طویل مضمون ہے۔ دیپاچہ انتظار حسین نے لکھا ہے۔
یہ کتاب علمی اور تنقیدی حوالوں سے بہت اہم ہے۔مظفر علی سید بہت پڑھے لکھے شخص تھے مگر اپنے مضامین کے بارے میں لاپروا۔ یہی عادت صوفی تبسم، مختار صدیقی، مجید امجد اور غلام عباس کی بھی تھی۔ مظفر کے مضامین کو تلاش کرنے کا مشکل کام محبت سے سائرہ علوی نے کیا اور بہت خوب کیا۔ سنگ میل نے شائع کیا۔ انہوں نے بھی بہت خوب شائع کیا۔ کیا ہی اچھا ہوکہ ناصر عباس منیر اور ڈاکٹر نارنگ بھی یہ کتاب پڑھ لیں۔ ہر چند ڈاکٹر صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں مگر ’’چھٹتی کہاں ہے یہ کافر لگی ہوئی‘‘۔
انتظار صاحب کا ذکر چلا ہے تو رخشندہ جلیل کی کتاب جو کہ ’’آگے سمندر ہۓ‘‘ کا ترجمہ ہے، اس کا بھی حوالہ دیدیا جائے انتظار صاحب سے بار بار مشورہ کرنے کے بعد رخشندہ نے اس کمال ترجمے کو پیش کیا ہے اور پانچویں قومیت اور پاکستان پر گفتگو بھی کی۔ میں اسے کیا بتاتی کہ ہم لوگ تو را کے ایجنٹوں کی داستانوں میں مبتلا ہیں۔ ہماری قومی حمیت اجازت ہی نہیں دیتی کہ ہم پاکستانیوں میں سے کسی شخص کو بھی جو ایجنٹوں کے ساتھ کا م کر رہا ہے، ملک کے خلاف کام کرنے والا قرار دے سکیں۔ مجھے چونکہ سیاست آتی نہیں اسلئے یہ موضوع یہیں ختم۔ اب ذکر مبین مرزا کے شعری مجموعے کا جو بہت تقاضوں اور بہت دیر بعد سامنے آیا ہے۔ غزلیں اور نظمیں اکٹھی نہیں ہیں۔ چھ غزلیں پھر چار نظمیں، یہی ترتیب مجھے الجھا دیتی ہے۔ میں اب ساری نظمیں اکٹھی کرکے اور اسی طرح غزلیں مجتمع کرکے پڑھ رہی ہوں۔ لگتا ہے ان کی نظم ’’سب کچھ پل میں بیت گیا‘‘ میرے ساتھ کھڑی ہے۔
تازہ ترین