پاناما سٹی (جنگ نیوز)پاناما کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر ملکی (آف شور) مالیاتی صنعت کو شفاف بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیشن تشکیل دے رہا ہے۔لا کمپنی موساک فونسیکا کی کروڑوں دستاویزات افشا ہونے کے بعد یہ قدم اٹھانے کا اعلان کیاگیا ہے۔ٹیلی وژن پر خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’وزارت داخلہ کی مدد سے پاناما کی حکومت ملکی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیشن تشکیل دے گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ یہ پینل کام کرنے کے طریقہ کار کی جانچ پڑتال کرے گا اور ایسے مشترکہ اقدامات تجویز کرے گا جن کے ذریعے مالیاتی اور قانونی نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جاسکیں۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاناما کے صدر امیر ممالک کے ’میڈیا کے حملوں‘ کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے سرگرم ہیں اور انہوں نے مغربی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاناما کو غیر منصفانہ طور پر بدنام کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب لا کمپنی موساک فونسیکا کا کہنا ہےکہ ان کا ادارہ ہیکنگ کا نشانہ بنا ہے۔کمپنی کے شریک بانی رامون فونسیکا کہنا ہے کہ معلومات کے افشا ہونے میں ’اندرونی ہاتھ‘ نہیں ہے اور کمپنی کو بیرون ملک قائم سرورز کے ذریعے سے ہیک کیاگیا ہے۔کمپنی کی جانب سے پاناما کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں شکایت درج کروا دی گئی ہے۔کمپنی نے ذرائع ابلاغ کے اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’ہماری کمپنی کی نجی دستاویزات اور معلومات تک غیر قانونی رسائی‘ کے ذریعے سے افشا ہونے والی معلومات کی خبریں دے رہے ہیں۔