محسنِ پاکستان، مددِ خدا

October 19, 2021

(گزشتہ سے پیوستہ)

بھٹو صاحب کا جنگی سیاسی ہیرو شپ کو اپنی نئی سیاسی راہ پر کمال کامیابی سے استعمال کرنا ان کی پاپولر پالیٹکس میں تو خوب کیش ہوا ہی، لیکن ان کے وزیر اعظم بن جانے سے ان کی عملی سیاست کا یہ زاویہ دفاع پاکستان کیلئے بڑی کامیاب تاریخ سازی کے کام آیا، اتنا کہ بھٹو صاحب کی یہ سیاسی ضرورت اب عظیم قومی ہدف کے مقابل بالکل ثانوی ہو گئی تھی وہ وزارت خارجہ کا تو وسیع تجربہ رکھتے ہی تھے اس پس منظر کے حوالے سے اپنے واحد سیاسی ہدف ’’ہر حال میں حصولِاقتدار‘‘ پر پاکستان کے نئے بین الاقوامی تعلقات کی بساط ان کے ذہن میں واضح تھی اس میں چین اور تیل پیدا کرنیوالے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک سے خصوصی نوعیت اور بلند درجے کے تعلقات بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ۔ بھٹو چونکہ عوامی احساسات کو سمجھتے اور انہیں بمطابق سیاسی ابلاغ پر ملکہ حاصل تھا، سو بھارت کو للکارتے رہنا اور عوام سے داد پانے کی سیاست وہ مسلسل کرتے رہے ۔ یہ اسی کی لیگسی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی تراش اور برسوں تک اس کی آنکھوں کا تارا رہنے والی ن لیگی قیادت تو عوامی ہو کر بھارت سے دوستی کا دم بھرنے لگی لیکن پی پی نے بھارت سے تعلقات اور مسئلہ کشمیر پر اپنے بانی قائد کی اپروچ کو تبدیل نہیں کیا، وہ محرکات الگ ہیں کہ بھٹو کی پارٹی پنجاب میں اپنا اثر کھو بیٹھی۔ بڑی وجہ ایم آر ڈی کی ناکام تحریک کے بعد اس کا قومی جماعت کے طور پر تشخص سنبھالنے کی بجائے ن لیگی سیاست کے غلبے میں ’’سندھ کارڈ‘‘ پر اکتفاتھا اس کی بجائے اگر پنجاب میں ن لیگ سے اسٹیبلشمنٹ کے لاڈ پیار کے خلاف مزاحمت کرتی تو پارٹی پاور بیس میں اپنا اثر اتنا نہ گنواتی ۔ اس سب کے باوجود بھارت سے تعلقات اور مسئلہ کشمیر پر پی پی کے اقتدار میں آکر بھٹو اپروچ کو جاری و ساری رکھنے نے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح اور جتنی جلدی وزیر اعظم بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی پرخطر اور مشکل ترین لیکن دفاع وطن کے لئے ناگزیر بن جانے والی پیشکش کو اپنے عظیم سیاسی عزم میں تبدیل کر دیا اس کیلئے انہوں نے جو کورڈ عملی اقدامات فوری شروع کئے وہ ان کے سقوط مشرقی پاکستان کے پس منظر میں سخت متنازعہ اور منفی کردار کا بڑا کفارہ تھے۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی سائنسی دیانت اور ان میں دیار غیر کی لیبارٹری میں رہتے ہوئے بھارتی ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کی سلامتی کی فکر اور کچھ بڑا کرنے کی نیت ہی ’’ایٹمی پاکستان‘‘ کی تاریخ کے GENESISکے طور ریکارڈ ہو گئے لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیشکش کو اگر وزیر اعظم بھٹو جتنا اور جیسا رسپانس نہ ملتا تو ایٹمی پاکستان کی بنیاد نہ پڑتی۔اس کیلئے بھٹو جیسا سیاسی لیڈر ہی مطلوب تھا وسیع تر قومی مفادات کے حصول کے کتنے ہی مواقع ہم نے اپنی 74سالہ تاریخ میں حکمرانوں کی کم فہمی اور جرات کے فقدان کے باعث کھو دیئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے کتنے ہی ہیرے و جواہر ہمارے مسلط نظام بد میں دفن ہوگئے ۔یہ بہت پیچیدہ اور تکلیف دہ لیکن سچی داستان ہے کہ بھٹو صاحب اپنی شخصیت کے منفی پہلوئوں اور مطلوب سے متصادم غالب ہوئے سیاسی رویوں کے باعث خود ہی اپنے تراشے سیاسی راستے پر چل کر کرسی سے الگ ،نظری بندی اور پھانسی کے تخت تک پہنچ گئے لیکن پاکستان کے دنیا میں شدت سے متنازعہ اور شدید تنقید کے ہدف ایٹمی پروگرام کو مدد خدا ،پھر بھی اٹل ثابت ہوئی الیکشن 77 کی انتخابی مہم اور پولنگ ڈے پر قومی سطح پر بدترین دھونس دھاندلیوں کا فسطائی حربہ ’’بھٹو پالیٹکس‘‘ کا سب سے بڑا ڈیزاسٹر تھا جو ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوا بھٹو کی حکومت نہ شخصیت ایسی تھی کہ اسے امریکہ اپنی خواہش کے مطابق ختم کر دیتا کہ امریکہ کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والا ایٹمی پروگرام انہوں نے سخت امریکی مخالفت کے باوجود شروع کیا اور جاری رکھا لیکن یہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا تلخ ترین باب ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہی دور میں آئین بنا کر بھی بہت کچھ خلافِ آئین کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سطح پر بدترین انتخابی دھاندلیوں کے خلاف آناًفاناً ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک خالصتاً عوامی تحریک بے حد جاندارتھی، پر لغو ہے کہ یہ امریکہ نے شروع کرائی تھی ہاں جب اس نے زور پکڑ لیا تو اس پر بی سی سی اور امریکی انتظامیہ کی خیر خواہی اور اسے اپنا ٹول بنانے کی سیاست ضرور ایک سیاسی حقیقت تھی ۔ یہ بھی درست ہے کہ ’’سازگار‘‘ صورتحال پر دھمکیاں بھی ملنے لگی تھیں دوبارہ الیکشن کے مطالبے کے خلاف حکومتی مزاحمت اور مذاکرات کرنے میں غیر معمولی تاخیر الگ سے بڑے ڈیزاسٹر تھے ۔مارشل لا لگا ،بھٹو کے ممنون جرنل ضیاالحق چیف مارشل لاءایڈ منسٹریٹر اور پھر اپوزیشن کی سیاسی معاونت سے صدر بھی بن گئے ۔وزیر اعظم بھٹو نے انہیں نیا آرمی چیف بنانے کیلئے آئینی چینل سے بھیجے گئے پانچ ناموں میں سے چنا اور کمانڈر انچیف بنا دیا تھا ۔جرنل ضیاء کا نام پانچویں نمبر پر تھا لیکن قدرت اپنا راستہ شاید خود بنا رہی تھی بھٹو صاحب نے جو کچھ اپنے دور میں آئین و قانون سے متصادم کیا اس کی انتہا الیکشن 77کی ملک گیر منصوبہ بند دھاندلیاں تھیں اس پر ان کا احتساب کوئی سیاسی قوت تو نہ کرسکتی جو جرنل ضیاالحق نے کیا وہ ہماری تاریخ میں متنازعہ ہے لیکن اس کے باوجود بھٹو کے انتخاب برائے چیف آف آرمی اسٹاف نے جس طرح بھٹو کے ایٹمی مشن سے وفا نبھائی وہ بھی ایک بڑی اہم تاریخ ہے۔ (جاری ہے)