پوسٹ ماسٹر جنرل پنجاب نے "آؤ خط لکھیں" تحریک شروع کردی

November 30, 2021

لاہور( واصف ناگی) ایک زمانہ تھا لوگ اپنے پیاروں کے خطوط کا انتظار کیا کرتے تھے۔ خطوط،پوسٹ کارڈ منی آرڈرز اور پارسل وغیرہ کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔

پردیس جانے والے اپنے والدین بہن بھائیوں اور دوستوں کو خطوط لکھا کرتے تھے۔ دوسرے ممالک سے خطوط کئی کئی مہینےبعد آیا کرتے تھے۔ ڈاک خانوں پر رش ہوا کرتا تھا۔ گلیوں اور محلوں میں آمد پرپوسٹ مین آواز لگایا کرتا تھا جس کے لوگ منتظر ہوتے تھے۔

ناخواندہ لوگ پڑھے لکھے لوگوں یا ڈاک خانے کے باہر بیٹھے منشیوں سے خطوط لکھوایا کرتے تھے۔ پرانے شہر میں نوجوان لڑکے اپنی دوستوں کو روڑے پتھر میں خط لکھ کر ایک دوسرے کے گھروں میں پھینکا کرتے تھے ۔کیا زمانہ تھا پھر موبائل فون نے خط لکھنے کی یہ خوبصورت روایت معاشرے سے چھین لی۔ لیکن پرانے لوگ آج بھی اس روایت کو یاد کرتے ہیں۔

پنجاب کے پوسٹ ماسٹر جنرل خواجہ عمران رضا نے سوچا کہ کیوں نہ خط لکھنے کی تحریک شروع کی جائے۔ خط میں انسان اپنے جذبات احساسات جس طرح بیان کر سکتا ہے وہ بعض اوقات زبانی بات کرنے میں ادا نہیں ہوتے۔

بڑے لوگوں کے ہزاروں خطوط محفوظ ہیں ، خطوط کے سیکڑوں مجموعے کتابوں کی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔ صرف علامہ اقبال کے خطوط چار جلدوں میں شائع ہوئے۔ خواجہ عمران رضا نے لاہور کے ایک قدیم تعلیمی ادارے کنئیرڈ کالج سے "آؤ خط لکھیں "تحریک کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا اس تحریک کے پیچھے تین چار اہم عوامل ہیں۔

پاکستان پوسٹ کے امیج کو اجاگر کرنا اور اس کو مزید بہتر بنانا ، اس کی بحالی اور اس کے کاروبار کو فروغ دینا اور ریونیو بڑھانامیری بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

ڈاکٹر خواجہ عمران رضا نے بتایا کہ خطوط اور پارسل تقسیم کے علاوہ بھی محکمہ ڈاک کے بے شمار کام ہیں جس میں بینکنگ پنشن کی تقسیم وغیرہ شامل ہیں۔ خطوط کا استعمال بڑھے گا لوگ ٹکٹ خریدیں گے تو ہمارا ریونیو بڑھے گا اور ادارے کی بہتری ہوگی۔

ایک سوال کے حوالے سے خواجہ عمران رضا نے کہا کہ اگرچہ ہمارے ڈاکخانے کشمیر گلگت اور سکردو تک ہیں، پاکستان پوسٹ کا نظام سب سے بڑا ہے ہم تھر سے لے کر گوادر تک اور برفانی علاقوں میں بھی سروس فراہم کرتے ہیں۔ہم ہر جگہ ہیں اور ہماری سروس بہترین ہے۔

لیکن ڈیجیٹل سسٹم نہ رکھنے کی وجہ سے نجی کمپنیاں کچھ آگے بڑھ گئیں ۔ اب ہم نے ڈیجیٹل فرنچائز پوسٹ آفس کا آغاز کردیا ہے ،نئے فرنچائز پوسٹ آفس بن رہے ہیں جو ڈیجیٹل سسٹم کے تحت کام کر رہے ہیں ۔" آؤ خط لکھیں تحریک " کے ذریعے میں ادبی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینا چاہتا ہوں۔ جب آپ خط لکھتے ہیں ، اپنے جذبات، احساسات و خیالات، اپنی یادیں سب کچھ محفوظ کر لیتے ہیں۔

اس کو بند کرتے ہوئے پھول کی پتی بھی رکھتے ہیں خوشبو لگاتے ہیں ایک پرانی تصویر اندر ڈالتے ہیں اور جب یہ ڈاک کسی کو ملتی ہے تو یہ ایک مستقل یاد ہوتی ہے وہ جب چاہے اس کو دوبارہ دیکھ سکتا ہے ۔

خط کے ذریعہ ہم پیار محبت کے جذبوں کا جیسا اظہار کرتے ہیں وہ کسی اور میڈیم کے ذریعے ممکن نہیں۔ خط لکھنے سے پوسٹ کرنے تک کے تمام طریقہ کار میں ایک خاص قسم کا رومانس ہے جو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

میری والدہ نے مرنے سے پہلے ایک خط لکھا جو میرے پاس محفوظ ہے، جب بھی میں اس خط کو دیکھتا ہوں تو اس میں اپنی والدہ کی یادوں کو دوبارہ سے محسوس کر لیتا ہوں۔

اس خط کے ذریعہ میری والدہ کا سارا پیار امڈ کر میرے سامنے آ جاتا ہے۔ اس خط کے ذریعے میں اپنی والدہ کی تصویر دیکھ لیتا ہوں۔ آج ہم جو میسیج لکھتے ہیں ، میموری ایشو کی وجہ سےاگلے ہی لمحے اس کو ڈیلیٹ کرنا پڑتا ہے ۔

یہ ٹیکنالوجی پر مبنی کمیونیکیشن ہے اور خط جذبات پر مبنی کمیونیکیشن ہے۔ خوشخطی سے تحریر کرنا ایک فنکار کا کام ہے۔ کسی زمانے میں انارکلی میں پین ٹھیک کرنے والے لوگ بیٹھا کرتے تھے ۔ میں نے آؤخط لکھیں تحریک کا آغاز کنئیرڈکالج سے کیا اور وہاں پر طالبات نے میری اس تحریک کو بہت سراہا ۔ کنیئرڈ کالج کی پرنسپل رخسانہ ڈیوڈ نے بھی تحریک کو نہ صرف سراہا بلکہ بہت پسند کیا۔ اور میرے ساتھ چل کر طالبات کو اس حوالے سے لیکچر بھی دیا۔

خط لکھنے کی روایت میری نسل کے لوگوں کی آخری نشانی ہے اگر میں نے یہ روایت آگے منتقل نہ کی تو آنے والی نسل کو خط لکھنے کی روایت اور خوبصورتی کا پتا نہیں لگے گا۔

خواجہ عمران رضا نے کہا کہ خط لکھنے کی خوبصورت روایت کو میں نے اپنی نئی نسل کو بڑی ایمانداری کے ساتھ منتقل کیا ہے۔ کئی فلموں میں ڈاکیا کا کردار بھی دکھایا گیا اور ڈاکیے پر کئی گانے بھی بنے جن میں ڈاکیا ڈاک لایا، چٹھی آئی ہے وغیرہ شامل ہیں ۔ خطوط اپنے دور کی تاریخ بھی ہوتے ہیں۔ مثلا" غالب نے اپنے خطوط میں 1857 کے جو حالات بیان کیے ہیں۔

تاریخ دان ان کو چھوڑ گیا ہے لیکن غالب کے خطوط میں واقعات محفوظ ہیں۔فیض، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد،قائداعظم اور کئی رہنماؤں کے خط اپنے دور کی تاریخ بیان کرتے ہیں ۔ یہ بہت بڑا اثاثہ ہے جو اگر ختم ہوگیا تو ہم ماضی کی تاریخ سے کٹ جائیں گے ۔

فرانز کافکا ایک بہت بڑا ناول نگار تھا۔ اس نے اپنے والد کو 45 صفحات پر مشتمل خط لکھا تھا۔ وہ ایک بہترین دستاویز ہے۔پوسٹ ماسٹر جنرل نے کہا میں نے کنیئرڈ کالج کی طالبات سے وعدہ کیا آئندہ عید سے پہلے لاہور کے ہر پوسٹ آفس میں عید کارڈ ملیں گے۔

اس کے بعد میں نے باہر لاؤنج میں دو پوسٹ آفس بنائے اور بچیوں کو ترغیب دی کہ سب بچیاں اپنے پیاروں کو خطوط لکھیں اور تقریبا تین سو بچیوں نے ایک گھنٹے میں وہیں بیٹھ کر خطوط لکھے ۔ وہیں پر میرا ڈاکیا بھی بیٹھا ہوا تھا اور پوسٹ ماسٹر بھی۔ تو اس طرح سے یہ ایک پوری سرگرمی کروائی گئی۔ میں اس سٹی آف لٹریچر لاہور کو اس کی تمام روایات کے ساتھ زندہ کرنا چاہتا ہوں اس کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔

جی پی او کی بر جی میں ایسا ڈاک خانہ بناؤں گا جہاں لاہور کے معروف شاعروں ادیبوں کو بلا کر چائے اور بسکٹ پیش کیے جائیں گے۔

اسی طرح پوسٹ ماسٹر جنرل آفس میں بھی ایک برجی بناؤں گا جس میں شاعروں اور ادیبوں کو بلاؤں گا۔ اس کے علاوہ میں ڈاک خانے کی پرانی گاڑی کو RESTORE کروں گا ۔