پراپرٹی ویلیو میں اضافہ

December 07, 2021

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس رئیل اسٹیٹ کو معیشت کا باقاعدہ حصہ بنانے کی غرض سے صنعت کا درجہ دینے اور اس کی ترقی کیلئے متعدد مراعات کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے اب تک براہِ راست اور بالواسطہ طور پر تعمیراتی شعبے میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے یہاں تک کہ لوگوں نے نقصان میں جانے والے منصوبوں سے سرمایہ نکال کر تعمیراتی صنعت میں لگایا اور اس وقت ملک کے طول و عرض میں بےشمار ہائوسنگ اسکیمیں اور کمرشل و رہائشی تعمیرات ہو رہی ہیں۔ مزید برآں تعمیراتی سامان سے متعلق صنعتوں میں بہتری دکھائی دے رہی ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک سابق ممبر نے ایف بی آر کے غیرمنقولہ پراپرٹی کی ویلیو سے متعلق فیصلے کو فاش غلطی قرار دیا ہے جس کے تحت بعض علاقوں میں 35سے 700فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سابق ممبر ٹیکس پالیسی کے مطابق اس اقدام سے ملک میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی اور معیشت پر اس کے منفی اثرات رونما ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی ویلیو کو زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ فیصد بڑھایا جانا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رئیل اسٹیٹ کی صنعتی عمل میں باقاعدہ شمولیت سے جہاں سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے وہیں ملک کا زرعی رقبہ تیزی سے ہائوسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے کثیر الرقبہ کی بجائے کثیرالمنزلہ عمارات کی تعمیرات پر زور دیتے ہیں۔ ایف بی آر کا متذکرہ اقدام بھی بڑے شہروں میں لوگوں کی نقل مکانی محدود رکھتا دکھائی دیتا ہے تاہم ضروری ہو گا کہ لوگوں کے روزگار اور صنعتی عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998